حدیث نمبر: 242
وَعَنْ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ : لَمَّا عُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَاءُ ثُمَّ الْخَمْرُ ثُمَّ اللَّبَنُ ، أَخَذَ اللَّبَنَ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : أَصَبْتَ (أَخَذْتَ)الْفِطْرَةَ ، وَبِهَا غُذِّيَتْ كُلُّ دَابَّةٍ ، وَلَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوِيتَ وَغَوِيَتْ أُمَّتُكَ ، وَكُنْتَ مِنْ أَهْلِ هَذِهِ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْوَادِي الَّذِي يُقَالُ لَهُ : وَادِي جَهَنَّمَ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ يَلْتَهِبُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( معراج کی رات ) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانی ، پھر شراب اور پھر دودھ پیش کیا گیا ، تو آپ نے دودھ لے لیا ، سیدنا جبرائیل نے آپ سے کہا: آپ فطرت تک پہنچ گئے ہیں ، اسی کے ذریعے ہر جانور کو غذا دی جاتی ہے ، اگر آپ شراب لے لیتے ، تو آپ بھی گمراہ ہو جاتے ، اور آپ کی اُمت بھی گمراہ ہو جاتی ، اور پھر آپ نے یہاں کا رہنے والا ہو جانا تھا ، انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے ” وادی “ کی طرف اشارہ کیا ، جس کا نام وادی جہنم تھا ، میں نے اُس کی طرف نظر کی ، تو وہ بھڑک رہی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 242
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7313»