مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِبْلَةِ . باب: قبلہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَهُوَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَانْصَرَفَ بِوَجْهِهِ إِلَى الْكَعْبَةِ ، ( فَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ) قُلْتُ : حَدِيثُ أَنَسٍ فِي الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَهُنَا الظُّهْرُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ضَعَّفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو نُعَيْمٍ الْحَافِظُ وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شَيْخٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا آپ ظہر کی نماز ادا کر رہے تھے نماز کے دوران آپ نے اپنا چہرہ خانہ کعبہ کی طرف پھیر لیا تو لوگوں میں سے بے وقوف لوگوں نے یہ کہا: ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” ان لوگوں کو ان کے قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا ہے ، جس قبلہ پر یہ پہلے تھے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم وہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ یہ صبح کی نماز کا واقعہ ہے ، جب کہ یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ یہ ظہر کی نماز کا واقعہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان سعید ہے ، جسے یحیی القطان اور یحییٰ بن معین اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے حافظ ابونعیم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ بزرگ ہے ۔