کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: تشہد ، جلوس ( یعنی بیٹھنا ) اور اس دوران انگلی کے ذریعے اشارہ کرنا
حدیث نمبر: 2838
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر نے ایک صحابی کا یہ بیان نقل کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد کے کلمات کی تعلیم یوں دیتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2839
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ تَشَهُّدٌ وَتَسْلِيمٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَعَلَى مَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” ہر دو رکعات کے بعد تشہد پڑھا جائے گا رسولوں پر سلام بھیجا جائے گا ، اور ان کی پیروی کرنے والے اللہ کے نیک بندوں پر بھی ( سلام بھیجا جائے گا ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2840
وَعَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَعَدَ اطْمَأَنَّ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ ، كَذَّبَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ وَوَثَّقَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ( تشہد میں ) بیٹھتے تھے تو اپنے بائیں زانوں پر اطمینان کے ساتھ بیٹھتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سنان قزاز ہے ، جسے امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے جھوٹا قرار دیا ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سنان قزاز ہے ، جسے امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے جھوٹا قرار دیا ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2841
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ قَالَ : لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى رَضْفَتَيْنِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ فِي الصَّلَاةِ مُتَرَبِّعًا، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : يَقُولُ : إِذَا كَانَ يُصَلِّي قَائِمًا فَلَا يَجْلِسُ يَتَشَهَّدُ مُتَرَبِّعًا فَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَلْيَتَرَبَّعْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شِهَابٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرماتے ہیں : تم میں سے کوئی ایک شخص دو انگاروں پر بیٹھ جائے یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ وہ نماز کے دوران چار زانوں بیٹھے ۔ امام عبدالرزاق کہتے ہیں : وہ یہ فرماتے ہیں : جب آدمی کھڑا ہو کر نماز ادا کر رہا ہو تو وہ تشہد میں چار زانوں نہ بیٹھے لیکن جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو تو پھر وہ چار زانوں بیٹھ سکتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ہیثم بن شہاب کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ہیثم بن شہاب کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2842
وَعَنْ أَسَامَةَ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاضِعًا يَدَهُ أَرَاهُ عَلَى فَخِذِهِ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ وَلَا أَبَاهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھ کو رکھے ہوئے دیکھا راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : کہ اپنے زانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دیکھا کہ آپ اپنی انگلی کے ذریعے اشارہ کر رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں غیلان بن عبداللہ کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا اسماء بن حارثہ سے نقل کی ہے میں نے کسی کو اس راوی اور اس کے والد کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں غیلان بن عبداللہ کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا اسماء بن حارثہ سے نقل کی ہے میں نے کسی کو اس راوی اور اس کے والد کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 2843
وَعَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ : يَسْحَرُ بِهَا وَكَذَبُوا وَلَكِنَّهُ التَّوْحِيدُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مُطَوَّلًا وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي صِفَةِ الصَّلَاةِ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ كَمَا تَرَاهُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے آخر میں بیٹھتے تھے تو شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے مشرکین یہ کہا: کرتے تھے : وہ اس کے ذریعے جادو کر رہے ہیں حالانکہ مشرکین جھوٹ بولتے تھے یہ وحدانیت کا اعتراف ہوتا تھا
یہ روایت امام أحمد نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے یہ اس سے پہلے نماز کے طریقے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں اس طرح نقل کیا ہے ، جس طرح آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے یہ اس سے پہلے نماز کے طریقے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں اس طرح نقل کیا ہے ، جس طرح آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2844
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : كَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا دَخَلُوا مَكَّةَ قَالُوا لِآلِهَتِهِمْ : حُيِّيتُمْ وَطِبْتُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ : " قُلِ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ فَائِدٌ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مشرکین جب مکہ میں داخل ہوتے تھے تو اپنے بتوں کو یہ کہتے تھے کہ تم پر سلام ہو اور تم ٹھیک رہو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ نازل کیا تم یہ پڑھو : ” ہر طرح کی جسمانی عبادات اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہیں ، اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 2845
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَهُّدَ عَلَى الْمِنْبَرِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُعَلِّمُ الْغِلْمَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو شَيْبَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو منبر پر تشہد ( کے کلمات ) کی تعلیم دیتے تھے جس طرح کوئی معلم بچوں کو تعلیم دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2846
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ هَكَذَا ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْهُ وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ كَمَا قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں اس طرح کیا کرتے تھے انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات بیان کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابوسعید خزاعی کے حوالے سے سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ابوسعید خزاعی سے منصور بن معتمر کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے جیسا کہ ابن ابوحاتم نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابوسعید خزاعی کے حوالے سے سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ابوسعید خزاعی سے منصور بن معتمر کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے جیسا کہ ابن ابوحاتم نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2847
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَعَا فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ قَالَ بِإِصْبَعِهِ هَكَذَا ، خَفَضَ إِصْبَعَهُ الْخِنْصَرَ وَالَّتِي تَلِيهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ رَاشِدٍ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : کہ آپ نماز کے دوران جب دعا کرتے تھے تو آپ اپنا دایاں ہاتھ اپنے زانوں پر رکھ لیتے تھے ، اور اپنی انگلی کے ذریعے اس طرح اشارہ کرتے تھے انہوں نے اپنی چھوٹی انگلی کو پست رکھا اور اس کے ساتھ والی انگلی کو بھی پست رکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں راشد نامی راوی کے حوالے سے ہی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں راشد نامی راوی کے حوالے سے ہی نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2848
وَعَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا تَشَهُّدَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا تشہد نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 2849
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، وَيَقُولُ : " تَعَلَّمُوا فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِتَشَهُّدٍ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ صُفْدِي بْنُ سِنَانٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِرِجَالٍ مُوَثَّقِينَ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد ( کے کلمات ) کی تعلیم یوں دیتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے آپ یہ ارشاد فرماتے تھے تم لوگ یہ سیکھ لو کیونکہ تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صفدی بن سنان ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، اسے امام بزار نے ایسے رجال کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ جن کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان میں سے بعض کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، لیکن وہ نقصان دہ نہیں ہے اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صفدی بن سنان ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، اسے امام بزار نے ایسے رجال کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ جن کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان میں سے بعض کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، لیکن وہ نقصان دہ نہیں ہے اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 2850
وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا صَلَّى أَشَارَ بِإِصْبَعِهِ وَأَتْبَعَهَا بَصَرَهُ وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَهِيَ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر جب نماز ادا کرتے تھے تو انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے ، اور اپنی نگاہ اس کی طرف رکھتے تھے وہ بیان کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : یہ شیطان کے لئے لوہے سے زیادہ سخت ہے
یہ روایت امام بزار نے اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2851
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَتَشَهَّدُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ : قُلْنَا : تَحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا تَحْفَظُ حُرُوفَ الْقُرْآنِ الْوَاوَاتِ وَالْأَلِفَاتِ إِذَا جَلَسَ عَلَى وِرْكِهِ الْيُسْرَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تشہد پڑھا کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے دریافت کیا : کیا آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے تشہد کے کلمات اسی طرح یاد ہیں جس طرح قرآن پاک کے حروف تمام ” و “ اور ” ا “ کے ساتھ یاد ہیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بائیں پہلو کے بل بیٹھتے تو یہ پڑھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2852
عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ فَيَأْخُذُ عَلَيْنَا الْأَلِفَ وَالْوَاوَ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ زُهَيْرُ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقَاشِيُّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام بزار نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ، اسود بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ نماز کے دوران تشہد کے کلمات کی تعلیم دیا کرتے تھے ، اور الف اور واؤ کا بھی خیال رکھتے تھے امام طبرانی کی سند میں ایک راوی زہیر بن مروان رقاشی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے امام بزار کی سند کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2853
وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ وَالتَّكْبِيرَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس طرح تشہد کی تعلیم دیتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہے ۔
حدیث نمبر: 2854
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا يُسْمِعُ أَحَدًا صَوْتَهُ وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِلَى رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عُمَيْرُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَنَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص مسجد میں ہو ، تو وہ اپنی آواز کسی کو نہ سنائے اور اپنی انگلی کے ذریعے اپنے پروردگار کی طرف اشارہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمیر بن عمران حنفی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمیر بن عمران حنفی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2855
وَعَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ قَالَ : عَلَّمْتُ ابْنَ سِيرِينَ التَّشَهُّدَ حَدَّثْتُهُ بِهِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فَأَخَذَ بِتَشَهُّدِي وَتَرَكَ تَشَهُّدَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
خالد حذاء بیان کرتے ہیں : میں نے ابن سیرین کو تشہد کی تعلیم دی میں نے انہیں ابونضرہ کے حوالے سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث بیان کی تو انہوں نے میری روایت کردہ تشہد کے کلمات کو اختیار کر لیا اور اپنے تشہد کے کلمات کو ترک کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2856
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَّمَهُ : " التَّحِيَّاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ الْمُبَارَكَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَالسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ رِشْدِينَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( تشہد میں یہ کلمات پڑھنے ) کی تعلیم دی تھی : ” ہر طرح کی جسمانی زبانی مالی عبادات جو برکت والی ہوں وہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن رشدین ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن رشدین ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2857
وَعَنِ الْبَهْزِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ تَشَهُّدِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ؟ قَالَ : هُوَ تَشَهُّدُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : فَتَشَهَّدُ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُخَفِّفَ عَلَى أُمَّتِهِ، قُلْتُ : كَيْفَ تَشَهَّدَ عَلِيٌّ بِتَشَهُّدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ الْغَادِيَاتُ الرَّائِحَاتُ الزَّاكِيَاتُ الْمُبَارَكَاتُ الطَّاهِرَاتُ لِلَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : " وَالنَّاعِمَاتُ السَّابِغَاتُ " وَرِجَالُ الْكَبِيرِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
بہزی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے تشہد ( کے کلمات ) کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے جواب دیا : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تشہد ہے میں نے دریافت کیا : تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے تشہد کا کیا ہو گا ، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اپنی امت پر تخفیف کریں میں نے دریافت کیا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشہد کے مطابق تشہد کے کلمات کیسے پڑھتے تھے انہوں نے جواب دیا : ( ان کے تشہد کے کلمات یہ تھے : ) ہر طرح کی جسمانی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ، اور مالی اور پاکیزہ ( عبادت ) جو صبح والی ہو شام والی ہو صاف ستھری ہو برکت والی ہو پاک ہو وہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں : ” نعمت والی ہو پھیلنے والی ہو “ امام طبرانی کی معجم کبیر کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں : ” نعمت والی ہو پھیلنے والی ہو “ امام طبرانی کی معجم کبیر کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2858
وَعَنْ أَبِي الْوَرْدِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ : إِنَّ تَشَهُّدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَتَشَهَّدُ : " بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ خَيْرِ الْأَسْمَاءِ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ الْكَرِيمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي" . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَزَادَ فِيهِ : " وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ " وَقَالَ فِي آخِرِهِ : "هَذَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ" وَمَدَارُهُ عَلَى ابْنِ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
ابودرد بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشہد کے کلمات جو آپ پڑھا کرتے تھے وہ یہ ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ سے مدد حاصل کرتے ہوئے جو سب سے بہترین اسم ہے ہر طرح کی زبانی جسمانی اور مالی عبادت اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں جنہیں اس نے حق کے ہمراہ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے قیامت آنے والی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ہے اے معزز نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے اور تو مجھے ہدایت نصیب فرما “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ایک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے “ ۔ انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں : ” یہ پہلی دو رکعات کے بعد ہو گا “ ۔ اس روایت کا مدار ابن لہیعہ نامی راوی پر ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ایک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے “ ۔ انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں : ” یہ پہلی دو رکعات کے بعد ہو گا “ ۔ اس روایت کا مدار ابن لہیعہ نامی راوی پر ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2859
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَزِيدُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ عَلَى التَّشَهُّدِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ أَبِي الْحُوَيْرِثِ عَنْ عَائِشَةَ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات کے بعد صرف تشہد کے کلمات پڑھتے تھے مزید کچھ نہیں پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ابوحویرث کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے بظاہر یہ لگتا ہے یہ خالد بن حویرث ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ابوحویرث کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے بظاہر یہ لگتا ہے یہ خالد بن حویرث ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2860
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّشَهُّدَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا قَالَ : فَكَانَ يَقُولُ إِذَا جَلَسَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا عَلَى وِرْكِهِ الْيُسْرَى : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " قَالَ : ثُمَّ إِنْ كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ نَهَضَ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ تَشَهُّدِهِ وَإِنْ كَانَ فِي آخِرِهَا دَعَا بَعْدَ تَشَهُّدِهِ بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ ثُمَّ يُسَلِّمُ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نماز کے درمیان میں اور اس کے آخر میں تشہد پڑھنے کی تعلیم دی وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے درمیان میں اور نماز کے آخر میں بائیں زانوں کے بل بیٹھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : ” ہر طرح کی جسمانی زبانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ ۔ وہ بیان کرتے ہیں : پھر اگر آپ نماز کے درمیان میں ہوتے تھے تو تشہد پڑھنے کے بعد اٹھ جاتے تھے ، اور اگر نماز کے آخر میں ہوتے تھے تو تشہد کے بعد جو اللہ کو منظور ہوتا تھا وہ دعا کرتے تھے ، اور پھر سلام پھیرا کرتے تھے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اس کی بہ نسبت اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اسے امام أحمد نے نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں اس کی بہ نسبت اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اسے امام أحمد نے نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2861
قَالَ بَعْدَ قَوْلِهِ : وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ : فَإِذَا قَضَيْتَ هَذَا أَوْ قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتَ هَذَا فَقَدَ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَبَيَّنَ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ قَوْلِهِ : فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْ هَذَا فَقَدَ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ ، كَذَلِكَ لَفْظُهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، جس میں ان الفاظ کے بعد ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ ۔ اس کے بعد انہوں نے یہ کہا: کہ جب تم یہ مکمل کر لو گے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) انہوں نے کہا: جب تم ایسا کر لو گے ، تو تم اپنی نماز کو مکمل کر لو گے پھر اگر تم اٹھنا چاہو تو اٹھ جاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ کلمات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہیں ۔ ” جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ گے ، تو تم اپنی نماز مکمل کر لو گے “ ۔ امام طبرانی نے روایت کے یہ الفاظ اسی طرح نقل کیے ہیں ، امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ کلمات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہیں ۔ ” جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ گے ، تو تم اپنی نماز مکمل کر لو گے “ ۔ امام طبرانی نے روایت کے یہ الفاظ اسی طرح نقل کیے ہیں ، امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2862
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أُخْبِرُكَ عَنْ هَدْيِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَوْلِهِ فِي الصَّلَاةِ وَفِعْلِهِ وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ كَانَ يُعَلِّمُنَا كَيْفَ نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ حِينَ نَقْعُدُ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تَسْأَلُ مَا بَدَا لَكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَتَرْغَبُ إِلَيْهِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَمَغْفِرَتِهِ كَلِمَاتٍ يَسِيرَةٍ وَلَا تُطِيلُ بِهَا الْقُعُودَ" ، وَكَانَ يَقُولُ : أُحِبُّ أَنْ تَكُونَ مَسْأَلَتُكُمُ اللَّهَ حِينَ يَقْعُدُ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ وَيَقْضِي التَّحِيَّةَ أَنْ يَقُولَ بَعْدَ ذَلِكَ : سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَصْلِحْ لِي عَمَلِي إِنَّكَ تَغْفِرُ الذُّنُوبَ لِمَنْ تَشَاءُ وَأَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، يَا غَفَّارُ اغْفِرْ لِي يَا تَوَّابُ تُبْ عَلَيَّ ، يَا رَحْمَنُ ارْحَمْنِي ، يَا عَفُوُّ اعْفُ عَنِّي ، يَا رَءُوفُ ارْؤُفْ بِي ، يَا رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَطَوِّقْنِي حُسْنَ عِبَادَتِكَ ، يَا رَبِّ أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ، يَا رَبِّ افْتَحْ لِي بِخَيْرٍ وَاخْتِمْ لِي بِخَيْرٍ وَآتِنِي شَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ مِنْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، وَقِنِي السَّيِّئَاتِ وَمَنْ تَقِي السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ، ثُمَّ مَا كَانَ مِنْ دُعَائِكُمْ فَلْيَكُنْ فِي تَضَرُّعٍ وَإِخْلَاصٍ فَإِنَّهُ يُحِبُّ تَضَرُّعَ عَبْدِهِ إِلَيْهِ " . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي صَلَاةِ النَّافِلَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن ابوکثیر بیان کرتے ہیں : ابوعبیداللہ بن عبداللہ نے مجھے خط لکھا اما بعد میں تمہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طریقے اور نماز میں ان کے قول اور ان کے فعل کے بارے میں بتانے لگا ہوں وہ یہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جامع کلمات عطا کیے گئے تھے آپ ہمیں اس بات کی تعلیم دیتے تھے کہ نماز کے دوران جب ہم بیٹھ جائیں تو ہمیں کیا پڑھنا چاہیے ( وہ کلمات یہ ہیں : ) ہر طرح کی جسمانی زبانی اور مالی عبادات اللہ تعالٰی کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ ۔ پھر اس کے بعد جو تمہیں مناسب لگے تم وہ مانگو اور اس کی رحمت اور مغفرت کی طرف مختصر کلمات کے ذریعے رغبت کا اظہار کرو تم زیادہ طویل نہ بیٹھو وہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ جب تم میں سے کوئی ایک شخص نماز کے دوران بیٹھا ہوا ہو تو تم اللہ تعالی سے مانگو اور اس کے بعد وہ تحیت کو پورا کرے اور یہ پڑھے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو میرے گناہوں کی مغفرت کر دے میرے عمل کو ٹھیک کر دے بے شک تو جس کی چاہتا ہے ، اس کے گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، تو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے اسے بہت زیادہ مغفرت کرنے والے ، تو میری مغفرت کر دے اے بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والے ، تو میری توبہ قبول فرما لے اے انتہائی مہربان تو مجھ پر رحم کر اے معاف کرنے والے ، تو مجھ سے درگزر فرما اے مہربان تو مجھ پر مہربانی کر اے میرے پروردگارا ! تو مجھے یہ توفیق عطا کر کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو نعمت تو نے مجھ پر کی ہے ، تو مجھے اچھی طریقے سے اپنی عبادت کے راستے پر چلا : اے میرے پروردگار ! میں تجھ سے ہر قسم کی بھلائی مانگتا ہوں ، اور ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اے میرے پروردگار ! میرے لئے بھلائی کو کھول دے اور میرا خاتمہ بھلائی کے ذریعے کرنا اور مجھے اپنی بارگاہ میں حاضری کا شوق نصیب فرما جو کسی نقصان پہنچانے والے نقصان اور کسی گمراہ کرنے والی آزمائش کے بغیر ہو اور مجھے برائیوں سے بچا کے رکھنا جسے تو برائیوں سے بچا لے گا اس پر تو رحم کرے گا ، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے “ ۔ اس کے بعد تم جو بھی دعا مانگو اس میں آہ وزاری اور اخلاص ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں اپنے بندے کی آہ وزاری کو پسند کرتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت مکمل روایت کے طور پر آگے چل کر نفل نماز کے متعلق باب میں آئے گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2863
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ بَعْدَ "السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " : السَّلَامُ عَلَيْنَا مِنْ رَبِّنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ السلام عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ پڑھنے کے بعد یہ پڑھتے تھے : السَّلَام عَلَيْنَا مِن رَبِّنَا ( یعنی ہمارے پروردگار کی طرف سے ہم پر سلامتی نازل ہو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2864
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ التَّشَهُّدِ فِي الْفَرِيضَةِ : " اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْنَا مِنْهُ وَمَا لَمْ نَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْنَا مِنْهُ وَمَا لَمْ نَعْلَمْ ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مَا سَأَلَكَ عِبَادُكَ الصَّالِحُونَ وَنَسْتَعِيذُ بِكَ مِمَّا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عِبَادُكَ الصَّالِحُونَ ، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ، رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرَ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ، رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ هَكَذَا وَفِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فرض نماز میں تشہد کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے : ” اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے ہر قسم کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں خواہ وہ جلدی ہو یا تاخیر سے ہو ہمیں اس کا علم ہو یا ہمیں اس کا علم نہ ہو اور ہم ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں خواہ وہ جلدی ہو یا تاخیر سے ہو خواہ ہمیں اس کا علم ہو یا علم نہ ہو اے اللہ ! ہم تجھ سے ہر اس چیز کا سوال کرتے ہیں جو چیز تیرے نیک بندوں نے تجھ سے مانگی ہے ، اور تجھ سے ہر اس چیز کی پناہ مانگتے ہیں جس چیز سے تیرے نیک بندوں نے تجھ سے پناہ مانگی ہو اے ہمارے پروردگار تو ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہمارے گناہوں کی مغفرت کر دے ہماری برائیاں ہم سے دور کر دے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت نصیب فرمانا اے ہمارے پروردگار تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ ہمیں عطا کرنا اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی کا شکار نہ کرنا بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا شاید سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یا شاید راوی کہتے ہیں ) اس کے بعد آدمی دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیر دے گا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2865
وَعَنْ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ : سَأَلْتُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ التَّشَهُّدِ فَقَالَ : أُعَلِّمُكَ كَمَا عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّشَهُّدَ حَرْفًا حَرْفًا : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الدَّارِسِيُّ ، كَذَّبَهُ الْأَزْدِيُّ وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
ابوراشد بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا سلمان فارسی سے تشہد کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں اس کی تعلیم اسی طرح دوں گا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے کلمات کی تعلیم دی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد کے ایک ایک حرف کی تعلیم دی تھی ( اس کے کلمات یہ ہیں : ) ” ہر طرح کی جسمانی زبانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عبیداللہ دارسی ہے ، جسے ازدی نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عبیداللہ دارسی ہے ، جسے ازدی نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2866
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْ قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَلَمَّا صَلَّى ضَرَبَ بِيَدِهِ فَخِذِي فَقَالَ : أَلَا أُعَلِّمُكَ تَحِيَّةَ الصَّلَاةِ كَمَا كَانَ يُعَلِّمُنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَتَلَا هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : " التَّحِيَّاتُ وَالصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : " وَبَرَكَاتُهُ " . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن بابی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر کے پہلو میں نماز ادا کی جب انہوں نے نماز ادا کر لی تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے زانوں پر مارا اور بولے : کیا میں تمہیں نماز کی تحیت کی تعلیم نہ دوں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کی تعلیم دی تھی ؟ پھر انہوں نے یہ کلمات پڑھ کر سنائے ۔ ” ہر طرح کی جسمانی زبانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے : ” اور اس کی برکتیں“ ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے : ” اور اس کی برکتیں“ ۔
حدیث نمبر: 2867
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : " أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ حَقٌّ وَلِقَاءَهُ حَقٌّ وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ جَهَنَّمَ " قَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ : فَكَأَنَّهُ يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے ، اس کی بارگاہ میں حاضری حق ہے جنت حق ہے جہنم حق ہے اے اللہ ! میں دجال کی آزمائش سے اور زندگی ، اور موت کی آزمائش سے قبر کے عذاب سے اور جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں“ ۔ ابوخیثمہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : یوں لگتا ہے کہ شاید انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔