مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِبْلَةِ . باب: قبلہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ : كُنَّا نَغْدُو عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَمُرُّ بِالْمَسْجِدِ فَنُصَلِّي فِيهِ ، فَمَرَرْنَا يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : لَقَدْ حَدَثَ الْيَوْمَ أَمْرٌ عَظِيمٌ ، فَدَنَوْتُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : ( قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ) حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ ، وَإِلَى جَنْبِي صَاحِبٌ لِي فَقُلْتُ لِصَاحِبِي : ارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ : حَتَّى نَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِالنَّاسِ يَوْمَئِذٍ الظُّهْرَ إِلَى الْكَعْبَةِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ مِنْهُ : كُنَّا نَمُرُّ بِالْمَسْجِدِ فَنُصَلِّي فِيهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقُلْتُ لِصَاحِبِي : تَعَالَ حَتَّى نَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَكُونَ أَوَّلَ مَنْ صَلَّى فَتَوَارَيْنَا فَصَلَّيْنَاهُمَا ، ثُمَّ نَزَلَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ - كَاتِبُ اللَّيْثِ ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم لوگ صبح کے وقت روانہ ہوتے تھے ، اور ہم کسی مسجد کے پاس سے گزرتے تھے تو اس میں نماز ادا کر لیتے تھے ایک دن ہم گزرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر تشریف فرما تھے آپ نے ارشاد فرمایا : آج ایک عظیم واقعہ رونما ہوا ہے راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” ہم آسمان میں تمہارے چہرے کا اوپر کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں“ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوری آیت تلاوت کی میرے پہلو میں میرا ساتھی موجود تھا میں نے اپنے ساتھی سے کہا: تم دو رکعات ادا کر لو اس نے کہا: جی نہیں جب تک میں اس بات کا جائزہ نہیں لیتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے آپ نے لوگوں کو اس دن ظہر کی نماز خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر کے پڑھائی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ہم مسجد کے پاس سے گزرتے تھے تو اس میں نماز ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر سے نیچے اترنے سے پہلے دو رکعات ادا کر لیں تو ہم نماز ادا کرنے والے پہلے فرد بن جائیں گے ، تو ہم ذرا ہٹ گئے تو ہم نے یہ دو رکعات ادا کر لیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث سورۃ بقرہ کی تفسیر سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں : یہ ” ثقہ “ اور مامون ہے ۔