تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ:} یہ لفظ {”اللّٰهُ“} سے حال ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے «لَّـٰكِنِ اللَّـهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» [4-النساء:166] یعنی لیکن اللہ تعالیٰ بذریعہ اس کتاب کے جو وہ تیری طرف اپنے علم سے اتار رہا ہے، گواہی دے رہا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی ہے، پھر اپنی شہادت کے ساتھ فرشتوں کی شہادت پر علماء کی گواہی کو ملا رہا ہے۔ یہاں سے علماء کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے بلکہ خصوصیت۔
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں اس آیت کی تلاوت کی اور «الْحَكِيمُ» تک پڑھ کر فرمایا «وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ يَا رَبِّ» ۔ ۱؎ [مسند احمد:1/166:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے آپ نے یوں فرمایا «وأنا أشهد أي رَبِّ» ۱؎ [طبرانی:250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
طبرانی میں ہے سیدنا غالب قطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں کوفے میں تجارتی غرض سے گیا اور سیدنا اعمش رحمہ اللہ کے قریب ٹھہرا، رات کو سیدنا اعمش رحمہ اللہ تہجد کیلئے کھڑے ہوئے پڑھتے پڑھتے جب اس آیت تک پہنچے اور «اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ» [3-آل عمران:19] پڑھا تو فرمایا «وانا اشھد بما شھد اللہ بہ واستودع اللہ ھذہ الشھادۃ وھی لی عند اللہ ودیعتہ» یعنی میں بھی شہادت دیتا ہوں اس کی جس کی شہادت اللہ نے دی اور میں اس شہادت کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یہ میری امانت اللہ کے پاس ہے۔
پھر کئی دفعہ «اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ» [3-آل عمران:19] پڑھا، میں نے اپنے دِل میں خیال کیا کہ شاید اس بارے میں کوئی حدیث سنی ہو گی، صبح ہی صبح میں حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ ابومحمد رحمہ اللہ کیا بات تھی جو آپ اس آیت کو باربار پڑھتے رہے؟ کہا کیا اس کی فضیلت تمہیں معلوم نہیں؟ میں نے کہا میں تو مہینہ بھر سے آپ کی خدمت میں ہوں لیکن آپ نے حدیث بیان ہی نہیں کی، کہنے لگے اللہ کی قسم میں تو سال بھر تک بیان نہ کروں گا، اب میں اس حدیث کے سننے کی خاطر سال بھر تک ٹھہرا رہا اور ان کے دروازے پر پڑا رہا جب سال کامل گزر چکا تو میں نے کہا اے ابو محمد سال گزر چکا ہے سُن مجھ سے ابووائل نے حدیث بیان کی، اس نے عبداللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے پڑھنے والے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اللہ عزوجل فرمائے گا میرے اس بندے نے میرا عہد لیا ہے اور میں عہد کو پورا کرنے میں سب سے افضل و اعلیٰ ہوں، میرے اس بندے کو جنت میں لے جاؤ۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10453:ضعیف جداً]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ» ہے اور «إِنَّ الْإِسْلَامَُ» ہے، تو معنی یہ ہوں گے، خود اللہ کی گواہی ہے اور اس کے فرشتوں اور ذی علم انسانوں کے نزدیک مقبول ہونے والا دین صرف اسلام ہی ہے، جمہور کی قرأت میں «إِنَّ» زیر کے ساتھ ہے اور معنی کے لحاظ سے دونوں ہی ٹھیک ہیں، لیکن جمہور کا قول زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ پہلی کتاب والوں نے اپنے پاک اللہ کے پیغمبروں کے آنے اور اللہ کی کتابیں نازل ہونے کے بعد بھی اختلاف کیا، جس کی وجہ سے صرف ان کا آپس کا بغض و عناد تھا کہ میں اس کیخلاف ہی چلوں چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو، پھر ارشاد ہے کہ جب اللہ کی آیتیں اتر چکی، اب جو ان کا انکار کرے انہیں نہ مانے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اس کی تکذیب کا بہت جلد حساب لے گا اور کتاب اللہ کی مخالفت کی وجہ سے اسے سخت عذاب دے گا اور اسے اس کی اس شرارت کا لطف چکھائے گا۔
پھر حکم دیتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہود و نصاریٰ جن کے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب ہے اور مشرکین سے جو اَن پڑھ ہیں کہہ دو کہ تم سب کی ہدایت اسلام میں ہی ہے اور اگر یہ نہ مانیں تو کوئی بات نہیں، آپ اپنا فرض تبلیغ ادا کر چکے، اللہ خود ان سے سمجھ لے گا، ان سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے وہ جسے سیدھا راستہ دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے، اپنی حکمت کو وہی خوب جانتا ہے اس کی حجت تو پوری ہو کر ہی رہتی ہے، اس کی اپنے بندوں پر نظر ہے «لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ» [21-الأنبياء:23] اسے خوب معلوم ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے اور کون ضلالت کا مستحق ہے؟ اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا۔
اور آیت میں ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا» [25-الفرقان:1] بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام دنیا والوں کیلئے تنبیہ کرنے والا بن جائے۔
بخاری و مسلم وغیرہ میں کئی کئی واقعات سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب و عجم کے تمام بادشاہوں کو اور دوسرے اطراف کے لوگوں کو خطوط بھجوائے جن میں انہیں اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی خواہ وہ عرب ہوں عجم ہوں اہل کتاب ہوں مذہب والے ہوں اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کے فرض کو تمام و کمال تک پہنچا دیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:65]
مسند عبدالرزاق میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت میں سے جس کے کان میں میری نسبت کی آواز پہنچے اور وہ میری لائی ہوئی چیز پر ایمان نہ لائے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو مگر مجھ پر ایمان لائے بغیر مر جائے گا تو قطعاً جہنمی ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:153]
مسلم شریف میں بھی یہ حدیث مروی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے کہ میں ہر ایک سرخ و سیاہ کی طرف اللہ کا نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:521]
مسند احمد میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی لڑکا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے وضو کا پانی رکھا کرتا تھا اور جوتیاں لا کر رکھ دیتا تھا، بیمار پڑا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بیمار پرسی کیلئے تشریف لائے، اس وقت اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلاں «لا الہٰ الا اللہ» کہہ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور باپ کو خاموش دیکھ کر خود بھی خاموش ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا اس نے پھر اپنے باپ کی طرف دیکھا باپ نے کہا ابوالقاسم کی مان لے صلی اللہ علیہ وسلم پس اس بچے نے کہا «اشھد ان لا الہٰ الا اللہ وانک رسول اللہ» وہاں سے یہ فرماتے ہوئے اٹھے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے میری وجہ سے اسے جہنم سے بچا لیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5657] یہی حدیث صحیح بخاری میں سیدنا امام بخاری رحمہ اللہ بھی لائے ہیں، ان کے سوا اور بھی بہت سی صحیح حدیثیں بھی اور قرآن کریم کی آیتیں ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه أجل الشهادات الصادرة من الملك العظيم، ومن الملائكة، وأهل العلم على أجلِّ مشهود عليه وهو توحيد الله وقيامه بالقسط، وذلك يتضمن الشهادةَ على جميع الشرع وجميع أحكام الجزاء، فإن الشرع والدين أصله وقاعدته توحيد الله وإفراده بالعبودية والاعتراف بانفراده بصفات العظمة والكبرياء والمجد والعز والقدرة والجلال وبنعوت الجود والبر والرحمة والإحسان والجمال، وبكماله المطلق الذي لا يحصي أحد من الخلق أن يحيطوا بشيء منه أو يبلغوه أو يصلوا إلى الثناء عليه، والعبادات الشرعية والمعاملات وتوابعها والأمر والنهي كله عدل وقسط لا ظلمَ فيه ولا جورَ بوجه من الوجوه، بل هو في غاية الحكمة والإحكام، والجزاء على الأعمال الصالحة والسيئة كله قِسط وعدل، {قل أي شيء أكبر شهادة قل الله}؛ فتوحيد الله ودينه وجزاؤه قد ثبت ثبوتاً لا ريب فيه وهو أعظم الحقائق وأوضحها، وقد أقام الله على ذلك من البراهين والأدلة ما لا يمكن إحصاؤه وعده.
وفي هذه الآية فضيلة العلم والعلماء لأن الله خصهم بالذكر من دون البشر، وقرن شهادتهم بشهادته وشهادة ملائكته وجعل شهادتهم من أكبر الأدلة والبراهين على توحيده ودينه وجزائه، وأنه يجب على المكلفين قبول هذه الشهادة العادلة الصادقة، وفي ضمن ذلك تعديلهم وأن الخلق تبع لهم وأنهم هم الأئمة والمتبوعون، وفي هذا من الفضل والشرف وعلو المكانة ما لا يقادر قدره.