کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ایک کپڑے میں ، یا اس سے زیادہ کپڑوں میں نماز ادا کرنا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ : "مَا عَلَيْهِ غَيْرُهُ"، وَلَهُ طُرُقٌ عِنْدَهُ وَعِنْدَ مَنْ يَأْتِي ذِكْرُهُ، وَمَعْنَاهَا كُلِّهَا الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز ادا کی ، جسے آپ نے توشیح کے طور پر لپیٹا ہوا تھا اور آپ اضافی کپڑے کے ذریعے زمین کی گرمی یا ٹھنڈک سے بچ رہے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” آپ کے جسم پر اس کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہیں تھا “ ۔ انہوں نے یہ روایت کئی اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے کچھ کا ذکر آگے چل کے آئے گا ان تمام روایات سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ ایک کپڑے میں نماز ادا کی گئی تھی ۔ یہ روایت امام ابو أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” آپ کے جسم پر اس کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہیں تھا “ ۔ انہوں نے یہ روایت کئی اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے کچھ کا ذکر آگے چل کے آئے گا ان تمام روایات سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ ایک کپڑے میں نماز ادا کی گئی تھی ۔ یہ روایت امام ابو أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مَا عَلَيْهِ غَيْرُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ ، ذَكَرَهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عبداللہ بن مغیرہ مخزومی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ کے جسم پر اس کے علاوہ کوئی اور کپڑا نہیں تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس میں یہ ذکر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے کو مخالف سمت میں ڈالا ہوا تھا انہوں نے اس کا ذکر ایک اور روایت میں کیا ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس میں یہ ذکر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے کو مخالف سمت میں ڈالا ہوا تھا انہوں نے اس کا ذکر ایک اور روایت میں کیا ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِي إِحْدَى طُرُقِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَكِنَّهُ قَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ وَهُوَ الْمَعْرُوفُ وَفِي الْأُخْرَى : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ قُتِلَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي السَّنَدِ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ وَقَدْ غَلَّطَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ مُسْلِمَ بْنَ الْحَجَّاجِ فِي كَوْنِهِ ذَكَرَ أَنَّ عُرْوَةَ رَوَى عَنْهُ قَالَ : إِنَّمَا الَّذِي رَوَى عَنْهُ عُرْوَةُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ : وَلَا يَصِحُّ لَهُ عِنْدِي صُحْبَةٌ لِصِغَرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، جسے آپ نے مخالف سمت میں جسم پر ڈالا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے مختلف طرق میں سے ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے بھی اس سند کے حوالے سے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابوامیہ سے منقول ہے ، اور یہی معروف ہے ، جب کہ دوسری سند میں ایک راوی محمد اسحاق ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس نے یہ روایت عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے سیدنا عبداللہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ غزوہ طائف کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حصہ لیتے ہوئے شہید ہو گئے تھے ، سند میں یہ بات مذکور ہے کہ عروہ بن زبیر نے یہ روایت سیدنا عبداللہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے حالانکہ امام ابن عبدالبر نے امام مسلم کی یہ غلطی بیان کی ہے کہ انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ عروہ نے سیدنا عبداللہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ ابن عبدالبر کہتے ہیں : عروہ نے جس سے روایت نقل کی ہے : وہ سیدنا عبداللہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ ہیں ابن عبدالبر کہتے ہیں : میرے نزدیک اُن کا صحابی ہونا مستند طور پر ثابت نہیں ہے کیونکہ وہ کمسن تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے مختلف طرق میں سے ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے بھی اس سند کے حوالے سے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابوامیہ سے منقول ہے ، اور یہی معروف ہے ، جب کہ دوسری سند میں ایک راوی محمد اسحاق ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس نے یہ روایت عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے سیدنا عبداللہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ غزوہ طائف کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حصہ لیتے ہوئے شہید ہو گئے تھے ، سند میں یہ بات مذکور ہے کہ عروہ بن زبیر نے یہ روایت سیدنا عبداللہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے حالانکہ امام ابن عبدالبر نے امام مسلم کی یہ غلطی بیان کی ہے کہ انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ عروہ نے سیدنا عبداللہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ ابن عبدالبر کہتے ہیں : عروہ نے جس سے روایت نقل کی ہے : وہ سیدنا عبداللہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ ہیں ابن عبدالبر کہتے ہیں : میرے نزدیک اُن کا صحابی ہونا مستند طور پر ثابت نہیں ہے کیونکہ وہ کمسن تھے ۔
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : رَأَيْتُ أَبِي يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقُلْتُ : يَا أَبَةِ تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَثِيَابُكَ مَوْضُوعَةٌ ؟ فَقَالَ : يَا بُنَيَّةُ إِنَّ آخِرَ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلْفِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : میں نے اپنے والد کو ایک کپڑے میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے دریافت کیا : اے ابا جان ! کیا آپ ایک کپڑے میں نماز ادا کر رہے ہیں ؟ جب کہ آپ کے دوسرے کپڑے رکھے ہوئے ہیں ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میری بیٹی ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری نماز میرے پیچھے ادا کی تھی وہ ایک کپڑے میں ادا کی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ . ¤ قُلْتُ : لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ہے ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں کنارے مخالف سمت میں ڈالے ہوئے تھے ۔ میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح“ میں یہ حدیث منقول ہے ، جو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : بِتُّ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي وَعَلَيْهِ طَرَفُ لِحَافٍ وَعَلَى عَائِشَةَ طَرَفُهُ وَهِيَ حَائِضٌ لَا تُصَلِّي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں گزاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز ادا کرنے لگے لحاف کا ایک حصہ آپ کے جسم پر تھا اور ایک حصہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے جسم پر تھا جو حیض کی حالت میں تھیں اور نماز ادا نہیں کر رہی تھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اس صحابی نے یہ بات بتائی ہے ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ نے اس کے دونوں کنارے مخالف سمت میں جسم پر ڈالے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ : قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ سُنَّةٌ كُنَّا نَفْعَلُهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ إِذْ كَانَ فِي الثِّيَابِ قِلَّةٌ فَأَمَّا إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ فَالصَّلَاةُ فِي الثَّوْبَيْنِ أَزْكَى . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ مِنْ رِوَايَةِ زِرٍّ عَنْهَا مَوْقُوفًا وَأَبُو نَضْرَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُبَيٍّ وَلَا ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ابونضر و بیان کرتے ہیں : سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک کپڑے میں نماز ادا کرنا سنت ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایسا کیا کرتے تھے ، اور ہم پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا تھا ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایسا اس وقت ہوتا تھا جب کپڑے کم ہوتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے گنجائش عطا کی ہو ، تو دو کپڑوں میں نماز ادا کرنا زیادہ پاکیزہ ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، جوزر نے ان سے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ابونضرہ نامی راوی نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، جوزر نے ان سے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ابونضرہ نامی راوی نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی سماع نہیں کیا ہے ۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ وَاحِدٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ پر ایک کپڑا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِهِ مُتَوَشِّحًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٍ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں ، ایک کپڑے کو توشیح کے طور پر لپیٹ کر ہمیں نماز پڑھائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے ” رجال ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے ” رجال ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ عَمَّارٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ كِلَاهُمَا مِنْ رِوَايَةِ ابْنٍ لِعَمَّارٍ عَنْ عَمَّارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز ادا کی جسے آپ نے توشیح کے طور پر لپیٹا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ان دونوں حضرات نے اسے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ان دونوں حضرات نے اسے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز ادا کی جس کے کنارے آپ نے مخالف سمت میں ڈالے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ مُتَوَكِّئًا عَلَى أُسَامَةَ مُرْتَدِيًا بِثَوْبِ قُطْنٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جس بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، اس کے دوران آپ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ٹیک لگا کر تشریف لائے آپ نے ایک اونی کپڑے کو لپیٹا ہوا تھا آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا - يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَقُلْتُ : يَا أُمَّ حَبِيبَةَ أَيُصَلِّي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، وَهُوَ الثَّوْبُ الَّذِي كَانَ فِيهِ مَا كَانَ - تَعْنِي : الْجِمَاعَ - . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ مُخْتَصَرًا : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر ایک کپڑے میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جس کے کنارے آپ نے مخالف سمت میں ڈالے ہوئے تھے میں نے دریافت کیا : اے ام حبیبہ ! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑے میں نماز ادا کر لیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اور یہ وہی کپڑا ہے ، جس میں آپ عمل بھی کر لیتے ہیں ۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی کہ آپ اس کپڑے میں وظیفہ زوجیت ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے ( جس کے الفاظ یہ ہیں : ) ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے “ ۔ امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے ( جس کے الفاظ یہ ہیں : ) ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے “ ۔ امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي فَوَجَدَ الْقَرَّ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ أَرْخِي عَلَيَّ مِرْطَكِ" قَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ قَالَ : عِلَّةً وَبُخْلًا " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ قُلْتُ : لَهَا عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ بَعْضُهُ عَلَيَّ ، وَلِمُسْلِمٍ : كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَيَّ مِرْطٌ لِي بَعْضُهُ عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے آپ کو ٹھنڈک کا احساس ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اسے عائشہ ! اپنی چادر مجھ پر بھی ڈال دو انہوں نے عرض کی : میں حائضہ ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علت اور بخل تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑے میں نماز ادا کر رہے تھے جس کا کچھ حصہ مجھ پر تھا ۔ امام مسلم نے یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز ادا کر رہے تھے میں آپ کے پہلو میں تھی میں حیض کی حالت میں تھی اور میری چادر کا کچھ حصہ مجھ پر تھا اور کچھ حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑے میں نماز ادا کر رہے تھے جس کا کچھ حصہ مجھ پر تھا ۔ امام مسلم نے یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز ادا کر رہے تھے میں آپ کے پہلو میں تھی میں حیض کی حالت میں تھی اور میری چادر کا کچھ حصہ مجھ پر تھا اور کچھ حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ فَأَدَارَنِي حَتَّى جَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑے میں نماز ادا کر رہے تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھما کے اپنی دائیں طرف کر دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يُصَلِّي وَقَدْ سَدَلَ ثَوْبَهُ فَدَنَا مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَطَفَ عَلَيْهِ ثَوْبَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَالْبَزَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جس نے اپنے کپڑے کو سدل کے طور پر لٹکایا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب آئے اور آپ نے وہ اس پر لپیٹ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ، اور یہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ، اور یہ ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا فَلَمْ يَنَلْ طَرَفَاهُ فَعَقَدَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے کو توشیح کے طور پر لپیٹ کر ہمیں نماز پڑھائی اس کے دونوں کنارے نہیں پہنچ رہے تھے تو آپ نے انہیں باندھ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا شخص بھی ہے ، جس کے حالات سے میں واقف نہیں ہو سکا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا شخص بھی ہے ، جس کے حالات سے میں واقف نہیں ہو سکا ۔
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَاضِنِ عَائِشَةَ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَائِشَةَ يُصَلِّيَانِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ نِصْفُهُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنِصْفُهُ عَلَى عَائِشَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ أَبُو نُعَيْمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبدالرحمن جو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پرورش کرنے والے فرد ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ایک کپڑے میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، جس کا نصف حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور نصف حصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ابونعیم ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ابونعیم ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ بِثَوْبِ قُطْنٍ وَفِي يَدِهِ عَنَزَةٌ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَرَكَّزَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک اونی کپڑے کو توشیح کے طور پر لپیٹا ہوا تھا آپ کے دست مبارک میں ایک چھوٹا نیزہ تھا آپ نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی آپ نے وہ نیزہ اپنے آگے گاڑ دیا پھر اس کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي مُحْتَبِيًا مُحَلِّلَ الْأَزْرَارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ احتباء کے طور پر نماز ادا کر رہے تھے ، اور آپ کے بٹن کھلے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّيْتُمْ فَارْفَعُوا سَبَلَكُمْ فَكُلُّ شَيْءٍ أَصَابَ الْأَرْضَ مِنْ سَبَلِكُمْ فَهُوَ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عِيسَى ابْنُ قِرْطَاسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تم لوگ نماز ادا کرو تو اپنے پائنچے اوپر کر لو کیونکہ تمہارے پائنچوں میں سے جو حصہ زمین کے ساتھ لگے گا وہ جہنم میں جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن قرطاس ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن قرطاس ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ : " إِنْ كَانَ وَاسِعًا فَلْيَضُمَّهُ وَإِنَّ عَاجِزًا فَلْيَتَّزِرَ بِهِ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر آدمی کے پاس گنجائش ہو ، تو وہ ساتھ دوسرا کپڑا ملا لے اور اگر وہ عاجز ہو تو وہ اسے تہبند کے طور پر باندھ لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُؤْتَزِرًا بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ مُعَاذٍ وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز ادا کی جسے آپ نے تہبند کے طور پر پہنا ہوا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم میں محمد بن صبیح کے حوالے سے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو اس کا ( یعنی محمد بن صبیح کا ) ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم میں محمد بن صبیح کے حوالے سے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو اس کا ( یعنی محمد بن صبیح کا ) ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : أَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَطِيفَةٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک چادر میں نماز پڑھائی جس کے کنارے آپ نے مخالف سمت میں ڈالے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي رَسُولُ اللَّهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ مُتَمَزِّقٌ لَا يُوَارِينِي فَجَعَلْتُ كُلَّمَا سَجَدْتُ أَمْسَكْتُهُ بِيَدِي مَخَافَةَ أَنْ تَنْكَشِفَ عَوْرَتِي وَخَلْفِي نِسَاءٌ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا لِي بِثَوْبٍ فَكَسَانِيهِ وَقَالَ : "تَدَرَّعْ بِخَلِقِكَ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نماز ادا کر رہے تھے میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑا اور اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا میرے جسم پر ایک کپڑا تھا جو پھٹا ہوا تھا اور وہ میری پردہ پوشی نہیں کر رہا تھا میں جب بھی سجدے میں جاتا تھا تو اپنے ہاتھ کے ذریعے اسے پکڑ لیتا تھا اس اندیشے کے تحت کہ کہیں میری شرم گاہ بے پردہ نہ ہو جائے میرے پیچھے خواتین موجود تھیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے میرے لئے ایک کپڑا منگوایا اور وہ مجھے پہنے کے لئے دیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم اسے اپنے پھٹے ہوئے کپڑے پر قمیص کے طور پر پہن لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى يَوْمًا وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ لَهُ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : " أَعْطِنِي نَمِرَتَكَ وَخُذْ نَمِرَتِي" فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَمِرَتُكُ أَجْوَدُ مِنْ نَمِرَتِي قَالَ : " أَجَلْ وَلَكِنْ فِيهَا خَيْطٌ أَحْمَرُ ، فَخَشِيتُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا فَتَفْتِنَنِي عَنْ صَلَاتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی آپ کے جسم پر چادر موجود تھی آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص سے آپ نے فرمایا : تم اپنی چادر مجھے دے دو اور میری چادر تم لے لو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی چادر میری چادر سے زیادہ عمدہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن اس میں سرخ حاشیہ ہے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر میں نے اس کی طرف دیکھا تو کہیں یہ مجھے نماز کے حوالے سے آزمائش کا شکار نہ کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : رَأَيْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ يَؤُمُّ النَّاسَ فِي الْجَيْشِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ لشکر میں لوگوں کی امامت کر رہے تھے ، اور انہوں نے ایک کپڑا پہنا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ خَالِهِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الشِّتَاءِ فَوَجَدْتُهُمُ يُصَلُّونَ فِي الْبَرَانِسِ وَالْأَكْسِيَةِ وَأَيْدِيِهِمْ فِيهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عاصم بن کلیب نے اپنے والد کے حوالے سے ان کے ماموں کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں سردیوں کے موسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے لوگوں کو پایا کہ انہوں نے ٹوپیاں اور چادریں لی ہوئی تھیں اور ان کے ہاتھ چادروں کے اندر ہی تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَلْبَسْ ثَوْبَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَحَقُّ مَنْ يُزَّيَّنُ لَهُ" . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : "فَإِنَّ اللَّهَ أَحَقُّ مَنْ يُزَيَّنُ لَهُ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص نماز ادا کرے تو وہ دو کپڑے پہن لے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات کا سب سے زیادہ حق دار ہے کہ اس کے لئے آراستہ ہوا جائے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” اللہ تعالی اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کے لئے آراستہ ہوا جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا كَانَ إِزَارُكُ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ وَإِذَا كَانَ وَاسِعًا فَاشْتَمِلْ بِهِ - يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ - " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تمہارا کپڑا تنگ ہو ( یعنی چھوٹا ہو ) تو تم اسے تہبند کے طور پر استعمال کرو اور جب وہ کشادہ ہو ، تو تم اسے اشتمال کے طور پر استعمال کرو ۔ راوی کہتے ہیں : ” یعنی نماز کے دوران ایسا کرو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔