وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَرَأَيْتُمْ قِيَامَكُمْ عِنْدَ فَرَاغِ الْإِمَامِ مِنَ السُّورَةِ هَذَا الْقُنُوتَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَبِدْعَةٌ مَا فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ شَهْرٍ ثُمَّ تَرَكَهُ أَرَأَيْتُمْ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ فِي الصَّلَاةِ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَبِدْعَةٌ مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَذَا قَطُّ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ مَنْكِبَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَالنَّسَائِيُّ وَوَثَّقَهُ أَيُّوبُ وَابْنُ عَدِيٍّ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں : کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ سورت کی تلاوت سے فارغ ہونے کے بعد تمہارا قیام قنوت ہے اللہ کی قسم یہ بدعت ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تھا آپ نے صرف ایک ماہ تک ایسا کیا تھا پھر آپ نے اسے ترک کر دیا تھا کیا تم لوگ یہ سمجھے ہو کہ نماز کے دوران تمہارا ہاتوں کو بلند کرنا ( ٹھیک ہے ) اللہ کی قسم یہ بدعت ہے اللہ کے رسول نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک بلند کیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے ، جسے امام أحمد یحییٰ بن معین ابوزرعہ ابوحاتم اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ایوب اور ابن عدی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔