وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ : فَرَّ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَسَلَمَةُ بْنُ هِشَامٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِيَاشٌ وَسَلَمَةُ مُتَكَفِّلَانِ مُرْتَدِفَانِ عَلَى بَعِيرٍ وَالْوَلِيدُ يَسُوقُ بِهِمَا فَكُلِمَتْ إِصْبَعُ الْوَلِيدِ فَقَالَ : ¤ هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ فَعَلِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخْرَجِهِمْ إِلَيْهِ وَشَأْنِهِمْ قَبْلَ أَنْ نَعْلَمَ فَصَلَّى الصُّبْحَ فَرَكَعَ أَوَّلَ رَكْعَةٍ مِنْهَا فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ دَعَا لَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عبدالملک بن ابوبکر بیان کرتے ہیں : سیدنا عیاش بن ابوربیعہ سیدنا سلمہ بن ہشام سیدنا ولید بن ولید بن مغیرہ مشرکین سے فرار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا عیاش اور سیدنا سلمہ اونٹ پر آگے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ، اور سیدنا ولید ان دونوں کو ہانک کر لا رہے تھے ولید کی انگلی زخمی ہو گئی ، تو انہوں نے کہا: ” تم صرف ایک انگلی ہو جو خون آلود ہوئی ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں تمہیں اس چیز کا سامنا کرنا پڑا ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نکل کر اپنی طرف آنے اور ان کے معاملے کا ہم سے پہلے پتہ چل گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی آپ نے پہلی رکعت ادا کی جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو سجدے میں جانے سے پہلے آپ نے ان لوگوں کے لئے دعا کی : ” اے اللہ ! عیاش بن ابوربیعہ کو نجات عطا فرما اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات عطا فرما اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات عطا فرما اے اللہ ! کمزور مومنین کو نجات عطا فرما اے اللہ ! مضر قبیلے پر اپنی سختی مسلط کر دے اور ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی مقرر کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے
یہ روایت مرسل اور صحیح ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔