وَعَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ : صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَجْرَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَالَ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانًا وَرِعْلًا وَذَكْوَانًا وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا " ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَسْتُ قُلْتُ هَذَا وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَهُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ : فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ إِلَى آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب آپ نے آخری رکعت ( کے رکوع سے ) سر اٹھایا تو یہ دعا کی ” اے اللہ ! الحیان ، رعل ، ذکوان اور عصیہ قبیلے پر لعنت کر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے ، اسلم قبیلے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور غفار قبیلے کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں کی طرف رُخ کیا اور ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں نے ( اپنی طرف سے ) اس طرح نہیں کہا: ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہی ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح“ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ والا حصہ نہیں ہے ” جب آپ نے نماز مکمل کی“ اس کے بعد سے لے کر آخر تک کا حصہ نہیں ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ ” ثقہ“ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ“ ہیں ۔