عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ كُلِّهِنَّ إِلَّا فِي الْوِتْرِ، وَكَانَ إِذَا حَارَبَ يَقْنُتُ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهِنَّ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ وَلَا قَنَتَ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ وَلَا عُثْمَانُ حَتَّى مَاتُوا، وَلَا قَنَتَ عَلِيٌّ حَتَّى حَارَبَ أَهْلَ الشَّامِ وَكَانَ يَقْنُتُ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهِنَّ وَكَانَ مُعَاوِيَةُ يَدْعُو عَلَيْهِ أَيْضًا يَدْعُو كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى الْآخَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ شَيْءٌ مُدْرَجٌ عَنْ غَيْرِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِيَقِينٍ هُوَ قُنُوتُ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ فِي حَالِ حَرْبِهِمَا فَإِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ مَاتَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ صَدُوقٌ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَعْمَى وَاخْتَلَطَ عَلَيْهِ حَدِيثُهُ وَكَانَ يُلَقَّنُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نمازوں میں سے کسی میں بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی صرف آپ وتر میں اسے پڑھتے تھے جب آپ جنگ میں حصہ لیتے تھے تو تمام نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں آپ مشرکین کے خلاف دعائے ضرر کرتے تھے ( سیدنا عبداللہ بیان کرتے ہیں ) سیدنا ابوبکر نے سیدنا عمر نے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مرتے دم تک قنوت نازلہ نہیں پڑھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی قنوت نازلہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ جب انہوں نے اہل شام کے ساتھ جنگ کی تو وہ تمام نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھا کرتے تھے جب کہ سیدنا معاویہ ان کے خلاف دعا کیا کرتے تھے ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے خلاف دعا کرتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس میں کچھ حصہ درج کیا گیا ہے ، جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بجائے کسی اور کا ہے ، اور یہ بات یقینی ہے وہ حصہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ کا جنگ کے دوران قنوت نازلہ پڑھنے سے متعلق حصہ ہے کیونکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہو گیا تھا اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر یمامی ہے ، اور وہ صدوق ہے ، تاہم وہ نابینا تھا اور اس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا شکار بنتی تھی اور اسے تلقین کی جاتی تھی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2819
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَهْرًا يَدْعُو عَلَى عُصَيَّةَ وَذَكْوَانَ ، فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهِمْ تَرَكَ الْقُنُوتَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الْأَعْوَرُ الْقَصَّابُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھی تھی جس میں آپ عصیہ اور ذکوان قبیلوں کے خلاف دعا کرتے رہے ، جب آپ کو ان پر غلبہ حاصل ہو گیا تو آپ نے قنوت نازلہ پڑھنی ترک کر دی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ اعورقصاب ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2820
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَرَأَيْتُمْ قِيَامَكُمْ عِنْدَ فَرَاغِ الْإِمَامِ مِنَ السُّورَةِ هَذَا الْقُنُوتَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَبِدْعَةٌ مَا فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ شَهْرٍ ثُمَّ تَرَكَهُ أَرَأَيْتُمْ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ فِي الصَّلَاةِ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَبِدْعَةٌ مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَذَا قَطُّ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ مَنْكِبَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَالنَّسَائِيُّ وَوَثَّقَهُ أَيُّوبُ وَابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں : کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ سورت کی تلاوت سے فارغ ہونے کے بعد تمہارا قیام قنوت ہے اللہ کی قسم یہ بدعت ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تھا آپ نے صرف ایک ماہ تک ایسا کیا تھا پھر آپ نے اسے ترک کر دیا تھا کیا تم لوگ یہ سمجھے ہو کہ نماز کے دوران تمہارا ہاتوں کو بلند کرنا ( ٹھیک ہے ) اللہ کی قسم یہ بدعت ہے اللہ کے رسول نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک بلند کیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے ، جسے امام أحمد یحییٰ بن معین ابوزرعہ ابوحاتم اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ایوب اور ابن عدی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2821
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عُمَرَ فَلَمْ يَقْنُتْ فَقُلْتُ : مَا مَنَعَكَ مِنَ الْقُنُوتِ ؟ فَقَالَ : إِنِّي لَا أَحْفَظُهُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومجلز بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر کے پیچھے نماز ادا کی تو انہوں نے قنوت نازلہ نہیں پڑھی میں نے دریافت کیا : کس چیز نے آپ کو قنوت پڑھنے سے روکے رکھا ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے اپنے اصحاب میں سے کسی کے حوالے سے یہ بات یاد نہیں ہے ( کہ وہ ایسا کرتا ہو )
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2822
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، وَإِذَا قَنَتَ فِي الْوِتْرِ قَنَتَ قَبْلَ الرَّكْعَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ صبح کی نماز میں قنوت نازلہ نہیں پڑھتے تھے ، اور جب وہ وتر میں قنوت پڑھتے تھے تو رکوع میں جانے سے پہلے پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2823
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَقْنُتُ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ إِلَّا فِي الْوِتْرِ قَبْلَ الرَّكْعَةِ . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کسی بھی نماز میں قنوت نازلہ نہیں پڑھتے تھے وہ صرف وتر میں رکوع سے پہلے ( دعائے قنوت پڑھتے تھے ) یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2824
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ حِينَ يَفْرُغُ مِنَ الْقِرَاءَةِ ثُمَّ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقُنُوتِ كَبَّرَ وَرَكَعَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ قرأت سے فارغ ہونے کے بعد تکبیر کہتے تھے ، ( پھر دعائے قنوت پڑھتے تھے ) اور قنوت سے فارغ ہونے کے بعد پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں جاتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2825
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ دَعَا عَلَى قَوْمٍ وَدَعَا لِقَوْمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں آپ کسی قوم کے خلاف دعا کرتے تھے ، اور کسی قوم کے حق میں دعا کرتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2826
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ : فَرَّ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَسَلَمَةُ بْنُ هِشَامٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِيَاشٌ وَسَلَمَةُ مُتَكَفِّلَانِ مُرْتَدِفَانِ عَلَى بَعِيرٍ وَالْوَلِيدُ يَسُوقُ بِهِمَا فَكُلِمَتْ إِصْبَعُ الْوَلِيدِ فَقَالَ : ¤ هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ فَعَلِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخْرَجِهِمْ إِلَيْهِ وَشَأْنِهِمْ قَبْلَ أَنْ نَعْلَمَ فَصَلَّى الصُّبْحَ فَرَكَعَ أَوَّلَ رَكْعَةٍ مِنْهَا فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ دَعَا لَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن ابوبکر بیان کرتے ہیں : سیدنا عیاش بن ابوربیعہ سیدنا سلمہ بن ہشام سیدنا ولید بن ولید بن مغیرہ مشرکین سے فرار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا عیاش اور سیدنا سلمہ اونٹ پر آگے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ، اور سیدنا ولید ان دونوں کو ہانک کر لا رہے تھے ولید کی انگلی زخمی ہو گئی ، تو انہوں نے کہا: ” تم صرف ایک انگلی ہو جو خون آلود ہوئی ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں تمہیں اس چیز کا سامنا کرنا پڑا ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نکل کر اپنی طرف آنے اور ان کے معاملے کا ہم سے پہلے پتہ چل گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی آپ نے پہلی رکعت ادا کی جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو سجدے میں جانے سے پہلے آپ نے ان لوگوں کے لئے دعا کی : ” اے اللہ ! عیاش بن ابوربیعہ کو نجات عطا فرما اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات عطا فرما اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات عطا فرما اے اللہ ! کمزور مومنین کو نجات عطا فرما اے اللہ ! مضر قبیلے پر اپنی سختی مسلط کر دے اور ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی مقرر کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے
یہ روایت مرسل اور صحیح ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2827
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل صحیح، اس کے تمام راوی صحیح کے راوی
وَعَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ : صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَجْرَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَالَ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانًا وَرِعْلًا وَذَكْوَانًا وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا " ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَسْتُ قُلْتُ هَذَا وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَهُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ : فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ إِلَى آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب آپ نے آخری رکعت ( کے رکوع سے ) سر اٹھایا تو یہ دعا کی ” اے اللہ ! الحیان ، رعل ، ذکوان اور عصیہ قبیلے پر لعنت کر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے ، اسلم قبیلے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور غفار قبیلے کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں کی طرف رُخ کیا اور ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں نے ( اپنی طرف سے ) اس طرح نہیں کہا: ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہی ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح“ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ والا حصہ نہیں ہے ” جب آپ نے نماز مکمل کی“ اس کے بعد سے لے کر آخر تک کا حصہ نہیں ہے

یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ ” ثقہ“ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ“ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2828
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «مصنف ابن ابي شيبة كتاب صلاة التطوع والإمامة وابواب متفرقة فى تسمية الرجل فى القنوت حديث 6950 ، مسند احمد بن حنبل مسند المدنيين حديث خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري 16276 ، المعجم الكبير للطبراني باب الخاء ، باب من اسمه خزيمة خفاف بن إيماء بن رحضة الغفارى وهو خفاف بن إيماء بن 4059»
وَعَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ كَانَ لَا يُصَلِّي صَلَاةً مَكْتُوبَةً إِلَّا قَنَتَ فِيهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی فرض نماز ادا کرتے تھے اس میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2829
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا أَقْنُتُ لِتَدْعُوا رَبَّكُمْ وَتَسْأَلُوهُ حَوَائِجَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں قنوت نازلہ اس لئے پڑھتا ہوں تاکہ تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا مانگو اور اس سے اپنی ضروریات کا سوال کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2830
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ يَرَوِهِ عَنْ عَلْقَمَةَ إِلَّا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں یہ کہا: کرتے تھے : اے اللہ ! جنہیں تو نے ہدایت نصیب کی ہے ان میں مجھے بھی ہدایت عطا فرما جنہیں تو نے عافیت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی عافیت عطا فرما جن کا تو نگران بنا ہے ان کے ساتھ میرا بھی نگران بن جا تو نے جو کچھ عطا کیا ہے ، اس کے بارے میں میرے لئے برکت رکھ دے اور تو نے جو فیصلہ کیا ہے ، اس کے شر سے مجھے بچا لے کیونکہ تو فیصلہ دیتا ہے ، اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں دیا جاتا اور جس کا تو نگہبان بن جائے وہ ذلیل نہیں ہوتا اے ہمارے پروردگار تو برکت والا ہے ، اور بلند و برتر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : علقمہ کے حوالے سے اس روایت کو صرف ابوحفص عمر نامی راوی نے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2831
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن عبدالرحمن ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2832
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ وَيَجْعَلُ الْقُنُوتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ التِّرْمِذِيُّ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِثِقَةٍ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ وَفِيهِ الْقُنُوتُ فِي مَنَاقِبِ خَدِيجَةَ أَوْ عَلِيٍّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْأَدْعِيَةِ فِي دُعَاءِ الْمَرْءِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعات وتر ادا کرتے تھے ، اور دعاء قنوت وتر سے پہلے پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سہل بن عباس ترمذی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ ” ثقہ “ نہیں ہے علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آگے آئے گی ، جس میں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ جس میں قنوت کا ذکر کیا گیا ہے وہ حدیث سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا یا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث دعاؤں سے متعلق باب میں آئے گی جو اس باب میں آئے گی کہ آدمی کو اپنے بھائی کے لئے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرنی چاہیے اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2833
درجۂ حدیث محدثین: إسناده یہ
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَنَتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَ الرُّكُوعِ قَالَ : فَسَمِعْتُهُ يَدْعُو فِي قُنُوتِهِ عَلَى الْكَفَرَةِ قَالَ : وَسَمِعَتُهُ يَقُولُ : "وَاجْعَلْ قُلُوبَهُمْ كَقُلُوبِ نِسَاءٍ كَوَافِرَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ حَنْظَلَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ السَّدُوسَيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَجَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی تھی راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قنوت نازلہ میں کافروں کے خلاف دعا کرتے ہوئے سنا میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” اے اللہ ! ان کے دلوں کو کافر عورتوں کے دلوں کی طرح کر دے “ ۔
یہ روایت ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حنظلہ بن عبیداللہ سدوسی ہے ، جسے امام أحمد ابن مدینی اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2834
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہونے تک مسلسل فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھتے رہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2835
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَنَتَ حَتَّى مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ وَعُمَرُ حَتَّى مَاتَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قنوت نازلہ پڑھتے رہے ، یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا سیدنا ابوبکر بھی مرتے دم تک پڑھتے رہے سیدنا عمر بھی مرتے دم تک پڑھتے رہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2836
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا لَعَنَ الْمُشْرِكِينَ فِي الصَّلَاةِ يَبْدَأُ بِقُرَيْشٍ ثُمَّ يُتْبِعُهُمْ قَبَائِلَ كَثِيرَةً مِنَ الْعَرَبِ فَقِيلَ لَهُ : الْعَنْ كُفَّارَ قُرَيْشٍ فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَلْعَنَ قَبِيلَةً : " اللَّهُمَّ الْعَنْ كُفَّارَ بَنِي فُلَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران جب مشرکین پر لعنت کرتے تھے تو سب سے پہلے قریش کا ذکر کرتے تھے پھر اس کے بعد عربوں کے بہت سے قبائل کا ذکر کرتے تھے آپ سے کہا: گیا آپ کفار قریش پر لعنت کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنا شروع کیا کہ جب آپ کسی قبیلے پر لعنت کرنے کا ارادہ کرتے تھے تو یہ کہتے تھے اے اللہ ! بنوفلاں کے کفار پر لعنت کر دے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2837
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف