حدیث نمبر: 2223
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي رَسُولُ اللَّهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ مُتَمَزِّقٌ لَا يُوَارِينِي فَجَعَلْتُ كُلَّمَا سَجَدْتُ أَمْسَكْتُهُ بِيَدِي مَخَافَةَ أَنْ تَنْكَشِفَ عَوْرَتِي وَخَلْفِي نِسَاءٌ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا لِي بِثَوْبٍ فَكَسَانِيهِ وَقَالَ : "تَدَرَّعْ بِخَلِقِكَ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نماز ادا کر رہے تھے میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑا اور اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا میرے جسم پر ایک کپڑا تھا جو پھٹا ہوا تھا اور وہ میری پردہ پوشی نہیں کر رہا تھا میں جب بھی سجدے میں جاتا تھا تو اپنے ہاتھ کے ذریعے اسے پکڑ لیتا تھا اس اندیشے کے تحت کہ کہیں میری شرم گاہ بے پردہ نہ ہو جائے میرے پیچھے خواتین موجود تھیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے میرے لئے ایک کپڑا منگوایا اور وہ مجھے پہنے کے لئے دیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم اسے اپنے پھٹے ہوئے کپڑے پر قمیص کے طور پر پہن لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2223
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن