وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ يَرَوِهِ عَنْ عَلْقَمَةَ إِلَّا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں یہ کہا: کرتے تھے : اے اللہ ! جنہیں تو نے ہدایت نصیب کی ہے ان میں مجھے بھی ہدایت عطا فرما جنہیں تو نے عافیت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی عافیت عطا فرما جن کا تو نگران بنا ہے ان کے ساتھ میرا بھی نگران بن جا تو نے جو کچھ عطا کیا ہے ، اس کے بارے میں میرے لئے برکت رکھ دے اور تو نے جو فیصلہ کیا ہے ، اس کے شر سے مجھے بچا لے کیونکہ تو فیصلہ دیتا ہے ، اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں دیا جاتا اور جس کا تو نگہبان بن جائے وہ ذلیل نہیں ہوتا اے ہمارے پروردگار تو برکت والا ہے ، اور بلند و برتر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : علقمہ کے حوالے سے اس روایت کو صرف ابوحفص عمر نامی راوی نے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔