تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا:} یہاں علم سے مراد دنیوی علوم نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی صفات کا علم ہے، جس کو اللہ کی عظمت و صفات کا جتنا علم ہو گا اتنا ہی وہ اس کی نافرمانی سے ڈرے گا۔ علاوہ ازیں آیت میں ”علماء“ سے مراد وہ اصطلاحی علماء بھی نہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ کا علم رکھنے کی بنا پر علمائے دین کہے جاتے ہیں۔ وہ اس آیت کے مصداق اسی صورت میں ہوں گے جب ان کے اندر اللہ کا ڈر بھی ہو گا۔ اسی طرح وہ مسلمان سائنس دان بھی اس کے مصداق ہیں جن کے دل میں کائنات کے عجائب سامنے آنے پر اللہ کی عظمت کے یقین اور اس سے ہیبت و خشیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے کہ علماء وہ ہیں جو جانتے ہیں: «اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ”یقینا اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“
➌ تفسیر قاسمی میں ہے: ”اس سے پہلے فرمایا تھا: «اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ» [فاطر: ۱۸] ”تو صرف ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔“ یہ جملہ اسی کی تکمیل ہے، لوگوں کے مختلف طبقات اور مراتب بیان کرنے کے بعد بتایا کہ رب تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس سے کون ڈرتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس سے وہی ڈرتے ہیں جو اس کا اور اس کی صفاتِ جلیلہ و افعالِ جمیلہ کا علم رکھتے ہیں، کیونکہ بندہ اسی سے ڈرتا ہے جس کا اسے علم ہو اور جس کی قوت و عظمت اور صفات کمال کو وہ جانتا ہو۔ پھر جسے اس کا جتنا زیادہ علم ہو گا اتنا ہی وہ اس سے ڈرے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَاللّٰهِ! لَأَنَا أَعْلَمُكُمْ بِاللّٰهِ وَ أَخْشَاكُمْ لَهُ] [منتخب مسند عبد بن حمید، ح: ۱۵۰۲] ”اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھنے والا اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں۔“ صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں: [إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَ أَعْلَمَكُمْ بِاللّٰهِ أَنَا] [بخاري، الإیمان، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنا أعلمکم باللہ: ۲۰] ”بے شک تم سب سے زیادہ ڈرنے والا اور اللہ کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا میں ہوں۔“ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت پر دلالت کرنے والے کاموں کے ذکر کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے بندوں میں سے صرف علم والے ڈرتے ہیں۔ کافر چونکہ اللہ تعالیٰ کی اس پہچان سے بالکل بے خبر ہیں، اس لیے انھیں ڈرانا بالکل بے سود ہے۔“ (افادہ از ابو السعود)
قاسمی ہی نے قاشانی سے نقل فرمایا ہے: ”یعنی اللہ تعالیٰ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو اس کے عالم و عارف ہیں (اسے جاننے پہچاننے والے ہیں)، کیونکہ یہاں خشیّت اور ڈرنے سے مراد عذاب کا ڈر نہیں ہے، بلکہ خشیّت دل میں خشوع و انکسار کی اس حالت کا نام ہے جو اس کی عظمت کے تصور اور اسے دل میں حاضر کرنے سے پیدا ہوتی ہے، کیونکہ جو اس کی عظمت کا تصور نہ کرے، ممکن نہیں اس سے ڈرے اور اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کے ساتھ جس شخص کے دل کی آنکھوں کے سامنے حاضر ہو وہ اس سے اس طرح ڈرے گا جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اللہ تعالیٰ کا کامل علم و معرفت رکھنے والے کے درمیان اور اس کا ناقص علم و معرفت رکھنے والے کے درمیان اس کی حاضری کے تصور میں بہت زیادہ فرق ہے اور دونوں کے درمیان علم و معرفت کی کمی بیشی کے لحاظ سے اتنے مرتبے ہیں جن کا شمار نہیں ہو سکتا۔“
➍ { اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ سب پر غالب ہے، چاہے تو نافرمان اور سرکش لوگوں کو فوراً پکڑے، مگر وہ بے حد بخشنے والا ہے، اس لیے انھیں مہلت دیے جاتا ہے، تاکہ وہ کسی وقت بھی پلٹ آئیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن ذلك الناسُ والدوابُّ والأنعام؛ فيها من اختلاف الألوان والأوصافِ والأصواتِ والهيئاتِ ما هو مرئيٌّ بالأبصار مشهودٌ للنُّظَّارِ، والكلُّ من أصل واحدٍ ومادةٍ واحدةٍ، فتفاوتُها دليلٌ عقليٌّ على مشيئةِ الله تعالى التي خَصَّصَتْ ما خَصَّصَتْ منها بلونِهِ ووصفِهِ، وقدرة الله تعالى حيث أوجدها كذلك، وحكمتِهِ ورحمتِهِ حيث كان ذلك الاختلاف وذلك التفاوتُ فيه من المصالح والمنافع ومعرفة الطرق ومعرفة الناس بعضهم بعضاً ما هو معلوم، وذلك أيضاً دليلٌ على سعة علم الله تعالى، وأنه يَبْعَثُ مَنْ في القبور. ولكن الغافل ينظر في هذه الأشياء وغيرها نَظَرَ غفلةٍ لا تحدثُ له تذكُّراً، وإنَّما ينتفع بها من يخشى الله تعالى ويعلم بفكرِهِ الصائب وجهَ الحكمة فيها، ولهذا قال: {إنَّما يخشى اللهَ من عبادِهِ العلماءُ}: فكلُّ من كان بالله أعلم؛ كان أكثرَ له خشيةً، وأوجبتْ له خشيةُ الله الانكفافَ عن المعاصي والاستعدادَ للقاء مَنْ يخشاه، وهذا دليلٌ على فضيلة العلم؛ فإنَّه داع إلى خشية الله، وأهلُ خشيتِهِ هم أهلُ كرامتِهِ؛ كما قال تعالى: {رضي الله عنهم ورَضُوا عنه ذلك لِمَنْ خَشِيَ ربَّه}. {إنَّ الله عزيزٌ}: كامل العزَّة، ومن عزَّته خَلْقُ هذه المخلوقات المتضادَّات. {غفورٌ}: لذنوب التائبين.