بے فائدہ بحث و تکرار سے بچنے کا ثواب قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

بے فائدہ بحث و تکرار سے بچنے کا ثواب

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
‏ ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾
اور جس بات کا آپ کو علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ لگئے ، بے شک کان، آنکھ اور دل ہر ایک کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(17-الإسراء:36)
ڈاکٹر لقمان سلفی حفظہ اللہ رقمطراز ہیں:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایسی بات کہنے سے منع فرمایا ہے، جس کا علم نہ ہو ۔ شوکانی کہتے ہیں کہ یہ آیت قاعدہ کلیہ ہے، جس کے ضمن میں وہ تمام اقوال و افعال داخل ہیں، جن کی صداقت وحقانیت کا آدمی کو علم نہ ہو۔ مثلاً جھوٹی گواہی دینی ، بغیر ثبوت کے کسی کی مذمت کرنی، پاکدامن مردوں اور عورتوں پر بہتان دھرنا ، بغیر دلیل شرعی کے کسی چیز کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرانا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس ممانعت کی علت یہ بیان کی کہ قیامت کے دن انسان سے اس کے کان، آنکھ اور دل سب کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس کا ایک دوسرا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان اعضاء کو قوت گویائی عطا کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ ان کے ذریعے کن کن گناہوں کا ارتکاب کیا گیا تھا۔“ (تیسیر الرحمن: 808/1)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے لایعنی سوالات پوچھنے کی ممانعت سے متعلق ارشاد فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴾
”اے ایمان والو! تم لوگ ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ( ذہنی طور پر ) تکلیف پہنچائیں، اور اگر ان کے بارے میں نزول قرآن کے زمانے میں پوچھو گے تو تمہارے سامنے ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ نے گزشتہ سوالات کو معاف کر دیا، اور اللہ بڑا مغفرت کرنے والا، بڑا برداشت کرنے والا ہے۔“
(5-المائدة:101)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے غیر ضروری سوالات اور لایعنی تکرار سے منع فرمایا ہے کہ اس کا فائدہ کوئی نہیں ہے، لیکن اگر تم بال کی کھال اتارنے لگ جاؤ گے تو اس کا نقصان تمہیں ہی ہوگا۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” إن أعظم المسلمين جرما من سأل عن شيء لم يحرم فحرم من أجل مسألته“.
”مسلمانوں میں سے سب سے بڑا مجرم وہ ہے جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جو پہلے حرام نہیں تھی ، اور اس کے سوال کرنے کی وجہ سے حرام کر دی گئی ۔“
صحيح البخاري، كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب ما يكره من كثرة السؤال، رقم: 7289- صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب توقیره صلى الله عليه وسلم، رقم: 2358.
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ” دعوني ما تركتكم ، إنما هلك من كان قبلكم بسؤالهم واختلافهم على أنبيائهم فإذا نهيتكم عن شيء فاجتنبوه ، وإذا أمرتكم بأمر فأتوا منه ما استطعتم“.
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تک میں تم سے یکسو رہوں تم بھی مجھے چھوڑ دو ( اور سوالات وغیرہ نہ کرو) کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں اپنے (غیر ضروری) سوال اور انبیاء کے سامنے اختلاف کی وجہ سے تباہ ہو گئیں ۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو تم بھی اس سے پرہیز کرو اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو بجالاؤ جس حد تک تم میں طاقت ہے۔“
صحيح البخاري، كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، رقم: 7288- صحيح مسلم، رقم: 1337/130.
یعنی فضول سوالات اور لایعنی بحث و مباحثہ ہلاکت و بربادی کا سبب تو بن سکتا ہے، لیکن فلاح و بہبود کا ذریعہ نہیں :
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” إن الله يرضى لكم ثلاثا ، ويكره لكم ثلاثا فيرضى لكم أن تعبدوه ولا تشركوا به شيئا، وأن تعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا ، ويكره لكم قيل وقال ، وكثرة السؤال ، وإضاعة المال“.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین چیزوں کو پسند فرماتا ہے، اور تین چیزوں کو ناپسند ۔ ➊ وہ تمہارے لیے یہ پسند فرماتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اور ➋ یہ کہ تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو ➌ فرقے فرقے نہ ہو۔ اور وہ تمہارے لیے ناپسند کرتا ہے، ➊ بے فائدہ بحث و تکرار کو، ➋ زیادہ سوال کرنے کو اور ➌ مال ضائع کرنے کو ۔“
صحیح مسلم، کتاب الأقضية، باب النهي عن كثرة المسائل ، رقم: 1715.
وعن وراد كاتب المغيرة قال: كتب معاوية إلى المغيرة: اكتب إلى ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يقول فى دبر كل صلاة مكتوبة: ” لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد“. وكتب إليه: أنه كان ينهى عن: قيل وقال، وإضاعة المال ، وكثرة السؤال، وكان ينهى عن عقوق الأمهات، ووأد البنات ، ومنع وهات.
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے کاتب سیدنا وراد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے خط میں لکھا کہ آپ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، وہ میرے لیے تحریر کریں تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر فرض نماز کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے: لا إله إلا الله وحده اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہی اور تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ ! تو جو عطا کرے، اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے، اسے کوئی عطاء کرنے والا نہیں اور کسی شرف والے کا شرف تیرے مقابلے میں نفع دینے والا نہیں ۔ (اس کے علاوہ) اس میں یہ بھی لکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے فائدہ بحث و تکرار سے، مال ضائع کرنے سے اور زیادہ سوال کرنے سے منع فرماتے تھے، نیز ماؤں کی نافرمانی کرنے سے، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے اور واجب الادا حق نہ دینے اور بغیر استحقاق کے کسی چیز کے طلب کرنے (یا پیچھے پڑ کر مانگنے ) سے منع فرمایا کرتے تھے ۔
صحيح بخاري، كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب مايكره من كثرة السؤال، رقم: 7292- صحيح مسلم، كتاب الأقضية، باب النهي عن كثرة المسائل، رقم: 1715.