عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي وَهُوَ بِمَكَّةَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَالْكَعْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَبَعْدَ مَا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ، ثُمَّ صُرِفَ إِلَى الْكَعْبَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے آپ اس وقت مکہ میں تھے آپ اس وقت بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرتے تھے جب کہ خانہ کعبہ آپ کے سامنے ہوتا تھا مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد آپ سولہ ماہ تک ( بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے ) پھر آپ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ : كُنَّا نَغْدُو عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَمُرُّ بِالْمَسْجِدِ فَنُصَلِّي فِيهِ ، فَمَرَرْنَا يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : لَقَدْ حَدَثَ الْيَوْمَ أَمْرٌ عَظِيمٌ ، فَدَنَوْتُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : ( قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ) حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ ، وَإِلَى جَنْبِي صَاحِبٌ لِي فَقُلْتُ لِصَاحِبِي : ارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ : حَتَّى نَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِالنَّاسِ يَوْمَئِذٍ الظُّهْرَ إِلَى الْكَعْبَةِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ مِنْهُ : كُنَّا نَمُرُّ بِالْمَسْجِدِ فَنُصَلِّي فِيهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقُلْتُ لِصَاحِبِي : تَعَالَ حَتَّى نَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَكُونَ أَوَّلَ مَنْ صَلَّى فَتَوَارَيْنَا فَصَلَّيْنَاهُمَا ، ثُمَّ نَزَلَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ - كَاتِبُ اللَّيْثِ ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم لوگ صبح کے وقت روانہ ہوتے تھے ، اور ہم کسی مسجد کے پاس سے گزرتے تھے تو اس میں نماز ادا کر لیتے تھے ایک دن ہم گزرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر تشریف فرما تھے آپ نے ارشاد فرمایا : آج ایک عظیم واقعہ رونما ہوا ہے راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” ہم آسمان میں تمہارے چہرے کا اوپر کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں“ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوری آیت تلاوت کی میرے پہلو میں میرا ساتھی موجود تھا میں نے اپنے ساتھی سے کہا: تم دو رکعات ادا کر لو اس نے کہا: جی نہیں جب تک میں اس بات کا جائزہ نہیں لیتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے آپ نے لوگوں کو اس دن ظہر کی نماز خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر کے پڑھائی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ہم مسجد کے پاس سے گزرتے تھے تو اس میں نماز ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر سے نیچے اترنے سے پہلے دو رکعات ادا کر لیں تو ہم نماز ادا کرنے والے پہلے فرد بن جائیں گے ، تو ہم ذرا ہٹ گئے تو ہم نے یہ دو رکعات ادا کر لیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث سورۃ بقرہ کی تفسیر سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں : یہ ” ثقہ “ اور مامون ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر سے نیچے اترنے سے پہلے دو رکعات ادا کر لیں تو ہم نماز ادا کرنے والے پہلے فرد بن جائیں گے ، تو ہم ذرا ہٹ گئے تو ہم نے یہ دو رکعات ادا کر لیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث سورۃ بقرہ کی تفسیر سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں : یہ ” ثقہ “ اور مامون ہے ۔
وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ، ثُمَّ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَكَثِيرٌ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین
کثیر بن عبداللہ بن عوف اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرتے رہے پھر آپ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے کثیر نامی راوی ” ضعیف “ ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے کثیر نامی راوی ” ضعیف “ ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَهُوَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَانْصَرَفَ بِوَجْهِهِ إِلَى الْكَعْبَةِ ، ( فَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ) قُلْتُ : حَدِيثُ أَنَسٍ فِي الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَهُنَا الظُّهْرُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ضَعَّفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو نُعَيْمٍ الْحَافِظُ وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شَيْخٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا آپ ظہر کی نماز ادا کر رہے تھے نماز کے دوران آپ نے اپنا چہرہ خانہ کعبہ کی طرف پھیر لیا تو لوگوں میں سے بے وقوف لوگوں نے یہ کہا: ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” ان لوگوں کو ان کے قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا ہے ، جس قبلہ پر یہ پہلے تھے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم وہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ یہ صبح کی نماز کا واقعہ ہے ، جب کہ یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ یہ ظہر کی نماز کا واقعہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان سعید ہے ، جسے یحیی القطان اور یحییٰ بن معین اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے حافظ ابونعیم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ بزرگ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان سعید ہے ، جسے یحیی القطان اور یحییٰ بن معین اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے حافظ ابونعیم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ بزرگ ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : جَاءَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ ، وَالْإِمَامُ فِي الصَّلَاةِ قَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ الْمُنَادِي : قَدْ حُوِّلَتِ الْقِبْلَةُ إِلَى الْكَعْبَةِ فَصَلَّوُا الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ إِلَى الْكَعْبَةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی ( کچھ لوگوں کے پاس ) آیا اور بولا: قبلہ کا رخ بدل دیا گیا ہے امام اس وقت نماز کی حالت میں تھا اس نے دو رکعات ادا کر لی ہوئی تھیں اس منادی نے کہا: قبلہ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے ، تو تم باقی کی دو رکعات خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر کے ادا کرو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ حِينَ صُرِفَتِ الْقِبْلَةُ ، فَدَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدُرْنَا مَعَهُ فِي رَكْعَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عماره بن رویبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں شام کی دو نمازوں میں سے ایک ادا کر رہے تھے جب آپ کا رخ قبلہ کی طرف پھیر دیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوم گئے آپ کی اقتداء میں ہم بھی گھوم گئے یہ دور رکعات ادا کرنے کی بعد کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن حسین ابومالک نخعی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن حسین ابومالک نخعی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَوْسٍ وَكَانَ قَدْ صَلَّى إِلَى الْقِبْلَتَيْنِ جَمِيعًا قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ إِذْ نَادَى مُنَادٍ بِالْبَابِ : إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَأَشْهَدُ عَلَى إِمَامِنَا أَنَّهُ حُوِّلَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، وَالرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ، فَصَلَّى بَعْضُنَا هَا هُنَا وَبَعْضُنَا هَا هُنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنِّي لَفِي مَنْزِلِي إِذَا مُنَادٍ يُنَادِي عَلَى الْبَابِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمارہ بن اوس رضی اللہ عنہ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کی ہوئی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہم شام کی دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران ( مسجد کے دروازے پر ) منادی نے پکار کر کہا: قبلہ ، خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا ہے ، تو میں اپنے امام کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ ان کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا مردوں عورتوں بچوں نے بھی ایسا ہی کیا تو ہم میں سے بعض نے اس طرف رُخ کر کے نماز ادا کی اور بعض نے اس طرف رخ کر کے نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ فرماتے ہیں : میں اپنے گھر میں موجود تھا جب دروازے پر منادی نے پکا کر کہا: “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ فرماتے ہیں : میں اپنے گھر میں موجود تھا جب دروازے پر منادی نے پکا کر کہا: “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صُرِفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الشَّامِ إِلَى الْقِبْلَةِ ، فَصَلَّى إِلَى الْكَعْبَةِ فِي رَجَبٍ عَلَى رَأْسِ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ شام ( یعنی بیت المقدس ) سے قبلہ کی طرف پھیر دیا گیا تو آپ نے رجب کے مہینے میں مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد سترہویں مہینے میں خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَلَمَّا حَوَّلَ انْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ فَوَجَدَهُمْ يُصَلُّونَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمِرَ أَنْ يُصَلَّى إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَاسْتَدَارَ إِمَامُهُمْ حَتَّى اسْتَقْبَلَ بِهِمُ الْقِبْلَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرتے رہے ، جب آپ کا رخ تبدیل کر دیا گیا تو ایک شخص اہل قباء کی طرف گیا اس نے ان لوگوں کو صبح کی نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو اس نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کریں تو ان لوگوں کا امام گھوم گیا یہاں تک کہ انہوں نے قبلہ کی طرف رُخ کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ مَكَّةَ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا بِهِ قَوْلًا بِلَا عَمَلٍ ، وَالْقِبْلَةُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَيْنَا نَزَلَتِ الْفَرَائِضُ وَنَسَخَتِ الْمَدِينَةُ مَكَّةَ ، وَالْقَوْلُ فِيهَا ، وَنَسَخَ الْبَيْتُ الْحَرَامُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَصَارَ الْإِيمَانُ قَوْلًا وَعَمَلًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ عِمْرَانَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هُوَ مِثْلُ الْوَاقِدِيِّ وَالْوَاقِدِيُّ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ( مدینہ منورہ ) تشریف لانے سے پہلے لوگوں کو اللہ تعالی پر ایمان رکھنے اور اس بات کی قول کے ذریعے تصدیق کرنے کی طرف دعوت دیتے تھے جس میں عمل شامل نہیں ہوتا تھا اس وقت قبلہ بیت المقدس کی طرف تھا جب آپ ہجرت کر کے ہماری طرف آ گئے تو فرائض کا حکم نازل ہوا اور مدینہ منورہ کے احکام نے مکہ کے احکام کو منسوخ کر دیا اور بیت الحرام سے متعلق حکم نے بیت المقدس کے حکم کو منسوخ کر دیا تو اب ایمان قول اور عمل کا مجموعہ بن گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن عمران ہے ابوحاتم کہتے ہیں ۔ یہ واقدی کی مانند ہے ، اور واقدی متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن عمران ہے ابوحاتم کہتے ہیں ۔ یہ واقدی کی مانند ہے ، اور واقدی متروک ہے ۔
وَعَنْ تَوِيلَةَ بِنْتِ أَسْلَمَ - وَهِيَ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ - قَالَتْ : إِنَّا لَبِمَقَامِنَا نُصَلِّي فِي بَنِي حَارِثَةَ فَقَالَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرِ بْنِ قِبْطِيٍّ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَالْكَعْبَةَ فَتَحَوَّلَ الرِّجَالُ مَكَانَ النِّسَاءِ وَالنِّسَاءُ مَكَانَ الرِّجَالِ فَصَلَّوُا الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ نَحْوَ الْكَعْبَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ تویلہ بنت اسلم رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتی ہیں : ہم بنو حارثہ کے علاقے میں اپنی جگہ پر نماز ادا کر رہے تھے کہ عباد بن بشر بن قبطی نے یہ کہا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت الحرام اور خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر لیا ہے ، تو مرد گھوم کر خواتین کی جگہ آ گئے اور خواتین مردوں کی جگہ چلی گئیں تو ان لوگوں نے باقی کی دو رکعات خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر کے ادا کیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ تَوِيلَةَ بِنْتِ مُسْلِمٍ قَالَتْ : صَلَّيْنَا الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فِي مَسْجِدِ بَنِي حَارِثَةَ فَاسْتَقْبَلْنَا مَسْجِدَ إِيلِيَاءَ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ جَاءَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ ،فَتَحَوَّلُ الرِّجَالُ مَكَانَ النِّسَاءِ وَالنِّسَاءُ مَكَانَ الرِّجَالِ فَصَلَّيْنَا السَّجْدَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ وَنَحْنُ مُسْتَقْبِلُو الْبَيْتَ الْحَرَامَ ، فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُولَئِكَ رِجَالٌ آمَنُوا بِالْغَيْبِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَسْوَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ تویله بنت مسلم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم نے بنو حارثہ کی مسجد میں ظہر یا شاید عصر کی نماز ادا کی ہم نے مسجد ایلیاء کی طرف رُخ کیا ہوا تھا ہم دو رکعات ادا کر چکے تھے اسی دوران ایک شخص ہمارے پاس آیا جس نے ہمیں یہ بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت الحرام کی طرف رخ کر لیا ہے ، تو مرد گھوم کر عورتوں کی جگہ پر آ گئے اور عورتیں مردوں کی جگہ چلی گئیں ہم نے باقی کی دو رکعات بیت الحرم کی طرف رُخ کر کے ادا کیں ۔ بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : کہ یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس اسواری ہے جو ضعیف اور متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس اسواری ہے جو ضعیف اور متروک ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذِ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَعَلَيْكَ " ، قَالَتْ : فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ ، فَقَالَتْ : ثُمَّ دَخَلَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَعَلَيْكَ " ، قَالَتْ : ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : بَلِ السَّامُ عَلَيْكَ وَغَضَبُ اللَّهِ ، إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ ، أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ بِمَا لَمْ يُحَيِّهْ بِهِ اللَّهُ ؟ قَالَتْ : فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ : " مَهْ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ ، قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَضُرَّنَا شَيْئًا ، وَلَزِمَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، إِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَ عَلَى شَيْءٍ كَمَا حَسَدُونَا عَلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا ، وَعَلَى الْقِبْلَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا ، وَعَلَى قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ آمِينَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ شَيْخُ أَحْمَدَ وَقَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ بِسَبَبِ كَثْرَةِ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ ، قَالَ أَحْمَدُ : أَمَّا أَنَا فَأُحَدِّثُ عَنْهُ ، وَحَدَّثْنَا عَنْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھی اسی دوران ایک یہودی شخص نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت عطا کر دی اس نے کہا: السام علیک ( یعنی آپ کو موت آئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں بھی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کچھ بات کہنے کا ارادہ کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں پھر وہ دوسری مرتبہ آیا تو اس نے پھر اس کی مانند کلمات کہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر وہ تیسری مرتبہ آیا تو اس نے کہا: السام علیک ( یعنی آپ کو موت آئے ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں تو میں نے کہا: بلکہ تمہیں موت آئے اور تم پر اللہ کا غضب نازل ہو تم لوگ بندر اور خنزیروں کے بھائی ہو کیا تم اللہ کے رسول کو اس کے برخلاف طریقے سے سلام کرتے ہو ، جس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سلام بھیجا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا رک جاؤ اللہ تعالیٰ بدزبانی اور بدگوئی کو پسند نہیں کرتا ہے ان لوگوں نے ایک بات کہی تھی ہم نے انہیں جواب دے دیا ان کی بات ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ، اور ان لوگوں پر قیامت کے دن تک کے لئے لازم ہو جائے گی یہ لوگ کسی بھی چیز کے حوالے سے اتنا حسد نہیں کرتے ہیں جتنا جمعہ کے دن کے حوالے سے ہمارے ساتھ حسد کرتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالی نے ہماری رہنمائی کر دی اور ان لوگوں کو اسی سے گمراہ کر دیا اور اس قبلہ کے حوالے سے ہم سے حسد کرتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالی نے ہماری رہنمائی کر دی اور ان لوگوں کو اس کے حوالے سے گمراہ کر دیا اور امام کے پیچھے ہمارے آمین کہنے سے ہم سے حسد کرتے ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے ، جو امام أحمد کا ستاد ہے ، اس کی بکثرت غلطیوں اور خطاؤں کی وجہ سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے امام أحمد فرماتے ہیں : جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو میں اس کے حوالے سے حدیث روایت کرتا ہوں ، اور مجھے اس کے حوالے سے حدیث بیان کی گئی ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے ، جو امام أحمد کا ستاد ہے ، اس کی بکثرت غلطیوں اور خطاؤں کی وجہ سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے امام أحمد فرماتے ہیں : جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو میں اس کے حوالے سے حدیث روایت کرتا ہوں ، اور مجھے اس کے حوالے سے حدیث بیان کی گئی ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔