مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْقِيَاسِ وَالتَّقْلِيدِ . باب: قیاس اور تقلید کا بیان
حدیث نمبر: 845
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمْ يَزَلْ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا حَتَّى بَدَا فِيهِمْ أَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ ، فَأَفْتَوْا بِالرَّأْيِ ، فَضَّلُوا وَأَضَلُّوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةَ وَالثَّوْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَقَالَ ابْنُ الْقَطَّانِ : هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بنی اسرائیل کا معاملہ ہمیشہ اعتدال کا شکار رہا ، یہاں تک کہ اُن کے درمیان دیگر اقوام کے قیدیوں کے بچے آ گئے ، تو انہوں نے رائے کی بنیاد پر حکم بیان کرنا شروع کیا ، وہ گمراہ ہوئے اور انہوں نے ( دوسروں کو بھی ) گمراہ کیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن قطان کہتے ہیں : یہ سند حسن ہے ۔