ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 18

شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُوا الۡعِلۡمِ قَآئِمًۢا بِالۡقِسۡطِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿ؕ۱۸﴾
اللہ نے گواہی دی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ جو انصاف پر قائم ہیں وہ بھی (گواہی دیتے ہیں کہ) اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
En
اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) ➊ {شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:} اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر دین اسلام ہے، جیسا کہ آئندہ آیت میں آ رہا ہے اور اسلام کی بنیاد توحید الٰہی پر ہے۔ اس حقیقت سے وفد نجران اور تمام دنیا کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ { شَهِدَ } کا معنی { بَيَّنَ وَ اَعْلَمَ } یعنی بیان کیا اور آگاہ کیا ہے۔ (فتح القدیر) شاہد وہ ہے جو اپنے یقینی علم کے ساتھ آگاہ کرے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق اور ساری کائنات میں موجود بے شمار دلائل اور نشانیوں کے ساتھ اور اپنے رسولوں کے ذریعے سے پیغام بھیج کر شہادت دی اور آگاہ کیا ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس حال میں کہ وہ اپنی مخلوق کے تمام معاملات و احوال میں عدل پر قائم ہے اور اس سے بڑھ کر کس کی شہادت ہو سکتی ہے اور اس کے پاک فرشتوں اور اہل علم نے بھی یہ شہادت دی ہے۔ آیت کے آخر میں پھر وہی دعویٰ { لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ } دہرایا اور اس کی دو مزید دلیلیں پیش فرمائیں کہ وہ سب پر غالب اور کمال حکمت والا ہے، کوئی اس پر غالب نہیں اور کمال حکمت والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ کوئی ہے تو لاؤ پیش کرو۔
➋ { قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ:} یہ لفظ {اللّٰهُ} سے حال ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 شہادت کے معنی بیان کرنے اور آگاہ کرنے کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا اور بیان کیا اس کے ذریعے سے اس نے اپنی وحدانیت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی۔ (فتح القدیر) فرشتے اور اہل علم بھی اس کی توحید کی گواہی دیتے ہیں۔ اس میں اہل علم کی بڑی فضیلت اور عظمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے ناموں کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا ہے تاہم اس سے مراد صرف وہ اہل علم ہیں جو کتاب اور سنت کے علم سے بہرہ ور ہیں۔ (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ اللہ نے خود بھی اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اور فرشتوں نے بھی اور اہل علم [21] نے بھی راستی اور انصاف کے ساتھ یہی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہی زبردست ہے، حکمت والا ہے
[21] اللہ تعالیٰ کی گواہی تو اس لحاظ سے سب سے زیادہ معتبر ہے کہ وہ خود خالق کائنات ہے اور اسے ٹھیک ٹھیک علم ہے کہ اس کائنات کی تخلیق و تدبیر میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ دوسرے نمبر پر فرشتوں کی گواہی اس لحاظ سے معتبر ہے کہ وہ مدبرات امر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق کائنات کی تدبیر و انتظام و انصرام انہیں کے سپرد ہے، اگر کائنات میں دوسرا الٰہ بھی ہوتا تو انہیں یقیناً اس کا علم ہونا چاہئے تھا۔ تیسرے نمبر پر ان لوگوں کی گواہی معتبر ہے جو اہل علم ہوں۔ کائنات میں غور و فکر کرنے والے ہوں اور ایسے تمام لوگوں کی گواہی بھی یہی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا الٰہ یا اس کا شریک نہیں ہے اور اگر ایسا ہوتا تو کائنات کا نظام مدتوں پیشتر تباہ و برباد ہو چکا ہوتا یا سرے سے ایسا منظم و مربوط نظام وجود میں ہی نہ آ سکتا، اور جو کچھ وہ کر رہا ہے عین عدل و انصاف کے مطابق کر رہا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ وحدہ لاشریک اپنی وحدت کا خود شاہد ٭٭
اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچا گواہ ہے، سب سے زیادہ سچی بات اسی کی ہے، وہ فرماتا ہے کہ تمام مخلوق اس کی غلام ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اسی کی محتاج ہے، وہ سب سے بے نیاز ہے، الوہیت میں اللہ ہونے میں وہ یکتا اور لاشریک ہے، اس کے سوا کوئی پوجے جانے کے لائق نہیں۔
جیسے فرمان ہے «لَّـٰكِنِ اللَّـهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» [4-النساء:166]‏‏‏‏ یعنی لیکن اللہ تعالیٰ بذریعہ اس کتاب کے جو وہ تیری طرف اپنے علم سے اتار رہا ہے، گواہی دے رہا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی ہے، پھر اپنی شہادت کے ساتھ فرشتوں کی شہادت پر علماء کی گواہی کو ملا رہا ہے۔ یہاں سے علماء کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے بلکہ خصوصیت۔
«قَائِمًا» کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے وہ اللہ ہر وقت اور حال میں ایسا ہی ہے، پھر تاکیداً دوبارہ ارشاد ہوتا ہے کہ معبود حقیقی صرف وہی ہے، وہ غالب ہے، عظمت اور کبریائی والی اس کی بارگاہ ہے، وہ اپنے اقوال افعال اور شریعت قدرت و تقدیر میں حکمتوں والا ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں اس آیت کی تلاوت کی اور «‏‏‏‏الْحَكِيمُ» ‏‏‏‏تک پڑھ کر فرمایا «وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ يَا رَبِّ» ۔ ۱؎ [مسند احمد:1/166:ضعیف]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں ہے آپ نے یوں فرمایا «وأنا أشهد أي رَبِّ» ۱؎ [طبرانی:250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]‏‏‏‏
طبرانی میں ہے سیدنا غالب قطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں کوفے میں تجارتی غرض سے گیا اور سیدنا اعمش رحمہ اللہ کے قریب ٹھہرا، رات کو سیدنا اعمش رحمہ اللہ تہجد کیلئے کھڑے ہوئے پڑھتے پڑھتے جب اس آیت تک پہنچے اور «اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ» ‏‏‏‏ [3-آل عمران:19]‏‏‏‏ پڑھا تو فرمایا «وانا اشھد بما شھد اللہ بہ واستودع اللہ ھذہ الشھادۃ وھی لی عند اللہ ودیعتہ» یعنی میں بھی شہادت دیتا ہوں اس کی جس کی شہادت اللہ نے دی اور میں اس شہادت کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یہ میری امانت اللہ کے پاس ہے۔
پھر کئی دفعہ «اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ» ‏‏‏‏[3-آل عمران:19]‏‏‏‏ پڑھا، میں نے اپنے دِل میں خیال کیا کہ شاید اس بارے میں کوئی حدیث سنی ہو گی، صبح ہی صبح میں حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ ابومحمد رحمہ اللہ کیا بات تھی جو آپ اس آیت کو باربار پڑھتے رہے؟ کہا کیا اس کی فضیلت تمہیں معلوم نہیں؟ میں نے کہا میں تو مہینہ بھر سے آپ کی خدمت میں ہوں لیکن آپ نے حدیث بیان ہی نہیں کی، کہنے لگے اللہ کی قسم میں تو سال بھر تک بیان نہ کروں گا، اب میں اس حدیث کے سننے کی خاطر سال بھر تک ٹھہرا رہا اور ان کے دروازے پر پڑا رہا جب سال کامل گزر چکا تو میں نے کہا اے ابو محمد سال گزر چکا ہے سُن مجھ سے ابووائل نے حدیث بیان کی، اس نے عبداللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے پڑھنے والے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اللہ عزوجل فرمائے گا میرے اس بندے نے میرا عہد لیا ہے اور میں عہد کو پورا کرنے میں سب سے افضل و اعلیٰ ہوں، میرے اس بندے کو جنت میں لے جاؤ۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10453:ضعیف جداً]‏‏‏‏
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے وہ صرف اسلام ہی کو قبول فرماتا ہے، اسلام ہر زمانے کے پیغمبر کی وحی کی تابعداری کا نام ہے، اور سب سے آخر اور سب رسولوں کو ختم کرنے والے ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، آپ کی نبوت کے بعد نبوت کے سب راستے بند ہو گئے اب جو شخص آپ کی شریعت کے سوا کسی چیز پر عمل کرے اللہ کے نزدیک وہ صاحب ایمان نہیں جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ» [3-آل عمران:85]‏‏‏‏ جو شخص اسلام کے سوا اور دین کی تلاش کرے وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، اسی طرح اس آیت میں دین کا انحصار اسلام میں کر دیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ» ہے اور «إِنَّ الْإِسْلَامَُ» ‏‏‏‏ہے، تو معنی یہ ہوں گے، خود اللہ کی گواہی ہے اور اس کے فرشتوں اور ذی علم انسانوں کے نزدیک مقبول ہونے والا دین صرف اسلام ہی ہے، جمہور کی قرأت میں «إِنَّ» زیر کے ساتھ ہے اور معنی کے لحاظ سے دونوں ہی ٹھیک ہیں، لیکن جمہور کا قول زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ پہلی کتاب والوں نے اپنے پاک اللہ کے پیغمبروں کے آنے اور اللہ کی کتابیں نازل ہونے کے بعد بھی اختلاف کیا، جس کی وجہ سے صرف ان کا آپس کا بغض و عناد تھا کہ میں اس کیخلاف ہی چلوں چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو، پھر ارشاد ہے کہ جب اللہ کی آیتیں اتر چکی، اب جو ان کا انکار کرے انہیں نہ مانے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اس کی تکذیب کا بہت جلد حساب لے گا اور کتاب اللہ کی مخالفت کی وجہ سے اسے سخت عذاب دے گا اور اسے اس کی اس شرارت کا لطف چکھائے گا۔
پھر فرمایا اگر یہ لوگ تجھ سے توحید باری تعالیٰ کے بارے میں جھگڑیں تو کہہ دو کہ میں تو خالص اللہ ہی کی عبادت کروں گا جس کا نہ کوئی شریک ہے نہ اس جیسا کوئی ہے، نہ اس کی اولاد ہے نہ بیوی اور جو میرے امتی ہیں میرے دین پر ہیں۔ ان سب کا قول بھی یہی ہے، جیسے اور جگہ فرمایا «قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [12-يوسف:108]‏‏‏‏یعنی میری راہ یہی ہے میں خوب سوچ سمجھ کر دیکھ بھال کر تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں، میں بھی اور میرے تابعدار بھی یہی دعوت دے رہے ہیں۔
پھر حکم دیتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہود و نصاریٰ جن کے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب ہے اور مشرکین سے جو اَن پڑھ ہیں کہہ دو کہ تم سب کی ہدایت اسلام میں ہی ہے اور اگر یہ نہ مانیں تو کوئی بات نہیں، آپ اپنا فرض تبلیغ ادا کر چکے، اللہ خود ان سے سمجھ لے گا، ان سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے وہ جسے سیدھا راستہ دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے، اپنی حکمت کو وہی خوب جانتا ہے اس کی حجت تو پوری ہو کر ہی رہتی ہے، اس کی اپنے بندوں پر نظر ہے «لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ» [21-الأنبياء:23]‏‏‏‏ اسے خوب معلوم ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے اور کون ضلالت کا مستحق ہے؟ اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا۔
دوسری آیتوں میں بھی صاف صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہیں، اور خود آپ کے دین کے احکام بھی اس پر دلالت کرتے ہیں اور کتاب و سنت میں بھی بہت سی آیتیں اور حدیثیں اسی مفہوم کی ہیں، قرآن پاک میں ایک جگہ ہے «‏‏‏‏يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا» [7-الأعراف:158]‏‏‏‏ لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔
اور آیت میں ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا» [25-الفرقان:1]‏‏‏‏ بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام دنیا والوں کیلئے تنبیہ کرنے والا بن جائے۔
بخاری و مسلم وغیرہ میں کئی کئی واقعات سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب و عجم کے تمام بادشاہوں کو اور دوسرے اطراف کے لوگوں کو خطوط بھجوائے جن میں انہیں اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی خواہ وہ عرب ہوں عجم ہوں اہل کتاب ہوں مذہب والے ہوں اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کے فرض کو تمام و کمال تک پہنچا دیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:65]‏‏‏‏
مسند عبدالرزاق میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت میں سے جس کے کان میں میری نسبت کی آواز پہنچے اور وہ میری لائی ہوئی چیز پر ایمان نہ لائے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو مگر مجھ پر ایمان لائے بغیر مر جائے گا تو قطعاً جہنمی ہو گا۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح مسلم:153]‏‏‏‏
مسلم شریف میں بھی یہ حدیث مروی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے کہ میں ہر ایک سرخ و سیاہ کی طرف اللہ کا نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:521]‏‏‏‏
ایک اور حدیث میں ہے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا اور میں تمام انسانوں کیلئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:335]‏‏‏‏
مسند احمد میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی لڑکا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے وضو کا پانی رکھا کرتا تھا اور جوتیاں لا کر رکھ دیتا تھا، بیمار پڑا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بیمار پرسی کیلئے تشریف لائے، اس وقت اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلاں «‏‏‏‏لا الہٰ الا اللہ» ‏‏‏‏کہہ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور باپ کو خاموش دیکھ کر خود بھی خاموش ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا اس نے پھر اپنے باپ کی طرف دیکھا باپ نے کہا ابوالقاسم کی مان لے صلی اللہ علیہ وسلم پس اس بچے نے کہا «اشھد ان لا الہٰ الا اللہ وانک رسول اللہ» وہاں سے یہ فرماتے ہوئے اٹھے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے میری وجہ سے اسے جہنم سے بچا لیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5657]‏‏‏‏ یہی حدیث صحیح بخاری میں سیدنا امام بخاری رحمہ اللہ بھی لائے ہیں، ان کے سوا اور بھی بہت سی صحیح حدیثیں بھی اور قرآن کریم کی آیتیں ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے توحید کا پختہ ترین ثبوت پیش کیا ہے، وہ ہے اللہ عزوجل کی اپنی گواہی۔ اور اس کے مخلوق میں سے معزز ترین افراد، یعنی فرشتوں اور علماء کی گواہی۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی یہ ہے کہ اس نے توحید پر دلائل و براہین قاطعہ قائم فرمائے ہیں۔ آفاق و انفس کے دلائل اس عظیم اصول پر قائم ہیں۔ اللہ کا جو بندہ بھی توحید کا علم لے کر کھڑا ہوا ہے۔ اللہ نے ہمیشہ توحید کے منکروں اور مشرکوں کے خلاف اس کی مدد کی ہے۔ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ مشکلات کو اس کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا۔ مخلوق کے تمام افراد عاجز ہیں جو نہ اپنے آپ کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں، نہ کسی اور کے نفع نقصان پر اختیار رکھتے ہیں۔ یہ زبردست دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا واجب ہے۔ اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا باطل ہے۔ فرشتوں کی گواہی کا علم ہمیں اللہ کے بتانے سے اور اس کے رسولوں کے بتانے سے ہوا ہے۔ اہل علم کی گواہی اس لیے معتبر ہے کہ تمام دینی امور میں انھی سے رجوع کیا جاتا ہے۔ خصوصاً سب سے عظیم، سب سے زیادہ جلالت و شرف والے مسئلہ یعنی توحید کے مسئلہ میں۔ علماء کا اول سے آخر تک اس پر اتفاق ہے، انھوں نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی ہے اور توحید تک پہنچنے کے راستے بتائے ہیں۔ لہٰذا مخلوق پر واجب ہے کہ اتنی عظیم گواہیوں والے حکم کو تسلیم کریں اور اس پر عمل کریں۔ اس سے بھی یہ ثابت ہوا کہ سب سے زیادہ شرف والا کام توحید کو جاننا ہے۔ لہٰذا اس کی گواہی اللہ نے خود دی ہے۔ اور اپنی مخلوق میں سے عظیم ترین افراد کو اس کا گواہ بنایا ہے۔ شہادت (گواہی) علم و یقین کی بنیاد پر ہی دی جاسکتی ہے، جو آنکھ سے مشاہدہ کے برابر ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص توحید کے معاملہ میں اس مقام تک نہیں پہنچتا وہ اہل علم میں شامل نہیں۔ اس آیت میں علم کے شرف و منزلت کے بہت سے دلائل ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں میں سے انبیاء کو منتخب کرکے اس عظیم ترین مسئلہ پر شہادت دینے کے لیے مقرر کیا۔ (۲) اللہ نے ان کی گواہی کو اپنی گواہی اور فرشتوں کی گواہی کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا۔ اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے۔ (۳) اللہ نے انھیں علم والے فرمایا۔ ان کی اضافت علم کی طرف کی۔ کیونکہ وہی اسے لے کر اٹھنے والے اور اس صفت سے متصف ہیں۔ (۴) اللہ تعالیٰ نے انھیں لوگوں پر شاہد اور حجت قرار دیا اور جس چیز کی انھوں نے گواہی دی تھی، لوگوں کو اس پر عمل کرنے کاحکم دیا۔ اس طرح وہ اس کا سبب بنے اور اس کے مطابق ہونے والے ہر عمل کا ثواب انھیں پہنچے گا۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے۔ (۵) اللہ تعالیٰ نے اہل علم کو گواہ بنایا ہے اس سے ان کا سچا اور قابل اعتماد ہونا ثابت ہوتا ہے، اور یہ کہ اللہ نے انھیں جس چیز کا محافظ بنایا ہے، وہ اس معاملے میں دیانت دار ہیں۔ اپنی توحیدکے اثبات کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا عدل ثابت فرمایا ہے۔ ارشاد ہے ﴿قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ عدل کے ساتھ قائم یعنی اللہ تعالیٰ اپنے افعال میں، اور بندوں کے معاملات کے فیصلے کرنے میں ازل سے انصاف کے ساتھ متصف ہے۔ امرونہی میں بھی اس کا راستہ صراط مستقیم ہے خلق و تقدیر میں بھی۔ اس کے بعد پھر توحید کی تاکید فرمائی اور فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰ٘هَ اِلَّا هُوَ الْ٘عَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ’ ’اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
بنیادی مسئلہ کہ اللہ کی توحید کو تسلیم کیا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے، اس کے اتنے زیادہ نقلی اور عقلی دلائل موجود ہیں کہ صاحب بصیرت حضرات کے ہاں یہ سورج سے بھی زیادہ واضح ہوگیا ہے۔ نقلی دلائل میں قرآن و حدیث کی وہ تمام نصوص شامل ہیں جن میں اس کا حکم دیا گیا ہے، اس کی تائید کی گئی ہے، اہل توحید سے محبت، اور منکرین توحید سے نفرت اور ان کی عقوبت مذکور ہے، اور شرک و اہل شرک کی مذمت ہے۔ یہ سب توحید کے نقلی دلائل ہیں۔ قرآن تقریباً تمام ہی توحید کے دلائل پر مشتمل ہے۔ عقلی دلائل جنھیں غوروفکر کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے، قرآن نے ان کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے اور بہت سے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ سب سے بڑی عقلی دلیل اللہ کی ربوبیت کا اعتراف ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اللہ ہی خالق، رازق، تمام معاملات میں مختار کل ہے۔ وہ لازماً اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ معبود بھی اللہ ہی ہے، اس کے سوا کسی کی عبادت درست نہیں۔ چونکہ یہ واضح ترین اور عظیم ترین دلیل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کثرت کے ساتھ اس سے استدلال کیا ہے۔ صرف اللہ کے مستحق عبادت ہونے کی ایک اور عقلی دلیل یہ ہے کہ نعمتیں دینے والا اور مصیبتیں دور کرنے والا صرف وہی ہے۔ جس شخص کو یہ یقین ہے کہ ظاہری، باطنی، چھوٹی، بڑی، قلیل اور کثیر تمام نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں اور ہر مصیبت، سختی، تکلیف اور پریشانی کو صرف وہی دور کرسکتا ہے اور مخلوق میں سے کوئی فرد کسی کے لیے تو درکنار، اپنے لیے بھی حصول نعمت اور دفع مضرت کا مالک نہیں، اسے ضرور یہ یقین ہوگا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرنا سب سے بڑا باطل ہے۔ اور عبودیت اسی کا حق ہے جو اکیلا ہی نعمتیں دینے والا اور مصیبتیں ٹالنے والا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب پر اس دلیل کو بہت ہی زیادہ ذکر فرمایا ہے۔ ایک عقلی دلیل یہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمائی ہے کہ اللہ کے سوا جن معبودوں کی عبادت کی جاتی ہے وہ نہ نفع کے مالک ہیں نہ نقصان کے۔ وہ نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں نہ کسی اور کی۔ اور فرمایا ہے کہ وہ سماعت و بصارت سے محروم ہیں۔ اور اگر فرض کرلیا جائے کہ سنتے ہیں تو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ ان کی دوسری صفات بھی انھیں انتہائی ناقص ثابت کرتی ہیں۔ ان کی یہ حقیقت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم صفات اور افعال جمیلہ کا ذکر فرمایا ہے اور قدرت و غلبہ وغیرہ صفات ذکر کی ہیں جو سمعی اور عقلی دلائل سے معلوم ہوتی ہیں جو اس چیز کو کماحقہ سمجھ لے گا (کہ غیر اللہ مجبور ہیں اور اللہ تعالیٰ عظیم صفات، قوت غلبہ وغیرہ کا حامل ہے) اسے معلوم ہوجائے گا کہ عبادت کے لائق صرف رب عظیم ہے، جسے ہر لحاظ سے کمال، ہر قسم کی عظمت، تمام تعریف، ہر ایک قدرت، اور تمام تر کبریائی حاصل ہے۔ وہ عبادت کے لائق نہیں جو پیدا کیے گئے ہیں، جن کے فیصلے کوئی اور کرتا ہے، جو ناقص ہیں، بہرے اور گونگے ہیں، عقل و فہم سے محروم ہیں۔ ایک اور عقلی دلیل، جو اللہ کے بندے زمانہ قدیم میں بھی اور زمانہ جدید میں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں وہ اہل توحید کی عزت افزائی اور اہل شرک کی رسوائی اور عقوبت ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ نے توحید کو دین و دنیا کی ہر بھلائی کے حصول، اور ہر سحر سے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے۔ اور شرک و کفر کو تمام دینی و دنیاوی سزاؤں کا سبب قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب رسولوں کے واقعات بیان فرمائے جو انھیں اطاعت کرنے والوں اور نافرمانی کرنے والوں کے ساتھ پیش آئے، نافرمانوں کی سزائیں ذکر کیں، رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی نجات کا ذکر فرمایا، تو ہر واقعہ کے بعد فرمایا: ﴿اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً بے شک اس میں نشانی ہے یعنی عبرت ہے جس سے لوگ نصیحت حاصل کرسکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ توحید ہی نجات کا باعث ہے، اور اسے چھوڑنا تباہی کا باعث ہے۔ یہ بڑے بڑے عقلی اور نقلی دلائل ہیں جن سے یہ عظیم اصول ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اسے بار بار مختلف انداز سے بیان کیا ہے تاکہ حق واضح ہوجائے۔ پھر جو چاہے اسے قبول کرکے نجات پالے اور جو چاہے انکار کرکے تباہی کا نشانہ بن جائے۔ وللہ الحمد۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه أجل الشهادات الصادرة من الملك العظيم، ومن الملائكة، وأهل العلم على أجلِّ مشهود عليه وهو توحيد الله وقيامه بالقسط، وذلك يتضمن الشهادةَ على جميع الشرع وجميع أحكام الجزاء، فإن الشرع والدين أصله وقاعدته توحيد الله وإفراده بالعبودية والاعتراف بانفراده بصفات العظمة والكبرياء والمجد والعز والقدرة والجلال وبنعوت الجود والبر والرحمة والإحسان والجمال، وبكماله المطلق الذي لا يحصي أحد من الخلق أن يحيطوا بشيء منه أو يبلغوه أو يصلوا إلى الثناء عليه، والعبادات الشرعية والمعاملات وتوابعها والأمر والنهي كله عدل وقسط لا ظلمَ فيه ولا جورَ بوجه من الوجوه، بل هو في غاية الحكمة والإحكام، والجزاء على الأعمال الصالحة والسيئة كله قِسط وعدل، {قل أي شيء أكبر شهادة قل الله}؛ فتوحيد الله ودينه وجزاؤه قد ثبت ثبوتاً لا ريب فيه وهو أعظم الحقائق وأوضحها، وقد أقام الله على ذلك من البراهين والأدلة ما لا يمكن إحصاؤه وعده.

وفي هذه الآية فضيلة العلم والعلماء لأن الله خصهم بالذكر من دون البشر، وقرن شهادتهم بشهادته وشهادة ملائكته وجعل شهادتهم من أكبر الأدلة والبراهين على توحيده ودينه وجزائه، وأنه يجب على المكلفين قبول هذه الشهادة العادلة الصادقة، وفي ضمن ذلك تعديلهم وأن الخلق تبع لهم وأنهم هم الأئمة والمتبوعون، وفي هذا من الفضل والشرف وعلو المكانة ما لا يقادر قدره.