کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: واقعہ معراج کا بیان
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَيْنَا أَنَا قَاعِدٌ إِذْ جَاءَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَكَزَ بَيْنَ كَتِفَيَّ ، فَقُمْتُ إِلَى شَجَرَةٍ فِيهَا كَوَكْرَيِ الطَّيْرِ ، فَقَعَدَ فِي أَحَدِهِمَا ، وَقَعَدْتُ فِي الْآخَرِ ، فَسَمَتْ وَارْتَفَعَتْ حَتَّى سَدَّتِ الْخَافِقَيْنِ ، وَأَنَا أُقَلِّبُ طَرْفِي ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَمَسَّ السَّمَاءَ لَمَسِسْتُ ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ جِبْرِيلُ كَأَنَّهُ حِلْسٌ لَاطِئٌ ، فَعَرَفْتُ فَضْلَ عِلْمِهِ بِاللَّهِ عَلَيَّ ، وَفُتِحَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ ، وَرَأَيْتُ النُّورَ الْأَعْظَمَ ، وَإِذَا دُونَ الْحِجَابِ رَفْرَفَةُ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ ، فَأَوْحَى إِلَيَّ مَا شَاءَ أَنْ يُوحِيَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران جبرائیل آ گئے اور انہوں نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ مارا ، تو میں اُٹھ کر ایک درخت کی طرف آیا ، جس میں پرندوں کے گھونسلوں کی طرح کی دو چیزیں موجود تھیں ، ان میں سے ایک میں وہ بیٹھ گئے اور دوسرے میں ، میں بیٹھ گیا ، وہ روانہ ہوا اور بلند ہونا شروع ہوا ، یہاں تک کہ اس نے زمین و آسمان کے درمیان کا فاصلہ طے کر لیا ، میں اپنی پلک جھپک سکتا تھا اور اگر میں آسمان کو چھونا چاہتا ، تو چھو سکتا تھا ، جبرائیل میری طرف متوجہ ہوئے ، تو اُن کی حالت زمین پر بچھائی جانے والی پرانی چادر کی طرح تھی ، تو مجھے اندازہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں انہیں علم کے حوالے سے مجھ پر فضیلت حاصل ہے ، پھر آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا گیا ، تو میں نے سب سے عظیم نور دیکھا اور وہاں حجاب سے پہلے موتیوں اور یاقوت کا بنا ہوا تخت تھا ، پھر اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا اُس نے وہ چیز میری طرف وحی کی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 238
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6214 ، اورده المؤلف فى كشف الاستار 58»
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : بَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ فِي بَيْتِي ، فَفَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَامْتَنَعَ مِنِّي النَّوْمُ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ عَرَضَ لَهُ بَعْضُ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَتَانِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَخْرَجَنِي ، فَإِذَا عَلَى الْبَيْتِ دَابَّةٌ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ ، فَحَمَلَنِي عَلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَأَرَانِي إِبْرَاهِيمَ يُشْبِهُ خَلْقُهُ خَلْقِي ، وَيُشْبِهُ خُلُقِي خُلُقَهُ ، وَأَرَانِي مُوسَى آدَمَ ، طَوِيلًا ، سَبْطَ الشَّعْرِ ، يُشَبَّهُ بِرِجَالِ أَزْدِ شَنُوءَةَ ، وَأَرَانِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَبْعَةً ، أَبْيَضَ ، يَضْرِبُ إِلَى الْحُمْرَةِ ، شَبَّهْتُهُ بِعُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ ، وَأَرَانِيَ الدَّجَّالَ مَمْسُوحَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى ، شَبَّهْتُهُ بِقَطَنِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَخَرُجَ إِلَى قُرَيْشٍ فَأُخْبِرُهُمْ بِمَا رَأَيْتُ " فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ فَقُلْتُ : إِنِّي أُذَكِّرُكَ اللَّهَ ، إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا يُكَذِّبُونَكَ ، وَيُنْكِرُونَ مَقَالَتَكَ ، فَأَخَافُ أَنْ يَسْطُوا بِكَ . قَالَ : فَضَرَبَ ثَوْبَهُ مِنْ يَدِي ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ ، فَأَخْبَرَهُمْ مَا أَخْبَرَنِي ، فَقَامَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَوْ كُنْتَ شَابًّا كَمَا كُنْتَ ، مَا تَكَلَّمْتَ بِمَا تَكَلَّمْتَ بِهِ وَأَنْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ مَرَرْتَ بِإِبِلٍ لَنَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَاللَّهِ ، قَدْ وَجَدْتُهُمْ ، قَدْ أَضَلُّوا بَعِيرًا لَهُمْ فَهُمْ فِي طَلَبِهِ " . قَالَ : فَهَلْ مَرَرْتَ بِإِبِلٍ لِبَنِي فُلَانٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَجَدْتُهُمْ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، قَدِ انْكَسَرَتْ لَهُمْ نَاقَةٌ حَمْرَاءُ ، فَوَجَدْتُهُمْ وَعِنْدَهُمْ قَصْعَةٌ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبْتُ مَا فِيهَا " . قَالُوا : أَخْبِرْنَا مَا عِدَّتُهَا وَمَا فِيهَا مِنَ الرُّعَاةِ ؟ قَالَ : " قَدْ كُنْتُ عَنْ عِدَّتِهَا مَشْغُولًا " فَقَامَ فَأُتِيَ بِالْإِبِلِ فَعَدَّهَا وَعَلِمَ مَا فِيهَا مِنَ الرُّعَاةِ ، ثُمَّ أَتَى قُرَيْشًا فَقَالَ لَهُمْ : " سَأَلْتُمُونِي عَنْ إِبِلِ بَنِي فُلَانٍ ، فَهِيَ كَذَا وَكَذَا ، وَفِيهَا مِنَ الرِّعَاءِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ ، وَسَأَلْتُمُونِي عَنْ إِبِلِ بَنِي فُلَانٍ ، فَهِيَ كَذَا وَكَذَا ، وَفِيهَا مِنَ الرِّعَاءِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ ، وَهِيَ مُصَبِّحَتُكُمْ بِالْغَدَاةِ عَلَى الثَّنِيَّةِ " . قَالَ : فَقَعَدُوا إِلَى الثَّنِيَّةِ يَنْظُرُونَ ، أَصَدَقَهُمْ ، فَاسْتَقْبَلُوا الْإِبِلَ فَسَأَلُوا : هَلْ ضَلَّ لَكُمْ بَعِيرٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَسَأَلُوا الْآخَرَ : هَلِ انْكَسَرَتْ لَكُمْ نَاقَةٌ حَمْرَاءُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالُوا : فَهَلْ كَانَ عِنْدَكُمْ قَصْعَةٌ ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا وَاللَّهِ وَضَعْتُهَا فَمَا شَرِبَهَا أَحَدٌ ، وَلَا هَرَاقُوهُ فِي الْأَرْضِ ، وَصَدَّقَهُ أَبُو بَكْرٍ وَآمَنَ بِهِ ، فَسُمِّيَ يَوْمَئِذٍ الصِّدِّيقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی ، اُس رات آپ میرے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے ، رات کے وقت میں نے آپ کو غیر موجود پایا ، تو میں اس اندیشے کے تحت ساری رات سو نہیں سکی ، کہ کہیں قریش میں سے کسی نے آپ کو نقصان نہ پہنچا دیا ہو ( جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا : جبرائیل میرے پاس آئے ، اُنہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے باہر لے گئے ، گھر کے باہر ایک جانور موجود تھا ، جو خچر سے کچھ چھوٹا اور گدھے سے کچھ بڑا تھا ، جبرائیل نے مجھے اس پر سوار کروایا اور پھر روانہ ہو گئے ، یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچ گئے ، انہوں نے مجھے سیدنا ابراہیم علیہ السلام دکھائے ، اُن کی ظاہری شکل و صورت میری ظاہری شکل و صورت کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے ، اور میرے اخلاق ان کے اخلاق کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں ، جبرائیل نے مجھے سیدنا موسیٰ علیہ السلام دکھائے ، جو گندمی رنگت کے طویل القامت شخص تھے ، اُن کے بال گھنگریالے تھے ، وہ ازدشنوہ قبیلے کے افراد کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے ، جبرئیل نے مجھے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام بھی دکھائے تھے ، وہ درمیانے قد اور سفید رنگ کے مالک تھے ُ، جو سرخی مائل تھا ، میں انہیں عروہ بن مسعود ثقفی کے مشابہ قرار دے سکتا ہوں ، جبرائیل نے مجھے دجال بھی دکھایا ، اس کی دائیں آنکھ نہیں تھی ، میں اسے قطن بن عبدالعزیٰ کے مشابہہ قرار دے سکتا ہوں ، ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ) اب میں قریش کی طرف جانے لگا ہوں اور میں نے جو کچھ دیکھا ہے ، اُنہیں اس کے بارے میں بتاؤں گا ( سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کی : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں ، کہ اگر آپ اپنی قوم کے پاس گئے ، تو وہ لوگ آپ کو جھوٹا قرار دیں گے اور آپ کی بات کا انکار کریں گے ، تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ آپ کو نقصان پہنچائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ سے اپنا کپڑا چھڑوایا ، اور ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی وہی بات بتائی ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی تھی ، تو جبیر بن مطعم کھڑا ہوا ، اور بولا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کاش کہ آپ ویسے ہی جوان ہوتے ، جیسے پہلے تھے ، اور آپ نے ہمارے درمیان جو کچھ بیان کیا ہے ، جبکہ آپ ہمارے درمیان تھے ۔
حاضرین میں سے ایک شخص بولا: اے سیدنا محمد ! کیا آپ فلاں مقام پر ہمارے اونٹوں کے پاس سے بھی گزرے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں نے اُن لوگوں کو پایا کہ ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا اور وہ لوگ اُسے تلاش کر رہے تھے ، اس شخص نے دریافت کیا : کیا آپ بنوفلاں کے اونٹوں کے پاس سے بھی گزرے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے اُن لوگوں کو فلاں ، فلاں مقام پر پایا تھا ، اُن کی سرخ اونٹنی ( کر گردن ) ٹوٹ گئی تھی ، میں نے اُن لوگوں کو پایا کہ ان کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا ، میں نے اُس پانی کو پیا تھا ، اُن لوگوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بتائیں کہ ان ( اونٹوں ) کی تعداد کتنی تھی ؟ اُن کے ساتھ چرواہے کتنے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اُس وقت تو میں نے اُن کی گنتی نہیں کی تھی ، لیکن پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، تو آپ کے سامنے وہ منظر آ گیا ، آپ نے ان اونٹوں کی گنتی کی ، اور ان کے ہمراہ موجود چرواہوں کا علم حاصل کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے پاس تشریف لائے ، آپ نے اُن سے فرمایا : تم نے مجھ سے بنو فلاں کے اونٹوں کے بارے میں دریافت کیا تھا ، تو وہ اتنے ، اتنے ہیں ، اور ان کے ساتھ اتنے چرواہے ہیں ، جو فلاں اور فلاں ہیں ، تم نے مجھ سے بنو فلاں کے اونٹوں کے بارے میں دریافت کیا تھا ، تو وہ اتنے ہیں اور ان کے ساتھ اتنے چرواہے ہیں ، ابوقحافہ کا بیٹا ہے اور فلاں اور فلاں ہے ، اور وہ لوگ کل صبح گھاٹی کے پاس تمہارے سامنے آ جائیں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ لوگ اُس گھاٹی کے پاس بیٹھ کر جائزہ لینے لگے ، کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سچ بیان کیا ہے ؟ اُن کے سامنے اونٹ آئے ، تو ان مشرکین نے اُن لوگوں سے دریافت کیا : کیا تمہارا اونٹ گم ہوا تھا ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر دوسرے لوگوں سے ان مشرکین نے دریافت کیا : کیا تمہاری سرخ اونٹنی ( کی گردن ) ٹوٹ گئی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! مشرکین نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی پیالہ تھا ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے اسے رکھا تھا اور اُس میں سے کسی نے بھی نہیں پیا اور نہ ہی لوگوں نے اُسے زمین پر بہایا ( پھر بھی اُس میں سے پانی کم ہو گیا تھا ) تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان رکھا ، تو اُس دن اُن کا نام ” صدیق “ رکھا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ، جو متروک اور کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 239
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 432/24434»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا هِيَ حَقٌّ فَاعْقِلُوهَا : أَتَانِي رَجُلٌ فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَاسْتَتْبَعَنِي حَتَّى أَتَى بِي جَبَلًا طَوِيلًا وَعْرًا ، فَقَالَ لِي : ارْقَهْ ، فَقُلْتُ : لَا أَسْتَطِيعُ ، فَقَالَ : إِنِّي سَأُسَهِّلُهُ لَكَ ، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا رَقِيَتْ قَدَمَيَّ وَضَعْتُهَا عَلَى دَرَجَةٍ ، حَتَّى اسْتَوَيْنَا عَلَى سَوَاءِ الْجَبَلِ ، فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ وَنِسَاءٍ مُشَقَّقَةٍ أَشْدَاقُهُمْ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَقُولُونَ مَا لَا يَعْلَمُونَ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ وَنِسَاءٍ مُسَمَّرَةٍ أَعْيُنُهُمْ وَآذَانُهُمْ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُرُونَ أَعْيُنَهُمْ مَا لَا يَرَوْنَ ، وَيُسْمِعُونَ آذَانَهُمْ مَا لَا يَسْمَعُونَ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِنِسَاءٍ مُعَلَّقَاتٍ بِعَرَاقِيبِهِنَّ ، مُصَوَّبَةٍ رُءُوسُهُنَّ ، تَنْهَشُ ثُدْيَانَهُنَّ الْحَيَّاتُ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَمْنَعُونَ أَوْلَادَهُنَّ مِنْ أَلْبَانِهِنَّ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ وَنِسَاءٍ مُعَلَّقَاتٍ بِعَرَاقِيبِهِنَّ ، مُصَوَّبَةٍ رُءُوسُهُنَّ ، يَلْحَسْنَ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ وَحَمَأٍ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ وَنِسَاءٍ أَقْبَحِ شَيْءٍ مَنْظَرًا ، وَأَقْبَحِهِ لَبُوسًا ، وَأَنْتَنِهِ رِيحًا ، كَأَنَّمَا رِيحُهُمُ الْمَرَاحِيضُ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الزَّانُونَ وَالزُّنَاةُ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِمَوْتَى أَشَدِّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا ، وَأَنْتَنِهِ رِيحًا . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ مَوْتَى الْكُفَّارِ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ نَرَى دُخَانًا وَنَسْمَعُ عُوَاءً . قُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذِهِ جَهَنَّمُ فَدَعْهَا ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ نِيَامٍ تَحْتَ ظِلَالِ الشَّجَرِ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ مَوْتَى الْمُسْلِمِينَ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِجَوَارٍ وَغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بَيْنَ نَهْرَيْنِ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : ذُرِّيَّةُ الْمُؤْمِنِينَ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ أَحْسَنِ شَيْءٍ وَجْهًا ، وَأَحْسَنِهِ لَبُوسًا ، وَأَطْيَبِهِ رِيحًا ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْقَرَاطِيسُ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ وَالصَّالِحُونَ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَشْرَبُونَ خَمْرًا وَيُغَنُّونَ ، فَقُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : ذَاكَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، وَجَعْفَرٌ ، وَابْنُ رَوَاحَةَ ، فَمِلْتُ قِبَلَهُمْ ، فَقَالُوا : قُدْنَا لَكَ ، قُدْنَا لَكَ ، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا بِثَلَاثَةِ نَفَرٍ تَحْتَ الْعَرْشِ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : ذَاكَ أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ ، وَمُوسَى ، وَعِيسَى ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : صبح کی نماز کے بعد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے بتایا : میں نے ایسا خواب دیکھا ہے ، جو حق ہے ، تو تم لوگ اسے یاد کر لو ! ایک شخص میرے پاس آیا ، اُس نے میرا ہاتھ پکڑا ، اور مجھے ساتھ لے کر چل پڑا ، یہاں تک کہ وہ ایک اونچے اور سپاٹ پہاڑ کے پاس آیا ، اُس نے مجھ سے کہا: آپ اس پر چڑھیں ! میں نے کہا: میں ایسا نہیں کر سکتا ، اُس نے کہا: میں اس کام کو آپ کے لیے آسان کر دوں گا ، جب میں نے چڑھنا شروع کیا ، تو میرا پاؤں کسی سیڑھی پر پڑتا تھا ، یہاں تک کہ ہم لوگ پہاڑ کے اوپر پہنچ گئے ، ہم چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اس دوران ہمارے سامنے کچھ مرد اور عورتیں آئے جن کی باچھیں چیری ہوئی تھیں ، میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جو وہ باتیں بیان کرتے تھے ، جن کا انہیں علم نہیں ہوتا تھا ، پھر ہم چلتے رہے ، یہاں تک کہ ہمارے سامنے کچھ مرد اور عورتیں آئے ، جن کی آنکھیں اور کان جامد تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جو اپنی آنکھوں کو وہ چیزیں دکھاتے تھے ، جو انہوں نے دیکھی ہوئی نہیں ہوتی تھیں ( یعنی جھوٹے خواب بیان کرتے تھے ) اور اپنے کانوں کو وہ باتیں سناتے تھے ، جو انہوں نے سنی ہوئی نہیں ہوتی تھیں ( یعنی کوئی بات سننے کا جھوٹا دعوی کرتے تھے ) پھر ہم چلتے رہے ، یہاں تک کہ ہمارے سامنے کچھ عورتیں آئیں ، جو پنڈلیوں کے بل لٹکی ہوئی تھیں ، اُن کے سر نیچے کی طرف تھے اور اُن کی چھاتیوں کو سانپ نوچ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ فرشتے نے بتایا : یہ وہ عورتیں ہیں ، جو اپنی اولاد کو اپنا دودھ نہیں پلاتی تھیں ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) پھر ہم چلتے رہے ، ہمارے سامنے ایسے مرد اور عورتیں آئے ، جو پنڈلیوں کے بل لٹکے ہوئے تھے ، اُن کے سر نیچے کی طرف تھے ، وہ تھوڑا سا پانی اور کیچڑ چاٹ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اس نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جو روزہ رکھتے تھے اور افطاری کا وقت ہونے سے پہلے روزہ ختم کر دیتے تھے ، پھر ہم چلتے رہے ، ہمارے سامنے کچھ مرد اور عورتیں آئے جن کا منظر دیکھنے میں انتہائی برا تھا ، اُن کا لباس انتہائی برا تھا ، اُن کی بو انتہائی بدبودار تھی ، یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کی بو بیت الخلا کی بو ہو ، میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اس نے بتایا : یہ زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں ہیں ، پھر ہم چلتے رہے ، ہمارے سامنے کچھ مردے آئے جو بہت زیادہ پھولے ہوئے تھے اور انتہائی بدبودار تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ کفار کے مرے ہوئے لوگ ہیں ، پھر ہم چلتے رہے ، یہاں تک کہ ہم نے دھواں دیکھا اور چیخ و پکار سنی میں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ جہنم ہے ، آپ اسے رہنے دیں ، پھر ہم چلتے رہے ، ہمارے سامنے کچھ افراد آئے ، جو ایک درخت کے سائے میں سوئے ہوئے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ مسلمانوں کے مرحومین ہیں ، پھر ہم چلتے رہے ، تو ہمارے سامنے کچھ بچے اور بچیاں آئے ، جو دو نہروں کے درمیان کھیل رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ اہل ایمان کی اولاد ہیں ( یعنی مسلمانوں کے وہ بچے ہیں ، جو بچپن میں فوت ہو گئے تھے ) پھر ہم چلتے رہے ، تو ہمارے سامنے کچھ ایسے افراد آئے جن کے چہرے خوبصورت تھے ، لباس خوبصورت تھا ، خوشبو انتہائی پاکیزہ تھی ، اُن کے چہرے قرطاس ( اس سے مراد کاغذ بھی ہو سکتا ہے اور مصر کی مخصوص چادر بھی ہو سکتی ہے ) محسوس ہوتے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اس نے بتایا : یہ صدیقین ، شہداء اور صالحین ہیں ، پھر ہم چلتے رہے ، ہمارے سامنے تین افراد آئے ، جو مشروب پی رہے تھے اور کچھ ( ترنم کے ساتھ ) پڑھ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ زید بن حارثہ ، جعفر ( طیار ) اور ابن رواحہ ہیں ، میں اُن کی طرف جانے لگا ، تو اُنہوں ( یعنی فرشتوں ) نے کہا: ہم آپ کو لے کر چلتے ہیں ، ہم آپ کو لے کر چلتے ہیں ۔ میں نے اپنا سر اٹھایا ، تو عرش کے نیچے تین افراد موجود تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ آپ کے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ حضرات آپ کا انتظار کر رہے ہیں ( راوی کہتے ہیں : ) اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان سب پر نازل ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 240
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبرانى فى معجمه الكبيرة 7667 ، 7666»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْبُرَاقِ ، فَحَمَلَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَإِذَا بَلَغَ مَكَانًا مُطَأْطِئًا طَالَتْ يَدَاهَا وَقَصُرَتْ رِجْلَاهَا حَتَّى تَسْتَوِيَ بِهِ ، وَإِذَا بَلَغَ مَكَانًا مُرْتَفِعًا قَصُرَتْ يَدَاهَا وَطَالَتْ رِجْلَاهَا حَتَّى تَسْتَوِيَ ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ فَجَعَلَ يُنَادِيهِ : يَا مُحَمَّدُ ، إِلَى الطَّرِيقِ ، مَرَّتَيْنِ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : امْضِ وَلَا تَكَلَّمْ ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ ، فَقَالَ لَهُ : إِلَى الطَّرِيقِ يَا مُحَمَّدُ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : امْضِ وَلَا تُكَلِّمْ أَحَدًا ، ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ جَمْلَاءُ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا . قَالَ : تِلْكَ الْيَهُودُ دَعَتْكَ إِلَى دِينِهِمْ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي دَعَاكَ عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : تِلْكَ النَّصَارَى دَعَتْكَ إِلَى دِينِهِمْ ، هَلْ تَدْرِي مَنِ الْمَرْأَةُ الْحَسْنَاءُ الْجَمْلَاءُ ؟ قَالَ : تِلْكَ الدُّنْيَا دَعَتْكَ إِلَى نَفْسِهَا ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَإِذَا هُوَ بِنَفَرٍ جُلُوسٍ فَقَالُوا : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الْأُمِّيِّ ، فَإِذَا فِي النَّفَرِ الْجُلُوسِ شَيْخٌ ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ ، ثُمَّ سَأَلَهُ مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا مُوسَى ، ثُمَّ سَأَلَهُ مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَدَافَعُوا حَتَّى قَدَّمُوا مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَوْا بِأَشْرِبَةٍ ، فَاخْتَارَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللَّبَنَ ، قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ ، ثُمَّ قِيلَ لَهُ : قُمْ إِلَى رَبِّكَ فَقَامَ فَدَخَلَ ، ثُمَّ جَاءَ فَقِيلَ لَهُ : مَاذَا صَنَعْتَ ؟ فَقَالَ : فُرِضَتْ عَلَى أُمَّتِي خَمْسُونَ صَلَاةً ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ ; فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ هَذَا ، فَرَجَعَ ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : مَاذَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : رَدَّهَا إِلَى خَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ ، فَرَجَعَ ثُمَّ جَاءَ حَتَّى رَدَّهَا إِلَى خَمْسٍ ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ ، فَقَالَ : قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي مِمَّا أُرَاجِعُهُ ، وَقَدْ قَالَ لِي : " لَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتَهَا مَسْأَلَةٌ أُعْطِيكَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَمَعَ الْإِرْسَالِ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس براق لے کر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر سوار کروایا ، جب وہ کسی ہموار جگہ پر پہنچتا تھا ، تو اس کے ہاتھ لمبے ہو جاتے تھے اور ٹانگیں چھوٹی ہو جاتی تھیں ، اور جب کوئی بلند جگہ آتی تھی ، تو اس کے ہاتھ چھوٹے ہو جاتے تھے اور ٹانگیں لمبی ہو جاتی تھیں ، یہاں تک کہ وہ سیدھا ہو جاتا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دائیں طرف ایک شخص آیا ، اس نے آپ کو پکار کر کہا: اے سیدنا محمد ! اس طرف آئیے ! اُس نے دو مرتبہ یہ کہا: ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ چلتے رہیے اور کلام نہ کریں ! پھر راستے کے بائیں طرف ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص آیا ، اور اُس نے یہ کہا: اے سیدنا محمد ! اس طرف آئیے ! سیدنا جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ چلتے رہیے ! اور کسی کے ساتھ کلام نہ کریں ! پھر ایک حسین و جمیل عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا آپ جانتے ہیں کہ راستے کے دائیں طرف جو شخص تھا ، وہ کون تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : جی نہیں ! سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : وہ یہودی تھے ، جو آپ کو اپنے دین کی طرف دعوت دے رہے تھے ، پھر سیدنا جبرائیل نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ جانتے ہیں ، وہ شخص کون تھا ؟ جو راستے کے بائیں طرف آپ کو بلا رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا جبرائیل نے بتایا : وہ عیسائی تھے ، جو آپ کو اپنے دین کی طرف بلا رہے تھے کیا آپ جانتے ہیں ؟ وہ حسین و جمیل عورت کون تھی ؟ سیدنا جبرائیل نے بتایا : وہ دنیا تھی ، جو آپ کو اپنی طرف بلا رہی تھی ، پھر ہم چلتے رہے ، یہاں تک کہ ہم بیت المقدس آ گئے ، وہاں کچھ افراد بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے کہا: ” امی نبی “ کو خوش آمدید ! ان بیٹھے ہوئے لوگوں کے درمیان ایک عمر رسیدہ صاحب بھی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ تو سیدنا جبرائیل نے بتایا : یہ آپ کے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ سیدنا جبرائیل نے بتایا : یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں ، پھر نماز کھڑی ہوئی ، تو ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( امامت کے لئے ) آگے کر دیا ۔ پھر فرشتے کچھ مشروب لے کر آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کو اختیار کیا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ نے فطرت کی پیروی کی ہے ، پھر آپ سے کہا: گیا : آپ اُٹھ کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوں ، آپ اُٹھے اور اندر داخل ہو گئے ، جب آپ تشریف لائے تو آپ سے دریافت کیا گیا : آپ نے کیا کیا ( یعنی آپ کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت پر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے کہا: آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں اور اس سے اپنی امت کے لیے تخفیف مانگیں ! کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی ، آپ واپس تشریف لے گئے ، جب آپ آئے ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے دریافت کیا : کیا بنا ؟ آپ نے بتایا : پروردگار نے انہیں پچیس میں تبدیل کر دیا ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے کہا: آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جایئے اور اُس سے اپنی امت کے لئے تخفیف مانگیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس گئے ، پھر آئے ، یہاں تک کہ پروردگار نے جب پانچ نمازیں فرض کر دیں ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے کہا: آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں اور اس سے اپنی امت کے لئے تخفیف مانگیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بار ، بار جانے کی وجہ سے ، اب مجھے اپنے پروردگار سے حیا آتی ہے جبکہ پروردگار نے مجھے یہ فرما دیا ہے : ” میں نے جب بھی تمہیں واپس کیا ، تو ہر مرتبہ کے عوض میں ، ایک سوال کا حق دیتا ہوں جو میں پورا کروں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ابن ابولیلی کے حوالے سے یہ روایت اس سند کے ساتھ منقول ہے ، ایک تو اس میں ” ارسال “ پایا جاتا ہے دوسرا اس میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 241
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 3879»
وَعَنْ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ : لَمَّا عُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَاءُ ثُمَّ الْخَمْرُ ثُمَّ اللَّبَنُ ، أَخَذَ اللَّبَنَ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : أَصَبْتَ (أَخَذْتَ)الْفِطْرَةَ ، وَبِهَا غُذِّيَتْ كُلُّ دَابَّةٍ ، وَلَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوِيتَ وَغَوِيَتْ أُمَّتُكَ ، وَكُنْتَ مِنْ أَهْلِ هَذِهِ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْوَادِي الَّذِي يُقَالُ لَهُ : وَادِي جَهَنَّمَ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ يَلْتَهِبُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( معراج کی رات ) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانی ، پھر شراب اور پھر دودھ پیش کیا گیا ، تو آپ نے دودھ لے لیا ، سیدنا جبرائیل نے آپ سے کہا: آپ فطرت تک پہنچ گئے ہیں ، اسی کے ذریعے ہر جانور کو غذا دی جاتی ہے ، اگر آپ شراب لے لیتے ، تو آپ بھی گمراہ ہو جاتے ، اور آپ کی اُمت بھی گمراہ ہو جاتی ، اور پھر آپ نے یہاں کا رہنے والا ہو جانا تھا ، انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے ” وادی “ کی طرف اشارہ کیا ، جس کا نام وادی جہنم تھا ، میں نے اُس کی طرف نظر کی ، تو وہ بھڑک رہی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 242
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7313»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُرْطٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى ، فَلَمَّا رَجَعَ كَانَ بَيْنَ الْمَقَامِ وَزَمْزَمَ ، جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَطَارَا بِهِ حَتَّى بَلَغَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ : " سَمِعْتُ تَسْبِيحًا فِي السَّمَاوَاتِ الْعُلَى مَعَ تَسْبِيحٍ كَثِيرٍ ، سَبَّحَتِ السَّمَاوَاتُ الْعُلَى مِنْ ذِي الْمَهَابَةِ مُشْفِقَاتٍ لِذِي الْعُلَا بِمَا عَلَا سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مِسْكِينُ بْنُ مَيْمُونٍ ، ذَكَرَ لَهُ الذَّهَبِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : إِنَّهُ مُنْكَرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد اقصیٰ کی طرف سیر کروائی گئی ، جب آپ واپس آئے ، تو آپ مقام ابراہیم اور زم زم کے کنویں کے درمیان کھڑے ہوئے ، سیدنا جبرائیل آپ کے دائیں طرف تھے اور سیدنا میکائیل آپ کے بائیں طرف تھے ، یہ دونوں حضرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر پرواز کر گئے ، یہاں تک کہ آپ ساتوں آسمانوں تک پہنچ گئے ، جب آپ واپس تشریف لائے ، تو آپ نے بتایا : میں نے اوپر کے آسمانوں میں بہت سی تسبیح کے ہمراہ یہ تسبیح بھی سنی ، ” اوپر والے آسمان ہیبت والی ذات کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، بلندی والی ذات سے ڈرتے ہوئے ، اُس کے حوالے سے جو بلندی اُسے حاصل ہے ، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسکین بن میمون ہے ، امام ذہبی نے اس کے حوالے سے یہ روایت ذکر کی ہے اور یہ کہا: ہے : یہ منکر ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 243
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منکر۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 3742»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَمَّا أُسْرِيَ بِي ، انْتَهَيْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، فَإِذَا نَبِقُهَا أَمْثَالُ الْقِلَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ زَيْنَبُ بِنْتُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جب مجھے سیر کروائی گئی ، تو میں سدرۃ المنتہی تک پہنچا ، تو اُس کے پتے گھڑوں کی مانند ( یعنی بڑے ) تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک خاتون زینب بنت سلیمان بن علی بن عبداللہ بن عباس ہیں ، میں نے کسی کو اُن کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 244
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى قَصْرٍ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ يَتَلَأْلَأُ نُورًا ، وَأُعْطِيتُ ثَلَاثًا : إِنَّكَ سَيِّدُ الْمُرْسَلِينَ ، وَإِمَامُ الْمُتَّقِينَ ، وَرَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَقَائِدُ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ هِلَالٌ الصَّيْرَفِيُّ عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ . لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس رات مجھے سیر کروائی گئی ، تو میں موتیوں کے بنے ہوئے ایک محل تک آیا ، جس کا نور جھلملا رہا تھا ، مجھے تین چیزیں دی گئیں ( اور یہ کہا: گیا : ) تم تمام رسولوں کے سردار اور تمام پرہیز گار لوگوں کے امام ہو ، تمام جہانوں کے پروردگار کے رسول ہو ، اور چمکدار پیشانی والوں کے قائد ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اس کو ہلال صیرفی نے ابوکثیر انصاری سے نقل کیا ہے ، میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 245
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 60»
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : " مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِالْمَلَأِ الْأَعْلَى وَجِبْرِيلُ كَالْحِلْسِ الْبَالِي مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رحمۃ علیہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” جس رات مجھے سیر کروائی گئی ، ( اُس رات میں ) میں فرشتوں کے گروہ کے پاس سے گزرا ، تو جبرائیل ، اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے وہ پرانی چادر کی مانند تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 246
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 4679»