مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَأَكْثَرِ مِنْهُ . باب: ایک کپڑے میں ، یا اس سے زیادہ کپڑوں میں نماز ادا کرنا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ : "مَا عَلَيْهِ غَيْرُهُ"، وَلَهُ طُرُقٌ عِنْدَهُ وَعِنْدَ مَنْ يَأْتِي ذِكْرُهُ، وَمَعْنَاهَا كُلِّهَا الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز ادا کی ، جسے آپ نے توشیح کے طور پر لپیٹا ہوا تھا اور آپ اضافی کپڑے کے ذریعے زمین کی گرمی یا ٹھنڈک سے بچ رہے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” آپ کے جسم پر اس کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہیں تھا “ ۔ انہوں نے یہ روایت کئی اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے کچھ کا ذکر آگے چل کے آئے گا ان تمام روایات سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ ایک کپڑے میں نماز ادا کی گئی تھی ۔ یہ روایت امام ابو أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔