حدیث نمبر: 238
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَيْنَا أَنَا قَاعِدٌ إِذْ جَاءَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَكَزَ بَيْنَ كَتِفَيَّ ، فَقُمْتُ إِلَى شَجَرَةٍ فِيهَا كَوَكْرَيِ الطَّيْرِ ، فَقَعَدَ فِي أَحَدِهِمَا ، وَقَعَدْتُ فِي الْآخَرِ ، فَسَمَتْ وَارْتَفَعَتْ حَتَّى سَدَّتِ الْخَافِقَيْنِ ، وَأَنَا أُقَلِّبُ طَرْفِي ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَمَسَّ السَّمَاءَ لَمَسِسْتُ ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ جِبْرِيلُ كَأَنَّهُ حِلْسٌ لَاطِئٌ ، فَعَرَفْتُ فَضْلَ عِلْمِهِ بِاللَّهِ عَلَيَّ ، وَفُتِحَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ ، وَرَأَيْتُ النُّورَ الْأَعْظَمَ ، وَإِذَا دُونَ الْحِجَابِ رَفْرَفَةُ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ ، فَأَوْحَى إِلَيَّ مَا شَاءَ أَنْ يُوحِيَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران جبرائیل آ گئے اور انہوں نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ مارا ، تو میں اُٹھ کر ایک درخت کی طرف آیا ، جس میں پرندوں کے گھونسلوں کی طرح کی دو چیزیں موجود تھیں ، ان میں سے ایک میں وہ بیٹھ گئے اور دوسرے میں ، میں بیٹھ گیا ، وہ روانہ ہوا اور بلند ہونا شروع ہوا ، یہاں تک کہ اس نے زمین و آسمان کے درمیان کا فاصلہ طے کر لیا ، میں اپنی پلک جھپک سکتا تھا اور اگر میں آسمان کو چھونا چاہتا ، تو چھو سکتا تھا ، جبرائیل میری طرف متوجہ ہوئے ، تو اُن کی حالت زمین پر بچھائی جانے والی پرانی چادر کی طرح تھی ، تو مجھے اندازہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں انہیں علم کے حوالے سے مجھ پر فضیلت حاصل ہے ، پھر آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا گیا ، تو میں نے سب سے عظیم نور دیکھا اور وہاں حجاب سے پہلے موتیوں اور یاقوت کا بنا ہوا تخت تھا ، پھر اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا اُس نے وہ چیز میری طرف وحی کی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 238
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6214 ، اورده المؤلف فى كشف الاستار 58»