مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ ، وَرَأَيْتُ النُّورَ الْأَعْظَمَ ، وَإِذَا دُونَ الْحِجَابِ رَفْرَفَةُ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ ، فَأَوْحَى إِلَيَّ مَا شَاءَ أَنْ يُوحِيَ " . باب: واقعہ معراج کا بیان
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : بَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ فِي بَيْتِي ، فَفَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَامْتَنَعَ مِنِّي النَّوْمُ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ عَرَضَ لَهُ بَعْضُ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَتَانِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَخْرَجَنِي ، فَإِذَا عَلَى الْبَيْتِ دَابَّةٌ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ ، فَحَمَلَنِي عَلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَأَرَانِي إِبْرَاهِيمَ يُشْبِهُ خَلْقُهُ خَلْقِي ، وَيُشْبِهُ خُلُقِي خُلُقَهُ ، وَأَرَانِي مُوسَى آدَمَ ، طَوِيلًا ، سَبْطَ الشَّعْرِ ، يُشَبَّهُ بِرِجَالِ أَزْدِ شَنُوءَةَ ، وَأَرَانِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَبْعَةً ، أَبْيَضَ ، يَضْرِبُ إِلَى الْحُمْرَةِ ، شَبَّهْتُهُ بِعُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ ، وَأَرَانِيَ الدَّجَّالَ مَمْسُوحَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى ، شَبَّهْتُهُ بِقَطَنِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَخَرُجَ إِلَى قُرَيْشٍ فَأُخْبِرُهُمْ بِمَا رَأَيْتُ " فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ فَقُلْتُ : إِنِّي أُذَكِّرُكَ اللَّهَ ، إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا يُكَذِّبُونَكَ ، وَيُنْكِرُونَ مَقَالَتَكَ ، فَأَخَافُ أَنْ يَسْطُوا بِكَ . قَالَ : فَضَرَبَ ثَوْبَهُ مِنْ يَدِي ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ ، فَأَخْبَرَهُمْ مَا أَخْبَرَنِي ، فَقَامَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَوْ كُنْتَ شَابًّا كَمَا كُنْتَ ، مَا تَكَلَّمْتَ بِمَا تَكَلَّمْتَ بِهِ وَأَنْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ مَرَرْتَ بِإِبِلٍ لَنَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَاللَّهِ ، قَدْ وَجَدْتُهُمْ ، قَدْ أَضَلُّوا بَعِيرًا لَهُمْ فَهُمْ فِي طَلَبِهِ " . قَالَ : فَهَلْ مَرَرْتَ بِإِبِلٍ لِبَنِي فُلَانٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَجَدْتُهُمْ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، قَدِ انْكَسَرَتْ لَهُمْ نَاقَةٌ حَمْرَاءُ ، فَوَجَدْتُهُمْ وَعِنْدَهُمْ قَصْعَةٌ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبْتُ مَا فِيهَا " . قَالُوا : أَخْبِرْنَا مَا عِدَّتُهَا وَمَا فِيهَا مِنَ الرُّعَاةِ ؟ قَالَ : " قَدْ كُنْتُ عَنْ عِدَّتِهَا مَشْغُولًا " فَقَامَ فَأُتِيَ بِالْإِبِلِ فَعَدَّهَا وَعَلِمَ مَا فِيهَا مِنَ الرُّعَاةِ ، ثُمَّ أَتَى قُرَيْشًا فَقَالَ لَهُمْ : " سَأَلْتُمُونِي عَنْ إِبِلِ بَنِي فُلَانٍ ، فَهِيَ كَذَا وَكَذَا ، وَفِيهَا مِنَ الرِّعَاءِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ ، وَسَأَلْتُمُونِي عَنْ إِبِلِ بَنِي فُلَانٍ ، فَهِيَ كَذَا وَكَذَا ، وَفِيهَا مِنَ الرِّعَاءِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ ، وَهِيَ مُصَبِّحَتُكُمْ بِالْغَدَاةِ عَلَى الثَّنِيَّةِ " . قَالَ : فَقَعَدُوا إِلَى الثَّنِيَّةِ يَنْظُرُونَ ، أَصَدَقَهُمْ ، فَاسْتَقْبَلُوا الْإِبِلَ فَسَأَلُوا : هَلْ ضَلَّ لَكُمْ بَعِيرٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَسَأَلُوا الْآخَرَ : هَلِ انْكَسَرَتْ لَكُمْ نَاقَةٌ حَمْرَاءُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالُوا : فَهَلْ كَانَ عِنْدَكُمْ قَصْعَةٌ ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا وَاللَّهِ وَضَعْتُهَا فَمَا شَرِبَهَا أَحَدٌ ، وَلَا هَرَاقُوهُ فِي الْأَرْضِ ، وَصَدَّقَهُ أَبُو بَكْرٍ وَآمَنَ بِهِ ، فَسُمِّيَ يَوْمَئِذٍ الصِّدِّيقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ . ¤سیده ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی ، اُس رات آپ میرے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے ، رات کے وقت میں نے آپ کو غیر موجود پایا ، تو میں اس اندیشے کے تحت ساری رات سو نہیں سکی ، کہ کہیں قریش میں سے کسی نے آپ کو نقصان نہ پہنچا دیا ہو ( جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا : جبرائیل میرے پاس آئے ، اُنہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے باہر لے گئے ، گھر کے باہر ایک جانور موجود تھا ، جو خچر سے کچھ چھوٹا اور گدھے سے کچھ بڑا تھا ، جبرائیل نے مجھے اس پر سوار کروایا اور پھر روانہ ہو گئے ، یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچ گئے ، انہوں نے مجھے سیدنا ابراہیم علیہ السلام دکھائے ، اُن کی ظاہری شکل و صورت میری ظاہری شکل و صورت کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے ، اور میرے اخلاق ان کے اخلاق کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں ، جبرائیل نے مجھے سیدنا موسیٰ علیہ السلام دکھائے ، جو گندمی رنگت کے طویل القامت شخص تھے ، اُن کے بال گھنگریالے تھے ، وہ ازدشنوہ قبیلے کے افراد کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے ، جبرئیل نے مجھے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام بھی دکھائے تھے ، وہ درمیانے قد اور سفید رنگ کے مالک تھے ُ، جو سرخی مائل تھا ، میں انہیں عروہ بن مسعود ثقفی کے مشابہ قرار دے سکتا ہوں ، جبرائیل نے مجھے دجال بھی دکھایا ، اس کی دائیں آنکھ نہیں تھی ، میں اسے قطن بن عبدالعزیٰ کے مشابہہ قرار دے سکتا ہوں ، ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ) اب میں قریش کی طرف جانے لگا ہوں اور میں نے جو کچھ دیکھا ہے ، اُنہیں اس کے بارے میں بتاؤں گا ( سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کی : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں ، کہ اگر آپ اپنی قوم کے پاس گئے ، تو وہ لوگ آپ کو جھوٹا قرار دیں گے اور آپ کی بات کا انکار کریں گے ، تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ آپ کو نقصان پہنچائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ سے اپنا کپڑا چھڑوایا ، اور ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی وہی بات بتائی ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی تھی ، تو جبیر بن مطعم کھڑا ہوا ، اور بولا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کاش کہ آپ ویسے ہی جوان ہوتے ، جیسے پہلے تھے ، اور آپ نے ہمارے درمیان جو کچھ بیان کیا ہے ، جبکہ آپ ہمارے درمیان تھے ۔
حاضرین میں سے ایک شخص بولا: اے سیدنا محمد ! کیا آپ فلاں مقام پر ہمارے اونٹوں کے پاس سے بھی گزرے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں نے اُن لوگوں کو پایا کہ ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا اور وہ لوگ اُسے تلاش کر رہے تھے ، اس شخص نے دریافت کیا : کیا آپ بنوفلاں کے اونٹوں کے پاس سے بھی گزرے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے اُن لوگوں کو فلاں ، فلاں مقام پر پایا تھا ، اُن کی سرخ اونٹنی ( کر گردن ) ٹوٹ گئی تھی ، میں نے اُن لوگوں کو پایا کہ ان کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا ، میں نے اُس پانی کو پیا تھا ، اُن لوگوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بتائیں کہ ان ( اونٹوں ) کی تعداد کتنی تھی ؟ اُن کے ساتھ چرواہے کتنے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اُس وقت تو میں نے اُن کی گنتی نہیں کی تھی ، لیکن پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، تو آپ کے سامنے وہ منظر آ گیا ، آپ نے ان اونٹوں کی گنتی کی ، اور ان کے ہمراہ موجود چرواہوں کا علم حاصل کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے پاس تشریف لائے ، آپ نے اُن سے فرمایا : تم نے مجھ سے بنو فلاں کے اونٹوں کے بارے میں دریافت کیا تھا ، تو وہ اتنے ، اتنے ہیں ، اور ان کے ساتھ اتنے چرواہے ہیں ، جو فلاں اور فلاں ہیں ، تم نے مجھ سے بنو فلاں کے اونٹوں کے بارے میں دریافت کیا تھا ، تو وہ اتنے ہیں اور ان کے ساتھ اتنے چرواہے ہیں ، ابوقحافہ کا بیٹا ہے اور فلاں اور فلاں ہے ، اور وہ لوگ کل صبح گھاٹی کے پاس تمہارے سامنے آ جائیں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ لوگ اُس گھاٹی کے پاس بیٹھ کر جائزہ لینے لگے ، کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سچ بیان کیا ہے ؟ اُن کے سامنے اونٹ آئے ، تو ان مشرکین نے اُن لوگوں سے دریافت کیا : کیا تمہارا اونٹ گم ہوا تھا ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر دوسرے لوگوں سے ان مشرکین نے دریافت کیا : کیا تمہاری سرخ اونٹنی ( کی گردن ) ٹوٹ گئی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! مشرکین نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی پیالہ تھا ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے اسے رکھا تھا اور اُس میں سے کسی نے بھی نہیں پیا اور نہ ہی لوگوں نے اُسے زمین پر بہایا ( پھر بھی اُس میں سے پانی کم ہو گیا تھا ) تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان رکھا ، تو اُس دن اُن کا نام ” صدیق “ رکھا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ، جو متروک اور کذاب ہے ۔