حدیث نمبر: 835
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلْقُرَشِيِّ مِثْلَيْ قُوَّةِ الرَّجُلِ مِنْ غَيْرِ قُرَيْشٍ " ، فَقُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ : مَا عَنَى بِذَلِكَ ؟ قَالَ : نُبْلَ الرَّأْيِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قریش سے تعلق رکھنے والے افراد کو غیر قریش سے تعلق رکھنے والے فرد سے دگنی قوت عطا کی گئی ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے زہری سے دریافت کیا : اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : رائے کا پختہ ہوتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 836
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَرَادَ أَنْ يُسَرِّحَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ ، فَاسْتَشَارَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ - فَاسْتَشَارَهُمْ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَوْلَا أَنَّكَ اسْتَشَرْتَنَا مَا تَكَلَّمْنَا ، فَقَالَ : " إِنِّي فِيمَا لَمْ يُوحَ إِلَيَّ كَأَحَدِكُمْ " . قَالَ : فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ ، فَتَكَلَّمَ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْيِهِ ، فَقَالَ : " مَا تَرَى يَا مُعَاذُ " ، فَقُلْتُ : أَرَى مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ يَكْرَهُ فَوْقَ سَمَائِهِ أَنْ يُخْطِئَ أَبُو بَكْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو الْعَطُوفِ ، لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ يَرْوِي عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجنے کا ارادہ کیا ، تو آپ نے اس بارے میں اپنے کچھ اصحاب سے مشورہ لیا ، جن میں سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان ، سیدنا علی ، سیدنا طلحہ ، سیدنا زبیر اور سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہم شامل ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حضرات سے مشورہ لیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ نے ہم سے مشورہ طلب نہ کیا ہوتا ، تو ہم نے کلام نہیں کرنا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جن امور کے بارے میں میری طرف وحی نہ کی گئی ہو ، ان کے حوالے سے میں تم میں سے کسی ایک شخص کی مانند ہوں ، تو حاضرین نے گفتگو شروع کی اور ہر شخص نے اپنی رائے بیان کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے معاذ ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کی : میری وہی رائے ہے جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ آسمان کے اوپر اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ ابوبکر غلطی کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعطوف ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، یہ وضین بن عطاء سے روایات نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعطوف ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، یہ وضین بن عطاء سے روایات نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 837
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطُوفُ فِي النَّخْلِ بِالْمَدِينَةِ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ : فِيهَا وَسْقٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فِيهَا كَذَا وَكَذَا " ، فَقَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ، فَمَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ فَهُوَ حَقٌّ ، وَمَا قُلْتُ فِيهِ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أُصِيبُ وَأُخْطِئُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، إِلَّا أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبِهَانِيَّ شَيْخَ الْبَزَّارِ لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں کھجور کے ایک باغ کا چکر لگا رہے تھے ، لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا ، اس کی پیداوار ایک وسق ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی پیداوار اتنی اتنی ہو گی ، تو لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہاری مانند ایک بشر ہوں ، جو چیز میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بیان کروں ، وہ حق ہو گی ، اور جس کے بارے میں ، اپنی طرف سے بیان کروں ، تو میں ایک انسان ہوں ، میں ٹھیک رائے بھی دے سکتا ہوں اور غلطی بھی کر سکتا ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ، صرف امام بزار کے استاد اسماعیل بن عبداللہ اصبہانی کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو ان کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ، صرف امام بزار کے استاد اسماعیل بن عبداللہ اصبہانی کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو ان کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 838
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَهُوَ الَّذِي لَا شَكَّ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ مُخْتَلَفٌ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس چیز کے بارے میں ، میں تمہیں یہ بتا دوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ، تو وہ ایک ایسی چیز ہو گی ، جس میں کوئی شک نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن منصور رمادی ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، عبداللہ بن صالح نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن منصور رمادی ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، عبداللہ بن صالح نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 839
وَعَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ ، فَقَالَ : " مَا أَرَى هَذَا يُغْنِي شَيْئًا " ، فَتَرَكُوهَا ذَلِكَ الْعَامَ فَشَيَّصَتْ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِمَا يُصْلِحُكُمْ فِي دُنْيَاكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِمَعْنَاهُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا ، جو کھجوروں کی پیوندکاری کر رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : میرے خیال میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، اس سال لوگوں نے اس عمل کو ترک کر دیا ، تو ان کی پیداوار کم ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو چیز تمہارے دنیاوی امور کے بارے میں زیادہ موزوں ہو ، اس کے بارے میں تم بہتر جانتے ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس مضمون کی روایت نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس مضمون کی روایت نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 840
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَفَعَهُ - قَالَ : " لَيْسَ أَحَدٌ إِلَّا يُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِهِ وَيُدَعُ غَيْرَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” نبی کے علاوہ اور کسی بھی شخص کے قول کو اختیار بھی کیا جا سکتا ہے اور ترک بھی کیا جا سکتا ہے ( یعنی نبی کے قول کو ترک نہیں کیا جا سکتا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔