عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى بِضْعٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، أَعْظَمُهَا فِتْنَةً عَلَى أُمَّتِي قَوْمٌ يَقِيسُونَ الْأُمُورَ بِرَأْيِهِمْ ، فَيُحِلُّونَ الْحَرَامَ ، وَيُحَرِّمُونَ الْحَلَالَ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت ستر سے کچھ زیادہ فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی ، اُن میں سے میری امت کے لیے زیادہ بڑی آزمائش والے وہ لوگ ہوں گے ، جو اپنی رائے کی بنیاد پر اُمور کو قیاس کریں گے اور وہ حرام کو حلال قرار دے دیں گے ، اور حلال کو حرام قرار دے دیں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعْمَلُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بُرْهَةً بِكِتَابِ اللَّهِ ، ثُمَّ تَعْمَلُ بُرْهَةً بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ تَعْمَلُ بُرْهَةً بِالرَّأْيِ ، فَإِذَا عَمِلُوا [ بِالرَّأْيِ ] فَقَدْ ضَلُّوا وَأَضَلُّوا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ ، مُتَّفَقٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” یہ امت ایک عرصے تک ، اللہ کی کتاب کے مطابق عمل کرتی رہے گی ، پھر ایک عرصے تک اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق عمل کرتی رہے گی ، اور پھر ایک عرصے تک رائے کے مطابق عمل کرتی رہے گی ، جب وہ لوگ ( رائے کے مطابق ) عمل کریں گے ، تو وہ گمراہ ہو جائیں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن زہری ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن زہری ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ : اتَّهِمُوا الرَّأْيَ عَلَى الدِّينِ ; فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَرُدُّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا آلُو عَنِ الْحَقِّ ، وَذَاكَ يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ ، وَالْكِتَابُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَهْلِ مَكَّةَ ، فَقَالَ : " اكْتُبُوا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " ، فَقَالُوا : أَتَرَانَا إِذًا صَدَّقْنَاكَ بِمَا تَقُولُ ، وَلَكِنِ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ، قَالَ : فَرَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَيْتُ عَلَيْهِمْ حَتَّى قَالَ لِي : " يَا عُمَرُ ، تَرَانِي قَدْ رَضِيتُ وَتَأْبَى " قَالَ : فَرَضِيتُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَإِنْ كَانَ فِيهِمْ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : دینی امور کے بارے میں رائے پر تہمت عائد کرو ! مجھے اپنے بارے میں یہ یاد ہے کہ میں نے ایک معاملے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم قبول نہیں کیا ، حالانکہ میں نے اس صورتحال میں حق کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی تھی ، یہ اُس دن کی بات ہے جب ( صلح حدیبیہ کے موقعہ پر ) ابوجندل کا واقعہ پیش آیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل مکہ کے درمیان تحریری معاہدہ ہونے جا رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ تحریر کرو ! «بسم الله الرحمن الرَّحِيمِ» ( اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ) تو انہوں نے یہ کہا: کیا آپ ہمارے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ ہم نے آپ کے بیان کی تصدیق کر دی ہے ؟ آپ لکھیں : «باسمك اللهم» ( اے اللہ تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر تیار ہو گئے ، لیکن میں نے یہ بات نہیں مانی ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے عمر ! تم دیکھ رہے ہو کہ میں راضی ہو گیا ہوں ، اور پھر بھی تم انکار کر رہے ہو ؟ سیدنا عمر فرماتے ہیں : تو میں راضی ہو گیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ ان کے درمیان مبارک بن فضالہ نامی راوی موجود ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ ان کے درمیان مبارک بن فضالہ نامی راوی موجود ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ أُنْزِلَ عَلَيْهِ ( إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) ، إِلَى آخِرِ الْقِصَّةِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ، فَسُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ ، وَأَسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا . وَيَا عَلِيُّ ، إِنَّهُ يَكُونُ بَعْدِي فِي الْمُؤْمِنِينَ الْجِهَادُ " . قَالَ : عَلَامَ نُجَاهِدُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَى الْإِحْدَاثِ فِي الدِّينِ ، إِذَا مَا عَمِلُوا فِي الرَّأْيِ ، وَلَا رَأْيَ فِي الدِّينِ ; إِنَّمَا الدِّينُ مِنَ الرَّبِّ : أَمْرُهُ وَنَهْيُهُ " . قَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنَّ عَرَضَ لَنَا أَمْرٌ لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ ، وَلَمْ تَمْضِ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْكَ ؟ قَالَ : " تَجْعَلُونَهُ شُورَى بَيْنَ الْعَابِدِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَلَا تَقْضُونَهُ بِرَأْيِ خَاصَّةٍ ، فَلَوْ كُنْتُ مُسْتَخْلِفًا أَحَدًا لَمْ يَكُنْ أَحَقَّ مِنْكَ ; لِقِدَمِكَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَقَرَابَتِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ صِهْرِكَ ] وَعِنْدَكَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَقَبْلَ ذَلِكَ مَا كَانَ مِنْ بَلَاءِ أَبِي طَالِبٍ إِيَّايَ ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَنَا حَرِيصٌ عَلَى أَنْ أَرْعَى لَهُ فِي وَلَدِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے واپس تشریف لائے ، تو آپ پر یہ سورت نازل ہوئی : ” جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آ گئی ۔ “ اس کے بعد پورا واقعہ ہے ( جس میں آگے چل کر یہ مذکور ہے : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی بن ابوطالب ! اے فاطمہ بنت محمد ! اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ہے ، میں نے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ گروہ در گروہ اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں ، تو میں اس حوالے سے اپنے پروردگار کے ہر عیب سے پاک ہونے کا اعتراف کرتا ہوں ، جو اُس کی حمد کے ہمراہ ہو ، اور میں اُس سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے ، اے علی ! میرے بعد ایمان والوں کے ساتھ جہاد ہو گا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ایمان والے وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں : ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں ، اُن کے ساتھ کسی بنیاد پر ہم جہاد کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دین میں نئی چیزیں پیدا کرنے کی وجہ سے ( اُن کے ساتھ جہاد کیا جائیگا ) اُس وقت جب وہ رائے کی بنیاد پر عمل کریں گے اور دین میں رائے کی گنجائش نہیں ہے ، کیونکہ دین تو پروردگار کی طرف سے آیا ہے ، اس میں اُس کا حکم اور اس کی ممانعت چلے گی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر ہمارے سامنے کوئی ایسا معاملہ آ جاتا ہے ، جس کے بارے میں قرآن نازل نہ ہوا ہو اور اس کے حوالے سے آپ کی کوئی سنت بھی موجود نہ ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس معاملے کو اہل ایمان میں سے عبادت گزار لوگوں کی شوریٰ میں پیش کرو گے ، تم اُس کے حوالے سے کسی ایک شخص کی رائے کی بنیاد پر فیصلہ نہ دینا ، اگر میں نے کسی کو اپنا جانشین مقرر کرنا ہوتا ، تو تم سے زیادہ حقدار اور کوئی نہیں ہے ، کیونکہ تم نے شروع میں اسلام قبول کیا اور تم اللہ کے رسول کے ساتھ رشتے داری کا تعلق رکھتے ہو ( اور تم میرے داماد بھی ہو ) تمام جہانوں کی خواتین کی سردار تمہاری بیوی ہے ، اور پھر ان سب باتوں سے پہلے ، جناب ابوطالب کو میرے حوالے سے جن آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ، اُس وقت جب قرآن نازل ہو رہا تھا ، تو میں اس بات کا بھی شدید خواہش مند ہوں کہ اُن کی نسبت کی وجہ سے ان کی اولاد کی دیکھ بھال کروں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ منکر الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ منکر الحدیث ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمْ يَزَلْ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا حَتَّى بَدَا فِيهِمْ أَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ ، فَأَفْتَوْا بِالرَّأْيِ ، فَضَّلُوا وَأَضَلُّوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةَ وَالثَّوْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَقَالَ ابْنُ الْقَطَّانِ : هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بنی اسرائیل کا معاملہ ہمیشہ اعتدال کا شکار رہا ، یہاں تک کہ اُن کے درمیان دیگر اقوام کے قیدیوں کے بچے آ گئے ، تو انہوں نے رائے کی بنیاد پر حکم بیان کرنا شروع کیا ، وہ گمراہ ہوئے اور انہوں نے ( دوسروں کو بھی ) گمراہ کیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن قطان کہتے ہیں : یہ سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن قطان کہتے ہیں : یہ سند حسن ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ تَرَوْا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ ، يَسْمَعُ أَحَدُهُمُ الْحَدِيثَ فَيَقِيسُهُ عَلَى غَيْرِهِ ، فَيُضِلُّ النَّاسَ عَنِ اسْتِمَاعِهِ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي يُحَدِّثُ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ أَبُو الصَّبَاحِ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب تم انسانوں سے تعلق رکھنے والے شیاطین کو دیکھو گے ، اُن میں سے کوئی ایک شخص حدیث سنے گا ، اور پھر اسے اس کے علاوہ پر قیاس کرے گا ، اور پھر وہ لوگوں کو اس چیز کے حوالے سے گمراہ کر دے گا کہ انہوں نے وہ حدیث جس شخص سے سنی تھی ، جس نے یہ حدیث بیان کی تھی ( یعنی وہ لوگ اُس کے بیان کی پیروی نہیں کریں گے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ابوالصباح ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ابوالصباح ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : إِيَّاكُمْ وَأَرَأَيْتَ وَأَرَأَيْتَ ; فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَرَأَيْتَ وَأَرَأَيْتَ ، وَلَا تَقِيسُوا شَيْئًا بِشَيْءٍ ; فَتَزِلُّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا ، فَإِذَا سُئِلَ أَحَدُكُمْ عَمَّا لَا يَعْلَمُ فَلْيَقُلْ : لَا أَعْلَمُ ; فَإِنَّهُ ثُلْثُ الْعِلْمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَالشَّعْبِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَفِيهِ جَابِرُ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ کہنے سے بچو : آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیونکہ تم سے پہلے کہ لوگ یہ کہنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے ، کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ کی کیا رائے ہے ؟ اور تم کسی ایک چیز کو دوسری پر قیاس نہ کرو ، کیونکہ اس کے ثبوت کے بعد قدم پھسل جائیں گے ، جب کسی شخص سے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے ، جس کا وہ علم نہ رکھتا ہو ، تو اسے یہ کہہ دینا چاہیے : میں علم نہیں کیونکہ یہ ( کہ دینا : کہ میں علم نہیں رکھتا ) یہ ایک تہائی علم ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام شعبی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام شعبی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا أَقِيسُ شَيْئًا بِشَيْءٍ ; ( فَتَزِلُّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجَعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں کسی چیز کو کسی دوسری چیز پر قیاس نہیں کرتا ہوں ، کیونکہ اس کے ثبوت کے بعد قدم پھسل جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا مِنْ عَامٍ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ ، وَلَا عَامٌ خَيْرٌ مِنْ عَامٍ ، وَلَا أُمَّةٌ خَيْرٌ مِنْ أُمَّةٍ ، وَلَكِنْ ذَهَابُ عُلَمَائِكُمْ وَخِيَارِكُمْ ، وَيُحَدِّثُ قَوْمٌ يَقِيسُونَ الْأُمُورَ بِرَأْيِهِمْ ; فَيَنْهَدِمُ الْإِسْلَامُ وَيَنْثَلِمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو بھی سال آئے گا ، اُس کے بعد والا ، اس سے زیادہ برا ہو گا ، کوئی سال کسی دوسرے سال سے بہتر نہیں ہوتا ، اور کوئی امت کسی دوسری امت سے بہتر نہیں ہوتی ، لیکن یہ ہے کہ تمہارے علماء اور تمہارے بہترین لوگ رخصت ہو جائیں گے ، اور پھر ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی رائے کی بنیاد پر معاملات کو قیاس کریں گے ، تو وہ اسلام کو منہدم اور برباد کر دیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، یہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، یہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا يُقَلِّدَنَّ أَحَدُكُمْ دِينَهُ رَجُلًا ، فَإِنْ آمَنَ آمَنَ ، وَإِنْ كَفَرَ كَفَرَ ، وَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ مُقْتَدِينَ فَاقْتَدُوا بِالْمَيِّتِ ; فَإِنَّ الْحَيَّ لَا يُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اپنے دین کے بارے میں کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کی تقلید نہ کرے ، یوں کہ اگر وہ ( دوسرا شخص ) ایمان لائے گا تو یہ بھی ایمان لائے گا ، اگر وہ کفر کرے گا ، تو یہ بھی کفر کرے گا ، اگر تم نے کسی کی ضرور ہی پیروی کرنی ہے ، تو تم میت کی پیروی کرو ! کیونکہ زندہ شخص کے بارے میں فتنے کا اندیشہ موجود رہتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لَا يَكُونَنَّ أَحَدُكُمْ إِمَّعَةً ، قَالُوا : وَمَا الْإِمَّعَةُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : تَقُولُ : إِنَّمَا أَنَا مَعَ النَّاسِ ، إِنِ اهْتَدَوُا اهْتَدَيْتُ ، وَإِنْ ضَلُّوا ضَلَلْتُ ، أَلَا لَيُوَطِّنَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ ، عَلَى أَنْ كَفَرَ النَّاسُ أَنْ لَا يَكْفُرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم میں سے کوئی بھی شخص “” “” امعۃ “ نہ بنے ! لوگوں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! ” امعۃ “ سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ کہ تم یہ کہو : میں لوگوں کے ساتھ ہوں ، اگر وہ ہدایت حاصل کریں گے ، تو میں بھی ہدایت حاصل کر لوں گا ، اور اگر وہ گمراہ ہو گئے تو میں بھی گمراہ ہو جاؤں گا ، خبردار ! تم میں سے ہر ایک شخص اپنے من میں یہ طے کرے کہ اگر لوگوں نے کفر کیا ، تو وہ کفر نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔