مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ ، وَرَأَيْتُ النُّورَ الْأَعْظَمَ ، وَإِذَا دُونَ الْحِجَابِ رَفْرَفَةُ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ ، فَأَوْحَى إِلَيَّ مَا شَاءَ أَنْ يُوحِيَ " . باب: واقعہ معراج کا بیان
حدیث نمبر: 244
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَمَّا أُسْرِيَ بِي ، انْتَهَيْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، فَإِذَا نَبِقُهَا أَمْثَالُ الْقِلَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ زَيْنَبُ بِنْتُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهَا . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جب مجھے سیر کروائی گئی ، تو میں سدرۃ المنتہی تک پہنچا ، تو اُس کے پتے گھڑوں کی مانند ( یعنی بڑے ) تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک خاتون زینب بنت سلیمان بن علی بن عبداللہ بن عباس ہیں ، میں نے کسی کو اُن کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔