حدیث نمبر: 2819
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ كُلِّهِنَّ إِلَّا فِي الْوِتْرِ، وَكَانَ إِذَا حَارَبَ يَقْنُتُ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهِنَّ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ وَلَا قَنَتَ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ وَلَا عُثْمَانُ حَتَّى مَاتُوا، وَلَا قَنَتَ عَلِيٌّ حَتَّى حَارَبَ أَهْلَ الشَّامِ وَكَانَ يَقْنُتُ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهِنَّ وَكَانَ مُعَاوِيَةُ يَدْعُو عَلَيْهِ أَيْضًا يَدْعُو كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى الْآخَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ شَيْءٌ مُدْرَجٌ عَنْ غَيْرِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِيَقِينٍ هُوَ قُنُوتُ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ فِي حَالِ حَرْبِهِمَا فَإِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ مَاتَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ صَدُوقٌ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَعْمَى وَاخْتَلَطَ عَلَيْهِ حَدِيثُهُ وَكَانَ يُلَقَّنُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نمازوں میں سے کسی میں بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی صرف آپ وتر میں اسے پڑھتے تھے جب آپ جنگ میں حصہ لیتے تھے تو تمام نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں آپ مشرکین کے خلاف دعائے ضرر کرتے تھے ( سیدنا عبداللہ بیان کرتے ہیں ) سیدنا ابوبکر نے سیدنا عمر نے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مرتے دم تک قنوت نازلہ نہیں پڑھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی قنوت نازلہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ جب انہوں نے اہل شام کے ساتھ جنگ کی تو وہ تمام نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھا کرتے تھے جب کہ سیدنا معاویہ ان کے خلاف دعا کیا کرتے تھے ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے خلاف دعا کرتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس میں کچھ حصہ درج کیا گیا ہے ، جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بجائے کسی اور کا ہے ، اور یہ بات یقینی ہے وہ حصہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ کا جنگ کے دوران قنوت نازلہ پڑھنے سے متعلق حصہ ہے کیونکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہو گیا تھا اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر یمامی ہے ، اور وہ صدوق ہے ، تاہم وہ نابینا تھا اور اس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا شکار بنتی تھی اور اسے تلقین کی جاتی تھی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2819
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف