تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { يَحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ يَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ:} ایمان اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس سے امید کے درمیان ہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس گئے جو موت (کے چل چلاؤ) میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ وَاللّٰهِ! يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنِّيْ أَرْجُو اللّٰهَ وَ إِنِّيْ أَخَافُ ذُنُوْبِيْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لَا يَجْتَمِعَانِ فِيْ قَلْبِ عَبْدٍ فِيْ مِثْلِ هٰذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللّٰهُ مَا يَرْجُوْ وَ آمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ] [ترمذي، الجنائز، باب الرجاء باللّٰہ والخوف بالذنب عند الموت: ۹۸۳] ”تو اپنے آپ کو کس حال میں پاتا ہے؟“ اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا بھی ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جیسے مقام پر کسی بندے کے دل میں یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہوتیں مگر اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عطا کر دیتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اس چیز سے اسے امن عطا کر دیتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے۔“
➌ {قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ …:} یہاں {” الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ “} (جاننے والے) ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو دن رات، خوش حالی و بدحالی میں ہر وقت ایک اللہ ہی کی عبادت کرنے والے اور اسی کے فرماں بردار ہیں اور {” وَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ “} (نہ جاننے والے) ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو تکلیف اور مصیبت میں تمام معبودوں سے واپس پلٹ کر ایک اللہ ہی کو پکارتے ہیں، مگر خوش حالی میں اسے بھول کر اللہ تعالیٰ کے لیے کئی شریک بنا لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جاننے کے باوجود کہ تمام اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، نعمت عطا ہونے پر اسے بھلا دیتے ہیں اور اس کے شریک بنا لیتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں نہ جاننے والے قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنے علم پر عمل نہیں کرتا وہ جاہل ({لَا يَعْلَمُ}) ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا» [فاطر: ۲۸] ”اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف علماء (جاننے والے) ہی ڈرتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والے اللہ کے نزدیک علماء نہیں، خواہ ان کے پاس کتنی ڈگریاں اور کتنے عہدے ہوں اور خواہ انھوں نے کتنی کتابیں یا کتب خانے چاٹ رکھے ہوں۔
➍ اس آیت سے علم اور اس پر عمل کرنے والے اہلِ علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَ آنَاءَ النَّهَارِ، وَ رَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ] [بخاري، التوحید، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : رجل آتاہ اللّٰہ القرآن…: ۷۵۲۹] ”دو چیزوں کے سوا رشک کرنا درست نہیں، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن دیا تو وہ رات کی گھڑیوں میں اور دن کی گھڑیوں میں اس کی تلاوت کرتا ہے، اور ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے کھلا مال عطا کیا ہے تو وہ رات کی گھڑیوں اور دن کی گھڑیوں میں اسے خرچ کرتا ہے۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”بَابُ فَضْلِ الْعِلْمِ“} میں علم کی فضیلت میں دو آیات نقل فرمائی ہیں، ایک سورۂ مجادلہ کی: «يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ» [المجادلۃ: ۱۱] ”اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرے گاجو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا۔“ اور دوسری سورۂ طٰہٰ کی: «وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» [طٰہٰ: ۱۱۴] ”اور کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر۔“ موسیٰ اور خضر علیھما السلام کا واقعہ بھی علم کی فضیلت کی دلیل ہے۔ (دیکھیے بخاری: ۷۴)
➎ { اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ: ” الْاَلْبَابِ “ ”لُبٌّ“} کی جمع ہے، مغز، عقل۔ جمع ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”عقلوں والے“ کیا گیا ہے۔ ان عقلوں والوں سے مراد اہلِ ایمان ہیں نہ کہ کفار، گو وہ اپنے آپ کو کس قدر عقل و دانش والے سمجھتے ہوں، کیونکہ جب وہ اپنی عقلوں کو استعمال کر کے نصیحت حاصل ہی نہیں کرتے تو عقلوں والے کیسے ہوئے!؟ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کی طرح بلکہ ان سے بھی {”اضل“} قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۹) اور انبیاء (۴۶) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «قَانِتٌ» کے معنی مطیع اور فرمانبردار کے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ «آنَاءَ اللَّيْلِ» سے مراد آدھی رات سے ہے۔ منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مغرب عشاء کے درمیان کا وقت ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں۔ اول درمیانہ اور آخری شب مراد ہے۔ یہ عابد لوگ ایک طرف لرزاں و ترساں ہیں دوسری جانب امیدوار اور طمع کناں ہیں۔ نیک لوگوں پر زندگی میں تو خوف اللہ امید پر غالب رہتا ہے موت کے وقت خوف پرامید کا غلبہ ہو جاتا ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس اس کے انتقال کے وقت جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ { تو اپنے آپ کو کس حالت میں پاتا ہے؟ } اس نے کہا خوف و امید کی حالت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس شخص کے دل میں ایسے وقت یہ دونوں چیزیں جمع ہو جائیں اس کی امید اللہ تعالیٰ پوری کرتا ہے اور اس کے خوف سے اسے نجات عطا فرماتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:983،قال الشيخ الألباني:حسن]
نسائی وغیرہ میں حدیث ہے کہ { جس نے ایک رات سو آیتیں پڑھ لیں اس کے نامہ اعمال میں ساری رات کی قنوت لکھی جاتی ہے }۔ [مسند احمد:103/4:حسن بالشواهد]
پس ایسے لوگ اور مشرک جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں کسی طرح ایک مرتبے کے نہیں ہو سکتے، عالم اور بےعلم کا درجہ ایک نہیں ہو سکتا۔ ہر عقلمند پر ان کا فرق ظاہر ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه مقابلةٌ بين العامل بطاعة الله وغيره، وبين العالم والجاهل، وأنَّ هذا من الأمور التي تَقَرَّرَ في العقول تباينُها، وعُلِمَ علماً يقيناً تفاوتُها؛ فليس المعرِضُ عن طاعة ربِّه المتَّبِع لهواه كمن هو قانتٌ؛ أي: مطيعٌ لله بأفضل العبادات، وهي الصلاة، وأفضل الأوقات، وهي أوقات الليل، فوصَفَه بكثرة العمل وأفضله، ثم وَصَفَه بالخوف والرجاء، وذكر أنَّ متعلَّقَ الخوف عذابُ الآخرة على ما سَلَفَ من الذُّنوب، وأنَّ متعلَّقَ الرجاءِ رحمةُ الله، فوصفه بالعمل الظاهر والباطن. {قل هل يَسْتَوي الذين يعلمون}: ربَّهم ويعلمونَ دينَه الشرعيَّ ودينَه الجزائيَّ وما له في ذلك من الأسرار والحكم، {والذين لا يعلمونَ}: شيئاً من ذلك، لا يستوي هؤلاء ولا هؤلاء؛ كما لا يستوي الليل والنهار والضياء والظلام والماء والنار. {إنَّما يَتَذَكَّرُ}: إذا ذُكِّروا {أولو الألبابِ}؛ أي: أهل العقول الزكيَّة الذكيَّة؛ فهم الذين يُؤْثِرونَ الأعلى على الأدنى؛ فيؤثِرون العلمَ على الجهل، وطاعةَ اللَّه على مخالفتِهِ؛ لأنَّ لهم عقولاً ترشِدُهم للنظر في العواقب؛ بخلاف مَنْ لا لبَّ له ولا عقلَ؛ فإنَّه يتَّخِذُ إلهه هواه.