حدیث نمبر: 243
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُرْطٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى ، فَلَمَّا رَجَعَ كَانَ بَيْنَ الْمَقَامِ وَزَمْزَمَ ، جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَطَارَا بِهِ حَتَّى بَلَغَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ : " سَمِعْتُ تَسْبِيحًا فِي السَّمَاوَاتِ الْعُلَى مَعَ تَسْبِيحٍ كَثِيرٍ ، سَبَّحَتِ السَّمَاوَاتُ الْعُلَى مِنْ ذِي الْمَهَابَةِ مُشْفِقَاتٍ لِذِي الْعُلَا بِمَا عَلَا سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مِسْكِينُ بْنُ مَيْمُونٍ ، ذَكَرَ لَهُ الذَّهَبِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : إِنَّهُ مُنْكَرٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد اقصیٰ کی طرف سیر کروائی گئی ، جب آپ واپس آئے ، تو آپ مقام ابراہیم اور زم زم کے کنویں کے درمیان کھڑے ہوئے ، سیدنا جبرائیل آپ کے دائیں طرف تھے اور سیدنا میکائیل آپ کے بائیں طرف تھے ، یہ دونوں حضرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر پرواز کر گئے ، یہاں تک کہ آپ ساتوں آسمانوں تک پہنچ گئے ، جب آپ واپس تشریف لائے ، تو آپ نے بتایا : میں نے اوپر کے آسمانوں میں بہت سی تسبیح کے ہمراہ یہ تسبیح بھی سنی ، ” اوپر والے آسمان ہیبت والی ذات کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، بلندی والی ذات سے ڈرتے ہوئے ، اُس کے حوالے سے جو بلندی اُسے حاصل ہے ، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسکین بن میمون ہے ، امام ذہبی نے اس کے حوالے سے یہ روایت ذکر کی ہے اور یہ کہا: ہے : یہ منکر ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 243
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منکر۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 3742»