وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ وَيَجْعَلُ الْقُنُوتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ التِّرْمِذِيُّ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِثِقَةٍ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ وَفِيهِ الْقُنُوتُ فِي مَنَاقِبِ خَدِيجَةَ أَوْ عَلِيٍّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْأَدْعِيَةِ فِي دُعَاءِ الْمَرْءِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعات وتر ادا کرتے تھے ، اور دعاء قنوت وتر سے پہلے پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سہل بن عباس ترمذی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ ” ثقہ “ نہیں ہے علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آگے آئے گی ، جس میں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ جس میں قنوت کا ذکر کیا گیا ہے وہ حدیث سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا یا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث دعاؤں سے متعلق باب میں آئے گی جو اس باب میں آئے گی کہ آدمی کو اپنے بھائی کے لئے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرنی چاہیے اگر اللہ نے چاہا ۔