حدیث نمبر: 843
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ : اتَّهِمُوا الرَّأْيَ عَلَى الدِّينِ ; فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَرُدُّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا آلُو عَنِ الْحَقِّ ، وَذَاكَ يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ ، وَالْكِتَابُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَهْلِ مَكَّةَ ، فَقَالَ : " اكْتُبُوا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " ، فَقَالُوا : أَتَرَانَا إِذًا صَدَّقْنَاكَ بِمَا تَقُولُ ، وَلَكِنِ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ، قَالَ : فَرَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَيْتُ عَلَيْهِمْ حَتَّى قَالَ لِي : " يَا عُمَرُ ، تَرَانِي قَدْ رَضِيتُ وَتَأْبَى " قَالَ : فَرَضِيتُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَإِنْ كَانَ فِيهِمْ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : دینی امور کے بارے میں رائے پر تہمت عائد کرو ! مجھے اپنے بارے میں یہ یاد ہے کہ میں نے ایک معاملے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم قبول نہیں کیا ، حالانکہ میں نے اس صورتحال میں حق کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی تھی ، یہ اُس دن کی بات ہے جب ( صلح حدیبیہ کے موقعہ پر ) ابوجندل کا واقعہ پیش آیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل مکہ کے درمیان تحریری معاہدہ ہونے جا رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ تحریر کرو ! «بسم الله الرحمن الرَّحِيمِ» ( اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ) تو انہوں نے یہ کہا: کیا آپ ہمارے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ ہم نے آپ کے بیان کی تصدیق کر دی ہے ؟ آپ لکھیں : «باسمك اللهم» ( اے اللہ تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر تیار ہو گئے ، لیکن میں نے یہ بات نہیں مانی ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے عمر ! تم دیکھ رہے ہو کہ میں راضی ہو گیا ہوں ، اور پھر بھی تم انکار کر رہے ہو ؟ سیدنا عمر فرماتے ہیں : تو میں راضی ہو گیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ ان کے درمیان مبارک بن فضالہ نامی راوی موجود ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 843
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 82»