حدیث نمبر: 240
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا هِيَ حَقٌّ فَاعْقِلُوهَا : أَتَانِي رَجُلٌ فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَاسْتَتْبَعَنِي حَتَّى أَتَى بِي جَبَلًا طَوِيلًا وَعْرًا ، فَقَالَ لِي : ارْقَهْ ، فَقُلْتُ : لَا أَسْتَطِيعُ ، فَقَالَ : إِنِّي سَأُسَهِّلُهُ لَكَ ، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا رَقِيَتْ قَدَمَيَّ وَضَعْتُهَا عَلَى دَرَجَةٍ ، حَتَّى اسْتَوَيْنَا عَلَى سَوَاءِ الْجَبَلِ ، فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ وَنِسَاءٍ مُشَقَّقَةٍ أَشْدَاقُهُمْ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَقُولُونَ مَا لَا يَعْلَمُونَ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ وَنِسَاءٍ مُسَمَّرَةٍ أَعْيُنُهُمْ وَآذَانُهُمْ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُرُونَ أَعْيُنَهُمْ مَا لَا يَرَوْنَ ، وَيُسْمِعُونَ آذَانَهُمْ مَا لَا يَسْمَعُونَ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِنِسَاءٍ مُعَلَّقَاتٍ بِعَرَاقِيبِهِنَّ ، مُصَوَّبَةٍ رُءُوسُهُنَّ ، تَنْهَشُ ثُدْيَانَهُنَّ الْحَيَّاتُ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَمْنَعُونَ أَوْلَادَهُنَّ مِنْ أَلْبَانِهِنَّ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ وَنِسَاءٍ مُعَلَّقَاتٍ بِعَرَاقِيبِهِنَّ ، مُصَوَّبَةٍ رُءُوسُهُنَّ ، يَلْحَسْنَ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ وَحَمَأٍ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ وَنِسَاءٍ أَقْبَحِ شَيْءٍ مَنْظَرًا ، وَأَقْبَحِهِ لَبُوسًا ، وَأَنْتَنِهِ رِيحًا ، كَأَنَّمَا رِيحُهُمُ الْمَرَاحِيضُ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الزَّانُونَ وَالزُّنَاةُ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِمَوْتَى أَشَدِّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا ، وَأَنْتَنِهِ رِيحًا . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ مَوْتَى الْكُفَّارِ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ نَرَى دُخَانًا وَنَسْمَعُ عُوَاءً . قُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذِهِ جَهَنَّمُ فَدَعْهَا ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ نِيَامٍ تَحْتَ ظِلَالِ الشَّجَرِ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ مَوْتَى الْمُسْلِمِينَ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِجَوَارٍ وَغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بَيْنَ نَهْرَيْنِ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : ذُرِّيَّةُ الْمُؤْمِنِينَ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ أَحْسَنِ شَيْءٍ وَجْهًا ، وَأَحْسَنِهِ لَبُوسًا ، وَأَطْيَبِهِ رِيحًا ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْقَرَاطِيسُ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ وَالصَّالِحُونَ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَشْرَبُونَ خَمْرًا وَيُغَنُّونَ ، فَقُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : ذَاكَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، وَجَعْفَرٌ ، وَابْنُ رَوَاحَةَ ، فَمِلْتُ قِبَلَهُمْ ، فَقَالُوا : قُدْنَا لَكَ ، قُدْنَا لَكَ ، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا بِثَلَاثَةِ نَفَرٍ تَحْتَ الْعَرْشِ . قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : ذَاكَ أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ ، وَمُوسَى ، وَعِيسَى ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : صبح کی نماز کے بعد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے بتایا : میں نے ایسا خواب دیکھا ہے ، جو حق ہے ، تو تم لوگ اسے یاد کر لو ! ایک شخص میرے پاس آیا ، اُس نے میرا ہاتھ پکڑا ، اور مجھے ساتھ لے کر چل پڑا ، یہاں تک کہ وہ ایک اونچے اور سپاٹ پہاڑ کے پاس آیا ، اُس نے مجھ سے کہا: آپ اس پر چڑھیں ! میں نے کہا: میں ایسا نہیں کر سکتا ، اُس نے کہا: میں اس کام کو آپ کے لیے آسان کر دوں گا ، جب میں نے چڑھنا شروع کیا ، تو میرا پاؤں کسی سیڑھی پر پڑتا تھا ، یہاں تک کہ ہم لوگ پہاڑ کے اوپر پہنچ گئے ، ہم چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اس دوران ہمارے سامنے کچھ مرد اور عورتیں آئے جن کی باچھیں چیری ہوئی تھیں ، میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جو وہ باتیں بیان کرتے تھے ، جن کا انہیں علم نہیں ہوتا تھا ، پھر ہم چلتے رہے ، یہاں تک کہ ہمارے سامنے کچھ مرد اور عورتیں آئے ، جن کی آنکھیں اور کان جامد تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جو اپنی آنکھوں کو وہ چیزیں دکھاتے تھے ، جو انہوں نے دیکھی ہوئی نہیں ہوتی تھیں ( یعنی جھوٹے خواب بیان کرتے تھے ) اور اپنے کانوں کو وہ باتیں سناتے تھے ، جو انہوں نے سنی ہوئی نہیں ہوتی تھیں ( یعنی کوئی بات سننے کا جھوٹا دعوی کرتے تھے ) پھر ہم چلتے رہے ، یہاں تک کہ ہمارے سامنے کچھ عورتیں آئیں ، جو پنڈلیوں کے بل لٹکی ہوئی تھیں ، اُن کے سر نیچے کی طرف تھے اور اُن کی چھاتیوں کو سانپ نوچ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ فرشتے نے بتایا : یہ وہ عورتیں ہیں ، جو اپنی اولاد کو اپنا دودھ نہیں پلاتی تھیں ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) پھر ہم چلتے رہے ، ہمارے سامنے ایسے مرد اور عورتیں آئے ، جو پنڈلیوں کے بل لٹکے ہوئے تھے ، اُن کے سر نیچے کی طرف تھے ، وہ تھوڑا سا پانی اور کیچڑ چاٹ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اس نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جو روزہ رکھتے تھے اور افطاری کا وقت ہونے سے پہلے روزہ ختم کر دیتے تھے ، پھر ہم چلتے رہے ، ہمارے سامنے کچھ مرد اور عورتیں آئے جن کا منظر دیکھنے میں انتہائی برا تھا ، اُن کا لباس انتہائی برا تھا ، اُن کی بو انتہائی بدبودار تھی ، یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کی بو بیت الخلا کی بو ہو ، میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اس نے بتایا : یہ زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں ہیں ، پھر ہم چلتے رہے ، ہمارے سامنے کچھ مردے آئے جو بہت زیادہ پھولے ہوئے تھے اور انتہائی بدبودار تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ کفار کے مرے ہوئے لوگ ہیں ، پھر ہم چلتے رہے ، یہاں تک کہ ہم نے دھواں دیکھا اور چیخ و پکار سنی میں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ جہنم ہے ، آپ اسے رہنے دیں ، پھر ہم چلتے رہے ، ہمارے سامنے کچھ افراد آئے ، جو ایک درخت کے سائے میں سوئے ہوئے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ مسلمانوں کے مرحومین ہیں ، پھر ہم چلتے رہے ، تو ہمارے سامنے کچھ بچے اور بچیاں آئے ، جو دو نہروں کے درمیان کھیل رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ اہل ایمان کی اولاد ہیں ( یعنی مسلمانوں کے وہ بچے ہیں ، جو بچپن میں فوت ہو گئے تھے ) پھر ہم چلتے رہے ، تو ہمارے سامنے کچھ ایسے افراد آئے جن کے چہرے خوبصورت تھے ، لباس خوبصورت تھا ، خوشبو انتہائی پاکیزہ تھی ، اُن کے چہرے قرطاس ( اس سے مراد کاغذ بھی ہو سکتا ہے اور مصر کی مخصوص چادر بھی ہو سکتی ہے ) محسوس ہوتے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اس نے بتایا : یہ صدیقین ، شہداء اور صالحین ہیں ، پھر ہم چلتے رہے ، ہمارے سامنے تین افراد آئے ، جو مشروب پی رہے تھے اور کچھ ( ترنم کے ساتھ ) پڑھ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ زید بن حارثہ ، جعفر ( طیار ) اور ابن رواحہ ہیں ، میں اُن کی طرف جانے لگا ، تو اُنہوں ( یعنی فرشتوں ) نے کہا: ہم آپ کو لے کر چلتے ہیں ، ہم آپ کو لے کر چلتے ہیں ۔ میں نے اپنا سر اٹھایا ، تو عرش کے نیچے تین افراد موجود تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ آپ کے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ حضرات آپ کا انتظار کر رہے ہیں ( راوی کہتے ہیں : ) اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان سب پر نازل ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 240
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبرانى فى معجمه الكبيرة 7667 ، 7666»