مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِبْلَةِ . باب: قبلہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ مَكَّةَ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا بِهِ قَوْلًا بِلَا عَمَلٍ ، وَالْقِبْلَةُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَيْنَا نَزَلَتِ الْفَرَائِضُ وَنَسَخَتِ الْمَدِينَةُ مَكَّةَ ، وَالْقَوْلُ فِيهَا ، وَنَسَخَ الْبَيْتُ الْحَرَامُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَصَارَ الْإِيمَانُ قَوْلًا وَعَمَلًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ عِمْرَانَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هُوَ مِثْلُ الْوَاقِدِيِّ وَالْوَاقِدِيُّ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ( مدینہ منورہ ) تشریف لانے سے پہلے لوگوں کو اللہ تعالی پر ایمان رکھنے اور اس بات کی قول کے ذریعے تصدیق کرنے کی طرف دعوت دیتے تھے جس میں عمل شامل نہیں ہوتا تھا اس وقت قبلہ بیت المقدس کی طرف تھا جب آپ ہجرت کر کے ہماری طرف آ گئے تو فرائض کا حکم نازل ہوا اور مدینہ منورہ کے احکام نے مکہ کے احکام کو منسوخ کر دیا اور بیت الحرام سے متعلق حکم نے بیت المقدس کے حکم کو منسوخ کر دیا تو اب ایمان قول اور عمل کا مجموعہ بن گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن عمران ہے ابوحاتم کہتے ہیں ۔ یہ واقدی کی مانند ہے ، اور واقدی متروک ہے ۔