مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْقِيَاسِ وَالتَّقْلِيدِ . باب: قیاس اور تقلید کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ أُنْزِلَ عَلَيْهِ ( إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) ، إِلَى آخِرِ الْقِصَّةِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ، فَسُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ ، وَأَسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا . وَيَا عَلِيُّ ، إِنَّهُ يَكُونُ بَعْدِي فِي الْمُؤْمِنِينَ الْجِهَادُ " . قَالَ : عَلَامَ نُجَاهِدُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَى الْإِحْدَاثِ فِي الدِّينِ ، إِذَا مَا عَمِلُوا فِي الرَّأْيِ ، وَلَا رَأْيَ فِي الدِّينِ ; إِنَّمَا الدِّينُ مِنَ الرَّبِّ : أَمْرُهُ وَنَهْيُهُ " . قَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنَّ عَرَضَ لَنَا أَمْرٌ لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ ، وَلَمْ تَمْضِ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْكَ ؟ قَالَ : " تَجْعَلُونَهُ شُورَى بَيْنَ الْعَابِدِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَلَا تَقْضُونَهُ بِرَأْيِ خَاصَّةٍ ، فَلَوْ كُنْتُ مُسْتَخْلِفًا أَحَدًا لَمْ يَكُنْ أَحَقَّ مِنْكَ ; لِقِدَمِكَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَقَرَابَتِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ صِهْرِكَ ] وَعِنْدَكَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَقَبْلَ ذَلِكَ مَا كَانَ مِنْ بَلَاءِ أَبِي طَالِبٍ إِيَّايَ ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَنَا حَرِيصٌ عَلَى أَنْ أَرْعَى لَهُ فِي وَلَدِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے واپس تشریف لائے ، تو آپ پر یہ سورت نازل ہوئی : ” جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آ گئی ۔ “ اس کے بعد پورا واقعہ ہے ( جس میں آگے چل کر یہ مذکور ہے : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی بن ابوطالب ! اے فاطمہ بنت محمد ! اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ہے ، میں نے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ گروہ در گروہ اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں ، تو میں اس حوالے سے اپنے پروردگار کے ہر عیب سے پاک ہونے کا اعتراف کرتا ہوں ، جو اُس کی حمد کے ہمراہ ہو ، اور میں اُس سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے ، اے علی ! میرے بعد ایمان والوں کے ساتھ جہاد ہو گا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ایمان والے وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں : ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں ، اُن کے ساتھ کسی بنیاد پر ہم جہاد کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دین میں نئی چیزیں پیدا کرنے کی وجہ سے ( اُن کے ساتھ جہاد کیا جائیگا ) اُس وقت جب وہ رائے کی بنیاد پر عمل کریں گے اور دین میں رائے کی گنجائش نہیں ہے ، کیونکہ دین تو پروردگار کی طرف سے آیا ہے ، اس میں اُس کا حکم اور اس کی ممانعت چلے گی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر ہمارے سامنے کوئی ایسا معاملہ آ جاتا ہے ، جس کے بارے میں قرآن نازل نہ ہوا ہو اور اس کے حوالے سے آپ کی کوئی سنت بھی موجود نہ ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس معاملے کو اہل ایمان میں سے عبادت گزار لوگوں کی شوریٰ میں پیش کرو گے ، تم اُس کے حوالے سے کسی ایک شخص کی رائے کی بنیاد پر فیصلہ نہ دینا ، اگر میں نے کسی کو اپنا جانشین مقرر کرنا ہوتا ، تو تم سے زیادہ حقدار اور کوئی نہیں ہے ، کیونکہ تم نے شروع میں اسلام قبول کیا اور تم اللہ کے رسول کے ساتھ رشتے داری کا تعلق رکھتے ہو ( اور تم میرے داماد بھی ہو ) تمام جہانوں کی خواتین کی سردار تمہاری بیوی ہے ، اور پھر ان سب باتوں سے پہلے ، جناب ابوطالب کو میرے حوالے سے جن آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ، اُس وقت جب قرآن نازل ہو رہا تھا ، تو میں اس بات کا بھی شدید خواہش مند ہوں کہ اُن کی نسبت کی وجہ سے ان کی اولاد کی دیکھ بھال کروں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ منکر الحدیث ہے ۔