مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْقِيَاسِ وَالتَّقْلِيدِ . باب: قیاس اور تقلید کا بیان
قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لَا يَكُونَنَّ أَحَدُكُمْ إِمَّعَةً ، قَالُوا : وَمَا الْإِمَّعَةُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : تَقُولُ : إِنَّمَا أَنَا مَعَ النَّاسِ ، إِنِ اهْتَدَوُا اهْتَدَيْتُ ، وَإِنْ ضَلُّوا ضَلَلْتُ ، أَلَا لَيُوَطِّنَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ ، عَلَى أَنْ كَفَرَ النَّاسُ أَنْ لَا يَكْفُرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم میں سے کوئی بھی شخص “” “” امعۃ “ نہ بنے ! لوگوں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! ” امعۃ “ سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ کہ تم یہ کہو : میں لوگوں کے ساتھ ہوں ، اگر وہ ہدایت حاصل کریں گے ، تو میں بھی ہدایت حاصل کر لوں گا ، اور اگر وہ گمراہ ہو گئے تو میں بھی گمراہ ہو جاؤں گا ، خبردار ! تم میں سے ہر ایک شخص اپنے من میں یہ طے کرے کہ اگر لوگوں نے کفر کیا ، تو وہ کفر نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔