عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أُسْرِيَ بِكَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِكَ ؟ قَالَ : " صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي صَلَاةَ الْعَتَمَةِ بِمَكَّةَ مُعْتِمًا ، فَأَتَانِي جِبْرِيلُ بِدَابَّةٍ بَيْضَاءَ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ ، فَاسْتَصْعَبَ عَلَيَّ ، فَأَدَارَهَا بِأُذُنِهَا حَتَّى حَمَلَنِي عَلَيْهَا ، فَانْطَلَقَتْ تَهْوِي بِنَا ، تَضَعُ حَافِرَهَا حَيْثُ أَدْرَكَ طَرْفُهَا ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى أَرْضٍ ذَاتِ نَخْلٍ . قَالَ : انْزِلْ ، فَنَزَلْتُ ، ثُمَّ قَالَ : صَلِّ ، فَصَلَّيْتُ ، ثُمَّ رَكِبْنَا . قَالَ لِي : أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ ؟ قُلْتُ : اللَّهُ أَعْلَمُ . قَالَ : صَلَّيْتَ بِيَثْرِبَ ، صَلَّيْتَ بِطَيْبَةَ . ثُمَّ انْطَلَقَتْ تَهْوِي ، تَضَعُ حَافِرَهَا حَيْثُ أَدْرَكَ طَرْفُهَا ، حَتَّى بَلَغْنَا أَرْضًا بَيْضَاءَ . قَالَ لِي : انْزِلْ ، فَنَزَلْتُ ، ثُمَّ قَالَ : صَلِّ فَصَلَّيْتُ ، ثُمَّ رَكِبْنَا . قَالَ : أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ ؟ قُلْتُ : اللَّهُ أَعْلَمُ وَرَسُولُهُ . قَالَ : صَلَّيْتَ بِمَدْيَنَ صَلَّيْتَ عِنْدَ شَجَرَةِ مُوسَى . ثُمَّ انْطَلَقَتْ تَهْوِي بِنَا تَضَعُ حَافِرَهَا - أَوْ يَقَعُ حَافِرُهَا - حَيْثُ أَدْرَكَ طَرْفُهَا ، ثُمَّ ارْتَفَعْنَا . قَالَ : انْزِلْ ، فَنَزَلْتُ ، فَقَالَ : صَلِّ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَكِبْنَا فَقَالَ : أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ ؟ قُلْتُ : اللَّهُ أَعْلَمُ ! قَالَ : صَلَّيْتَ بِبَيْتِ لَحْمٍ حَيْثُ وُلِدَ عِيسَى الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ . ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ مِنْ بَابِهَا الثَّامِنِ ، فَأَتَى قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ فَرَبَطَ دَابَّتَهُ ، وَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ مِنْ بَابٍ فِيهِ تَمْثُلُ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ، فَصَلَّيْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ - قَالَ ابْنُ زِبْرِيقٍ - ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ عَسَلٌ ، أُرْسِلَ إِلَيَّ بِهِمَا جَمِيعًا ، فَعَدَلْتُ بَيْنَهُمَا ، ثُمَّ هَدَانِيَ اللَّهُ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ ، فَشَرِبْتُ حَتَّى قَدَعْتُ بِهِ جَبِينِي ، وَبَيْنَ يَدَيْ شَيْخٍ مُتَّكِئٍ ، فَقَالَ : أَخَذَ صَاحِبُكَ الْفِطْرَةَ ، أَوْ قَالَ : بِالْفِطْرَةِ . ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْتُ الْوَادِيَ الَّذِي بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا جَهَنَّمُ تَنْكَشِفُ عَنْ مِثْلِ الزَّرَابِيِّ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ وَجَدْتَهَا ؟ قَالَ : " مِثْلُ - وَذَكَرَ شَيْئًا ذَهَبَ عَنِّي - . ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيرٍ لِقُرَيْشٍ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا قَدْ أَضَلُّوا بَعِيرًا لَهُمْ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : هَذَا صَوْتُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَيْتُ أَصْحَابِي قَبْلَ الصُّبْحِ بِمَكَّةَ ، فَأَتَانِي أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ كُنْتَ اللَّيْلَةَ ، فَقَدِ الْتَمَسْتُكَ فِي مَكَانِكَ فَلَمْ أَجِدْكَ ؟ قَالَ : إِنِّي أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ اللَّيْلَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، فَصِفْهُ لِي ، فَفُتِحَ لِي شِرَاكٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، لَا يَسْأَلُونَنِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ عَنْهُ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : انْظُرُوا إِلَى ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ اللَّيْلَةَ ! قَالَ : " نَعَمْ ، وَقَدْ مَرَرْتُ بِعِيرٍ لَكُمْ فِي مَكَانِ كَذَا ، قَدْ أَضَلُّوا بَعِيرًا لَهُمْ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، وَأَنَا مُسَيِّرُهُمْ لَكُمْ : يَنْزِلُونَ بِكَذَا ، ثُمَّ يَأْتُونَكُمْ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، يَقَدُمُهُمْ جَمَلٌ آدَمُ عَلَيْهِ مَسْحٌ أَسْوَدُ وَغِرَازَتَانِ سَوْدَاوَتَانِ " ، فَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ أَشْرَفَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ ، حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ أَقْبَلَتِ الْعِيرُ يَقْدُمُهُمْ ذَلِكَ الْجَمَلُ كَالَّذِي وَصَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ فِيهِ : " قَدْ أَخَذَ صَاحِبُكَ الْفِطْرَةَ ، وَإِنَّهُ لَمَهْدِيٌّ . وَقَالَ فِي وَصْفِ جَهَنَّمَ كَيْفَ وَجَدْتَهَا ؟ قَالَ : مِثْلَ الْحَمَّةِ السُّخْنَةِ " . وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ فِيهِ : " قَدْ أَخَذَ صَاحِبُكَ الْفِطْرَةَ ، وَإِنَّهُ لَمَهْدِيٌّ . وَقَالَ فِي وَصْفِ جَهَنَّمَ كَيْفَ وَجَدْتَهَا ؟ قَالَ : مِثْلَ الْحَمَّةِ السُّخْنَةِ " . وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ .
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جس رات آپ کو سیر کروائی گئی ، تو وہ سیر کیسے کروائی گئی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مکہ میں عشاء کی نماز ادا کی ، اُس کے بعد جبرائیل میرے پاس سفید رنگ کا ایک جانور لے کر آئے ، جو گدھے سے کچھ بڑا تھا اور خچر سے کچھ چھوٹا تھا ، اُس ( جانور ) نے میرے سامنے شوخی کی ، تو جبرائیل نے اُس کے کان مروڑے ، یہاں تک کہ میں اُس پر سوار ہو گیا ، تو وہ ہمیں لے کر روانہ ہوا ، جس کا پاؤں وہاں پڑتا تھا جہاں تک نگاہ کام کرتی تھی ، یہاں تک کہ ہم ایک سرزمین پر پہنچے ، جہاں کھجوروں کے بہت سے باغات تھے ، جبرائیل نے کہا: آپ اُتریں ، میں اتر گیا ، پھر انہوں نے کہا: آپ نماز ادا کیجئے ! میں نے نماز ادا کی ، پھر ہم سوار ہو گئے ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : کیا آپ جانتے ہیں ، آپ نے کہاں نماز ادا کی ہے ؟ میں نے جواب دیا : اللہ بہتر جانتا ہے ، انہوں نے بتایا : آپ نے یثرب میں نماز ادا کی ہے ، آپ نے ” طیبہ “ میں نماز ادا کی ہے ۔ پھر وہ جانور ہمیں لے کر روانہ ہوا ، اس کا ایک قدم وہاں پڑتا تھا ، جہاں تک اس کی نگاہ جاتی تھی ، یہاں تک کہ ہم لوگ ایک سفید زمین تک پہنچ گئے ، تو جبریل نے مجھ سے کہا: آپ اُتریں ! میں اُتر گیا ، پھر انہوں نے کہا: آپ نماز ادا کیجئے ! میں نے نماز ادا کی ، پھر ہم سوار ہوئے ، انہوں نے دریافت کیا : کیا آپ جانتے ہیں ۔ آپ نے کہاں نماز ادا کی ہے ؟ میں نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ( شاید یہاں ” اُس کا رسول “ کے الفاظ اضافی ہیں ، یہ اضافہ کاتب یا کمپوزر کی غلطی ہو سکتا ہے ، کیونکہ اس سے پہلے کہ جملے میں ، اور اس کے بعد والے جملے میں صرف یہ الفاظ ہیں : ” اللہ بہتر جانتا ہے “ ) جبرائیل نے بتایا : آپ نے ” مدین “ میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام والے درخت کے پاس نماز ادا کی ہے ، پھر وہ جانور ہمیں لے کر روانہ ہوا ، اُس کا ایک قدم وہاں پڑتا تھا ، جہاں تک اُس کی نگاہ جاتی تھی ، پھر ایک مقام پر پہنچ کر سیدنا جبرائیل نے کہا: آپ نیچے اتریں ! میں نیچے اترا ! تو انہوں نے کہا: آپ نماز ادا کیجئے ! میں نے نماز ادا کی ، پھر ہم سوار ہو گئے ، اُنہوں نے دریافت کیا : کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز ادا کی ہے ؟ میں نے کہا: اللہ بہتر جانتا ہے ، انہوں نے بتایا : آپ نے ” بیت اللحم “ میں نماز ادا کی ہے ، جہاں سیدنا عیسیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے ، پھر وہ مجھے لے کر روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم آٹھویں دروازے سے شہر میں داخل ہوئے ، وہ مسجد کے قبلہ کی سمت والے حصے کی طرف آئے ، اور وہاں انہوں نے جانور کو باندھ دیا ، ہم مسجد میں ایسے دروازے سے داخل ہوئے ، جس میں سورج اور چاند کی تصویر تھی ، جہاں اللہ کو منظور تھا ، وہاں میں نے مسجد میں نماز ادا کی ۔
( یہاں ابن زبریق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ) پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے اُن میں سے ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد تھا ، وہ دونوں میری طرف بھیجے گئے تھے ، میں ان دونوں کو برابر سمجھ رہا تھا ، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت نصیب کی ، تو میں نے دودھ کو حاصل کر لیا اور اسے پی لیا ، یہاں تک میری پیشانی پر اس کے اثرات محسوس ہوئے ۔ میرے سامنے ایک عمر رسیدہ صاحب ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے کہا: تمہارے آقا نے فطرت کو اختیار کیا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) پھر وہ مجھے ساتھ لے کر چل پڑے ، یہاں تک کہ میں شہر میں موجود ، وادی کے پاس آیا ، تو وہاں جہنم یوں سامنے آئی ، جیسے وہ بچھونا ہوتا ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اُسے کیسا پایا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات ذکر کی تھی ، لیکن وہ مجھے بھول گئی ہے ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) میرا گزر فلاں مقام پر قریش کے اونٹ کے پاس سے ہوا ، اُن لوگوں کا اونٹ گم ہو چکا تھا ، میں نے اُن لوگوں کو سلام کیا ، تو اُن لوگوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہ تو ( سیدنا ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آواز ہے ۔ ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) پھر میں صبح ہونے سے پہلے مکہ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آ گیا ، ابوبکر میرے پاس آیا ، اور بولا: یا رسول الله ! گزشتہ رات آپ کہاں تھے ؟ میں آپ کی تلاش میں آپ کے گھر آیا ، لیکن میں نے آپ کو نہیں پایا ، تو میں نے ( اس کو ) بتایا : گزشتہ رات میں بیت المقدس گیا ہوا تھا ، اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ تو ایک ماہ کی مسافت کے فاصلے پر ہے ، آپ اس کا نقشہ میرے سامنے بیان کریں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اُسے میرے سامنے پیش کیا گیا ۔ گویا میں اُس کی طرف دیکھ رہا تھا ، لوگوں نے مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی دریافت کیا ، میں نے انہیں اُس کے بارے میں بتا دیا ، تو ابوبکر نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، جبکہ مشرکین نے یہ کہا: تم ابوکبشہ کے صاحبزادے کی طرف دیکھو ! ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ گزشتہ رات بیت المقدس گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! فلاں مقام پر میں تمہارے اونٹ کے پاس سے بھی گزرا تھا ، اُن لوگوں ( یعنی تمہارے اونٹوں کے چرواہوں ) نے فلاں ، فلاں مقام پر ، اپنے اونٹ کو گم کر دیا تھا ، میں تمہیں ان کے بارے میں بتاتا ہوں ، انہوں نے فلاں جگہ پر پڑاؤ کیا ہو گا اور پھر وہ فلاں ، فلاں دن تمہارے پاس آ جائیں گے ، اُن کے آگے خاکستری رنگ کا اونٹ ہو گا ، جس پر سیاہ ٹاٹ ہو گی اور سیاہ رنگ کی دو بوریاں ہوں گی ۔
راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ مخصوص دن آیا ، تو لوگوں نے جائزہ لینا شروع کیا ، یہاں تک کہ نصف النہار کے قریب وہ قافلہ آ گیا اور اُس کے آگے وہی اونٹ تھا ، جس طرح کے اونٹ کا نقشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، البتہ امام طبرانی نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تمہارے آقا نے فطرت کو اختیار کیا ہے ، بے شک یہ ہدایت یافتہ ہیں ۔ “
اسی طرح جہنم کی صفت کے بارے میں ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” صحابہ نے دریافت کیا : آپ نے اُسے کیسا پایا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گرم پانی کے چشمے کی مانند “ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن العلاء ہے ، ویسے یحیی بن معین نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
( یہاں ابن زبریق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ) پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے اُن میں سے ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد تھا ، وہ دونوں میری طرف بھیجے گئے تھے ، میں ان دونوں کو برابر سمجھ رہا تھا ، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت نصیب کی ، تو میں نے دودھ کو حاصل کر لیا اور اسے پی لیا ، یہاں تک میری پیشانی پر اس کے اثرات محسوس ہوئے ۔ میرے سامنے ایک عمر رسیدہ صاحب ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے کہا: تمہارے آقا نے فطرت کو اختیار کیا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) پھر وہ مجھے ساتھ لے کر چل پڑے ، یہاں تک کہ میں شہر میں موجود ، وادی کے پاس آیا ، تو وہاں جہنم یوں سامنے آئی ، جیسے وہ بچھونا ہوتا ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اُسے کیسا پایا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات ذکر کی تھی ، لیکن وہ مجھے بھول گئی ہے ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) میرا گزر فلاں مقام پر قریش کے اونٹ کے پاس سے ہوا ، اُن لوگوں کا اونٹ گم ہو چکا تھا ، میں نے اُن لوگوں کو سلام کیا ، تو اُن لوگوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہ تو ( سیدنا ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آواز ہے ۔ ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) پھر میں صبح ہونے سے پہلے مکہ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آ گیا ، ابوبکر میرے پاس آیا ، اور بولا: یا رسول الله ! گزشتہ رات آپ کہاں تھے ؟ میں آپ کی تلاش میں آپ کے گھر آیا ، لیکن میں نے آپ کو نہیں پایا ، تو میں نے ( اس کو ) بتایا : گزشتہ رات میں بیت المقدس گیا ہوا تھا ، اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ تو ایک ماہ کی مسافت کے فاصلے پر ہے ، آپ اس کا نقشہ میرے سامنے بیان کریں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اُسے میرے سامنے پیش کیا گیا ۔ گویا میں اُس کی طرف دیکھ رہا تھا ، لوگوں نے مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی دریافت کیا ، میں نے انہیں اُس کے بارے میں بتا دیا ، تو ابوبکر نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، جبکہ مشرکین نے یہ کہا: تم ابوکبشہ کے صاحبزادے کی طرف دیکھو ! ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ گزشتہ رات بیت المقدس گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! فلاں مقام پر میں تمہارے اونٹ کے پاس سے بھی گزرا تھا ، اُن لوگوں ( یعنی تمہارے اونٹوں کے چرواہوں ) نے فلاں ، فلاں مقام پر ، اپنے اونٹ کو گم کر دیا تھا ، میں تمہیں ان کے بارے میں بتاتا ہوں ، انہوں نے فلاں جگہ پر پڑاؤ کیا ہو گا اور پھر وہ فلاں ، فلاں دن تمہارے پاس آ جائیں گے ، اُن کے آگے خاکستری رنگ کا اونٹ ہو گا ، جس پر سیاہ ٹاٹ ہو گی اور سیاہ رنگ کی دو بوریاں ہوں گی ۔
راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ مخصوص دن آیا ، تو لوگوں نے جائزہ لینا شروع کیا ، یہاں تک کہ نصف النہار کے قریب وہ قافلہ آ گیا اور اُس کے آگے وہی اونٹ تھا ، جس طرح کے اونٹ کا نقشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، البتہ امام طبرانی نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تمہارے آقا نے فطرت کو اختیار کیا ہے ، بے شک یہ ہدایت یافتہ ہیں ۔ “
اسی طرح جہنم کی صفت کے بارے میں ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” صحابہ نے دریافت کیا : آپ نے اُسے کیسا پایا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گرم پانی کے چشمے کی مانند “ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن العلاء ہے ، ویسے یحیی بن معین نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ فَرَكِبْتُهُ ، إِذَا أَتَى عَلَى جَبَلٍ ارْتَفَعَتْ رِجْلَاهُ ، وَإِذَا هَبَطَ ارْتَفَعَتْ يَدَاهُ ، فَسَارَ بِنَا فِي أَرْضٍ غُمَّةٍ مُنْتِنَةٍ ، ثُمَّ أَفْضَيْنَا إِلَى أَرْضٍ فَيْحَاءَ طَيِّبَةٍ " . قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : " قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، كُنَّا نَسِيرُ فِي أَرْضٍ غُمَّةٍ نَتِنَةٍ ، ثُمَّ إِلَى أَرْضٍ فَيْحَاءَ طَيِّبَةٍ ! فَقَالَ : تِلْكَ أَرْضُ النَّارِ ، وَهَذِهِ أَرْضُ الْجَنَّةِ " . - وَقَالَ الْبَزَّارُ أَحْسَبُهُ : " قَالَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : تِلْكَ أَرْضُ أَهْلِ النَّارِ ، وَهَذِهِ أَرْضُ أَهْلِ الْجَنَّةِ - فَأَتَيْتُ عَلَى رَجُلٍ قَائِمٍ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ مَعَكَ ؟ قَالَ : أَخُوكَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا أَخُوكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسِرْنَا ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ قَالَ : هَذَا أَخُوكَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ، وَقَالَ : سَلْ لِأُمَّتِكَ التَّيْسِيرَ . قُلْتُ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا أَخُوكَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قُلْتُ : عَلَى مَنْ كَانَ تَذَمُّرُهُ ؟ قَالَ : عَلَى رَبِّهِ . قُلْتُ : عَلَى رَبِّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَدْ عَرَفَ حِدَّتَهُ . ثُمَّ سِرْنَا فَرَأَيْتُ شَيْئًا . فَقُلْتُ : مَا هَذَا - أَوْ مَا هَذِهِ - يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذِهِ شَجَرَةُ أَبِيكَ إِبْرَاهِيمَ ، أَدْنُ مِنْهَا . قُلْتُ : نَعَمْ " ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : " قُلْتُ : أَدْنُو مِنْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَدَنَوْنَا مِنْهَا ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَرَبَطْتُ الدَّابَّةَ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي تَرْبُطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَنُشِرَتْ لِيَ الْأَنْبِيَاءُ ، مَنْ سَمَّى اللَّهُ وَمَنْ لَمْ يُسَمِّ ، فَصَلَّيْتُ " . قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : بِهِمْ . ثُمَّ اتَّفَقَا إِلَّا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ : إِبْرَاهِيمَ ، وَمُوسَى ، وَعِيسَى .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے پاس براق لایا گیا ، میں اُس پر سوار ہوا ، جب وہ کسی پہاڑ کے پاس آتا تھا ، تو اپنی ٹانگیں بلند کر لیتا تھا اور جب وہ نیچے کی طرف چلتا تھا ، تو اپنے ہاتھ بلند کر لیتا تھا ، وہ ہمیں لے کر چلتا ہوا ایک بدبودار جگہ کے پاس آیا ، پھر ہم ایک کشادہ اور پاکیزہ جگہ کی طرف آئے ۔ یہاں امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! پہلے ہم ایک بدبودار جگہ کے پاس سے گزر رہے تھے ، پھر ہم ایک خوشبودار جگہ کی طرف آ گئے ، تو انہوں نے بتایا : وہ جہنم کی زمین تھی اور یہ جنت کی زمین ہے ۔ امام بزار فرماتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : جبرائیل نے کہا: وہ اہل جہنم کی سرزمین تھی اور یہ اہل جنت کی سرزمین ہے ۔ پھر میں ایک صاحب کے پاس آیا جو کھڑے ہوئے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ سیدنا جبرائیل نے بتایا : یہ آپ کے بھائی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، تو انہوں نے خوش آمدید کہتے ہوئے ، میرے لئے برکت کی دعا کی ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ آپ کے بھائی سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں ، پھر ہم روانہ ہوئے ، میں نے ایک آواز سنی ( جس میں کچھ تیزی تھی ) پھر ہم ایک صاحب کے پاس آئے ، انہوں نے دریافت کیا : یہ تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ جبرائیل نے بتایا : یہ آپ کے بھائی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، تو انہوں نے سلام کیا اور میرے لئے برکت کی دعا کی اور یہ کہا: آپ اپنی امت کے لئے آسانی مانگیے گا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ آپ کے بھائی سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں میں نے دریافت کیا : یہ تیز لہجے میں کس کے ساتھ بات کر رہے تھے ؟ انہوں نے بتایا : اپنے پروردگار کے ساتھ ، میں نے دریافت کیا : اپنے پروردگار کے ساتھ ؟ انہوں نے بتایا : جی ہاں ! وہ ( یعنی اُن کا پروردگار ) ان کے مزاج کی تیزی کے بارے میں جانتا ہے ، پھر ہم چلتے رہے ، میں نے ایک چیز دیکھ کر دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ اے جبرائیل ! ۔ یہاں ایک لفظ میں راوی کو شک ہے ۔ تو انہوں نے بتایا : یہ آپ کے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا درخت ہے ، آپ اس کے قریب ہو جائیں ! میں نے کہا: ٹھیک ہے ۔
یہاں امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے دریافت کیا : کیا میں اس کے قریب ہو جاؤں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو ہم اُس درخت کے قریب ہو گئے ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ( مجھے ) خوش آمدید کہا: اور میرے لئے برکت کی دعا کی ، پھر ہم روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم بیت المقدس آ گئے ، میں نے اپنا جانور اس حلقے کے ساتھ باندھا ، جس کے ساتھ انبیاء کرام علیہم السلام ( اپنے جانوروں کو ) باندھا کرتے تھے ، پھر ہم مسجد میں داخل ہوئے ، تو میرے سامنے تمام انبیاء کرام لائے گئے ، وہ بھی جن کا نام اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے ، اور وہ بھی جن کا نام بیان نہیں کیا ہے ، تو میں نے نماز ادا کی ۔ یہاں امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میں نے انہیں نماز پڑھائی ، پھر وہ دونوں راوی متفق ہیں ، البتہ ان تین حضرات کا معاملہ مختلف ہے ، یعنی سیدنا ابراہیم ، سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہم السلام ۔
یہ روایت امام بزار ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہاں امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے دریافت کیا : کیا میں اس کے قریب ہو جاؤں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو ہم اُس درخت کے قریب ہو گئے ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ( مجھے ) خوش آمدید کہا: اور میرے لئے برکت کی دعا کی ، پھر ہم روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم بیت المقدس آ گئے ، میں نے اپنا جانور اس حلقے کے ساتھ باندھا ، جس کے ساتھ انبیاء کرام علیہم السلام ( اپنے جانوروں کو ) باندھا کرتے تھے ، پھر ہم مسجد میں داخل ہوئے ، تو میرے سامنے تمام انبیاء کرام لائے گئے ، وہ بھی جن کا نام اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے ، اور وہ بھی جن کا نام بیان نہیں کیا ہے ، تو میں نے نماز ادا کی ۔ یہاں امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میں نے انہیں نماز پڑھائی ، پھر وہ دونوں راوی متفق ہیں ، البتہ ان تین حضرات کا معاملہ مختلف ہے ، یعنی سیدنا ابراہیم ، سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہم السلام ۔
یہ روایت امام بزار ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔