مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِبْلَةِ . باب: قبلہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ تَوِيلَةَ بِنْتِ مُسْلِمٍ قَالَتْ : صَلَّيْنَا الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فِي مَسْجِدِ بَنِي حَارِثَةَ فَاسْتَقْبَلْنَا مَسْجِدَ إِيلِيَاءَ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ جَاءَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ ،فَتَحَوَّلُ الرِّجَالُ مَكَانَ النِّسَاءِ وَالنِّسَاءُ مَكَانَ الرِّجَالِ فَصَلَّيْنَا السَّجْدَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ وَنَحْنُ مُسْتَقْبِلُو الْبَيْتَ الْحَرَامَ ، فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُولَئِكَ رِجَالٌ آمَنُوا بِالْغَيْبِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَسْوَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ . ¤سیدہ تویله بنت مسلم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم نے بنو حارثہ کی مسجد میں ظہر یا شاید عصر کی نماز ادا کی ہم نے مسجد ایلیاء کی طرف رُخ کیا ہوا تھا ہم دو رکعات ادا کر چکے تھے اسی دوران ایک شخص ہمارے پاس آیا جس نے ہمیں یہ بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت الحرام کی طرف رخ کر لیا ہے ، تو مرد گھوم کر عورتوں کی جگہ پر آ گئے اور عورتیں مردوں کی جگہ چلی گئیں ہم نے باقی کی دو رکعات بیت الحرم کی طرف رُخ کر کے ادا کیں ۔ بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : کہ یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس اسواری ہے جو ضعیف اور متروک ہے ۔