مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِبْلَةِ . باب: قبلہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَوْسٍ وَكَانَ قَدْ صَلَّى إِلَى الْقِبْلَتَيْنِ جَمِيعًا قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ إِذْ نَادَى مُنَادٍ بِالْبَابِ : إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَأَشْهَدُ عَلَى إِمَامِنَا أَنَّهُ حُوِّلَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، وَالرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ، فَصَلَّى بَعْضُنَا هَا هُنَا وَبَعْضُنَا هَا هُنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنِّي لَفِي مَنْزِلِي إِذَا مُنَادٍ يُنَادِي عَلَى الْبَابِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤سیدنا عمارہ بن اوس رضی اللہ عنہ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کی ہوئی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہم شام کی دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران ( مسجد کے دروازے پر ) منادی نے پکار کر کہا: قبلہ ، خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا ہے ، تو میں اپنے امام کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ ان کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا مردوں عورتوں بچوں نے بھی ایسا ہی کیا تو ہم میں سے بعض نے اس طرف رُخ کر کے نماز ادا کی اور بعض نے اس طرف رخ کر کے نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ فرماتے ہیں : میں اپنے گھر میں موجود تھا جب دروازے پر منادی نے پکا کر کہا: “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔