مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْقِيَاسِ وَالتَّقْلِيدِ . باب: قیاس اور تقلید کا بیان
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : إِيَّاكُمْ وَأَرَأَيْتَ وَأَرَأَيْتَ ; فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَرَأَيْتَ وَأَرَأَيْتَ ، وَلَا تَقِيسُوا شَيْئًا بِشَيْءٍ ; فَتَزِلُّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا ، فَإِذَا سُئِلَ أَحَدُكُمْ عَمَّا لَا يَعْلَمُ فَلْيَقُلْ : لَا أَعْلَمُ ; فَإِنَّهُ ثُلْثُ الْعِلْمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَالشَّعْبِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَفِيهِ جَابِرُ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ کہنے سے بچو : آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیونکہ تم سے پہلے کہ لوگ یہ کہنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے ، کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ کی کیا رائے ہے ؟ اور تم کسی ایک چیز کو دوسری پر قیاس نہ کرو ، کیونکہ اس کے ثبوت کے بعد قدم پھسل جائیں گے ، جب کسی شخص سے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے ، جس کا وہ علم نہ رکھتا ہو ، تو اسے یہ کہہ دینا چاہیے : میں علم نہیں کیونکہ یہ ( کہ دینا : کہ میں علم نہیں رکھتا ) یہ ایک تہائی علم ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام شعبی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔