تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { يَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ: ” يَفْسَحِ “} فعل مضارع معلوم ہے جو {” تَفَسَّحُوْا “} امر کا جواب ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے، آگے ملانے کے لیے اسے کسرہ دیا گیا ہے، یعنی تم مجلس میں کشادگی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے لیے فراخی کر دے گا، اس فراخی میں سب سے پہلی فراخی تودل کی فراخی ہے کہ خوش دلی سے کھل جاؤ گے تو دلوں کی تنگی دور ہوگی اور ان میں بھائیوں کے لیے وسعت پیدا ہوگی۔ اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کے ہر معاملے میں تمھیں فراخی عطا فرمائے گا، کیونکہ ہر عمل کا بدلا اسی جیسا ہوتا ہے، جیسا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ بَنٰی مَسْجِدًا لِلّٰهِ بَنَی اللّٰهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ] [مسلم، المساجد، باب فضل بناء المساجد والحث علیھا: ۲۵ /۵۳۳۔ بخاري: ۴۵۰] ”جو شخص اللہ کے لیے مسجد بنائے اللہ اس کے لیے اس کی مثل جنت میں (گھر) بنائے گا۔“ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُّؤْمِنٍ كُرْبَةً مِّنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللّٰهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِّنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللّٰهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللّٰهُ فِيْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِيْ عَوْنِ أَخِيْهِ] [مسلم، الذکر، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر: ۲۶۹۹] ”جو شخص کسی مومن سے دنیا کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا۔ اور جو کسی تنگی والے پر آسانی کرے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جو شخص کسی مسلم (کے عیبوں) پر پردہ ڈالے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس (کے عیبوں) پر پردہ ڈالے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے۔“
➌ {وَ اِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا: ” نَشَزَ يَنْشِزُ نَشْزًا“ (ض،ن) ”اَلرَّجُلُ عَنْ مَّكَانِهٖ“} آدمی کا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہونا۔ جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو جاؤ تو اٹھ کھڑے ہو جاؤ، یعنی جب مجلس کا امیر یا مجلس کے منتظمین حاضرین میں سے کسی کے علم و فضل اور شرف و مرتبہ کے پیش نظر اسے امیر کے قریب لانے کے لیے کسی کو اس کی جگہ سے اٹھ جانے کے لیے کہیں تو اسے چاہیے کہ اٹھ جائے اور اپنے دل میں کوئی تنگی یا ملال نہ لائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لِيَلِنِيْ مِنْكُمْ أُوْلُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهٰی ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ] [مسلم، الصلاۃ، باب تسویۃ الصفوف و إقامتہا …: ۴۳۲] ”تم میں سے میرے قریب وہ لوگ ہوں جو سمجھ اور عقل والے ہوں، پھر جو ان سے (سمجھ اور عقل میں) قریب ہوں۔“ اسی طرح اگر امیر کسی شخص سے یا کچھ لوگوں سے مشورہ کرنے کے لیے یا ان کی بات سننے کے لیے کسی کو اس کی جگہ سے اٹھ جانے کے لیے کہے تو اسے کسی ملال کے بغیر اٹھ جانا چاہیے۔ یہ ادب اس لیے مقرر فرمایا کہ بعض اوقات عام سمجھ والے مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی وجہ سے یا منافقین اپنے خبثِ باطن کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ساری جگہ گھیر لیتے، پھر کوئی بزرگ صحابی مثلاً ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما وغیرہ آتے تو ان کے لیے جگہ نہ چھوڑتے اور اگر اٹھنے کے لیے کہا جاتا تو برا مناتے۔ ظاہر ہے اگر اس ادب کا خیال نہ رکھا جائے تو کسی امیر کی کوئی مجلس صحیح طریقے سے چل ہی نہیں سکتی۔ اسی طرح اگر امیر مجلس کو برخاست کر دے اور سب کو اٹھ جانے کے لیے کہے تو انھیں اٹھ جانا چاہیے اور اس میں اپنی توہین محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
➍ {يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …: ” يَرْفَعِ “} فعل مضارع ہے جو {” فَانْشُزُوْا “} امر کا جواب ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے، کسرہ اسے آگے ملانے کے لیے دیا گیا ہے۔ یعنی جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو جاؤ تو اٹھ کھڑے ہو جاؤ۔ جب تم اللہ کا حکم سمجھ کر تواضع اختیار کرو گے اور اٹھنے میں کسی طرح کی توہین یا کسرِ شان کا خیال دل میں نہیں لاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو درجوں میں بلند کر دے گا جو ایمان لائے، کیونکہ ایمان کا تقاضا تواضع ہے اور ایمان اور کبر کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِّنْ كِبْرٍ وَلاَ يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِّنْ إِيْمَانٍ] [أبو داوٗد، اللباس، باب ما جاء في الکبر: ۴۰۹۱، وقال الألباني صحیح] ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر کبر ہوگا اور وہ شخص آگ میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہوگا۔“
➎ {يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ:} بظاہر یہاں الفاظ یہ ہونے چاہییں تھے کہ {”يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ نَشَزُوْا مِنْكُمْ“} یعنی ”(جب تمھیں کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو جاؤ تو اٹھ کھڑے ہو جاؤ) تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اٹھ کھڑے ہوں گے درجات میں بلند کر دے گا“ مگر اللہ تعالیٰ نے منافقین کو نکالنے کے لیے {” اٰمَنُوْا مِنْكُمْ “} کی قید لگا دی کہ منافقین اس حکم پر اٹھ کھڑے ہوں تب بھی انھیں رفع درجات کا شرف حاصل نہیں ہو سکتا، ان کا ٹھکانا {”الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ “} (آگ کا سب سے نچلا درجہ) ہی ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۴۵)۔
➏ {وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ:} یہ {” الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} ہی کی صفت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو {” الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ “} قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ محمد (۱۶) کی تفسیر اور ایمان کا ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ بھی علم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا، جیسا کہ فرمایا: «فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ» [محمد: ۱۹] ”پس جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ہاں علم اور ایمان کے مدارج میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ اسی طرح جنت میں علم کے لحاظ سے اہلِ ایمان کے مدارج میں بلندی ہوگی۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْتَقِ وَ رَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا] [أبو داوٗد، الوتر، باب کیف یستحب الترتیل في القراء ۃ: ۱۴۶۴، وقال الألباني حسن صحیح] ”قرآن والے شخص سے کہا جائے گا پڑھ اور چڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا، تیرا مقام آخری آیت کے پاس ہے جسے تو پڑھے گا۔ “ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ يَرْفَعُ بِهٰذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِيْنَ] [مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ…: ۸۱۷، عن عمر رضی اللہ عنہ] یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا درجات میں بلندی عطا فرمائے گا، وہ جس قدر ایمان اور علم میں زیادہ ہوں گے اتنے ہی درجوں میں بلند ہوں گے۔ اس آیت سے علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
➐ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے {” الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ “} اور {” وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ “} کو عطف کے ساتھ ذکر فرمایا ہے، جو مغایرت کے لیے ہوتا ہے، تو یہ دونوں ایک ہی موصوف کی صفت کیسے ہو سکتے ہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں موصوف میں مغایرت مراد نہیں صفات میں مغایرت مراد ہے اور بعض اوقات ایک ہی موصوف کی صفات اس طرح بھی لائی جاتی ہیں، جیسا کہ سورۂ اعلیٰ میں ہے: «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى (1) الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى (2) وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى (3) وَ الَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى» [الأعلٰی: ۱ تا ۴] ”اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو سب سے بلند ہے۔ وہ جس نے پیدا کیا، پس درست بنایا۔ اور وہ جس نے اندازہ ٹھہرایا، پھر ہدایت کی۔ اور وہ جس نے چارا اُگایا۔“
➑ {وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے تمام اعمال سے پوری طرح باخبر ہے کہ تم اٹھنے کا حکم ملنے پر خوش دلی سے اٹھ کھڑے ہوتے ہو یا نفاق اور کبر کی وجہ سے مجبوراً اٹھتے ہو اور وہ تمھیں تمھارے عمل کے مطابق ہی جزا دے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ سیدنا جابرؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جمعہ کے دن اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ یوں کہے کہ پھیل جاؤ۔ [مسلم۔ کتاب السلام۔ باب من اتٰی مجلسا فوجد فرجۃ فیجلس۔۔]
3۔ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جب (کسی ضرورت کے لیے) اپنی جگہ سے اٹھے پھر واپس آئے تو وہ اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے“ [مسلم۔ کتاب السلام۔ باب اذاقام من مجلسہ ثم عاد الیہ فھواحق بہ]
[13] یعنی اللہ تمہاری دل کی تنگیوں اور مادی تنگیوں کو دور کر دے گا اور اپنی رحمت کے دروازے کشادہ کر دے گا۔
[14] اس آیت، مذکورہ بالا احادیث اور بعض دیگر نصوص سے جو آداب مجلس مسلمانوں کو سکھائے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
1۔ مجلس میں پہنچ کر اہل مجلس کو سلام کہا جائے۔
2۔ پھر جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جانا چاہیے۔ دوسروں کو تنگ نہ کرنا چاہیے۔ نہ اس بات میں اپنی ہتک محسوس کرنا چاہیے۔
3۔ اہل مجلس جب دیکھیں کہ جگہ تنگ ہو رہی ہے اور نئے آنے والوں کو جگہ نہیں مل رہی تو انہیں مجلس کا حلقہ وسیع کر لینا چاہیے۔ یا اگر جمعہ وغیرہ کا اجتماع ہو تو سکڑ کر اور سمٹ کر بیٹھ جانا چاہیے۔ تاکہ آنے والوں کے لیے جگہ بن جائے۔
4۔ ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو کر بیٹھے یا جیسے خطبہ جمعہ میں اکثر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ امام کے قریب ہو کر بیٹھیں۔ تو ایسی صورت میں کسی کے لئے، خواہ وہ عزت اور مرتبہ میں بڑا ہو، یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ خود بیٹھ جائے۔
5۔ حفظ مراتب کا بھی ایک مقام ہے۔ اگر کوئی چھوٹا کسی بڑے کو آتے دیکھ کر از راہ تواضع اور آنے والے کا احترام کرتے ہوئے اپنی جگہ اس کے لیے چھوڑ کر خود پیچھے ہٹ جائے تو یہ چیز چھوٹے کی عزت اور درجات کی بلندی کا سبب بن جائے گی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اکثر ایسا ہوتا تھا۔
6۔ اگر کوئی شخص مثلاً خطبہ جمعہ میں وضو ٹوٹ جانے یا کسی اور وجہ سے اپنی جگہ سے اٹھ جاتا ہے اور وضو کر کے واپس آتا ہے تو کوئی دوسرا اس کی جگہ پر قبضہ نہ جما لے۔ بلکہ پہلا شخص ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔
7۔ اگر میر مجلس مجلس کو برخاست کرنے اور چلنے جانے کا حکم دے یا کسی ایک شخص کو کسی مصلحت کی بنا پر چلے جانے کو کہے تو اسے اس حکم میں نہ عار محسوس کرنی چاہیے اور نہ اسے اس کی تعمیل میں اپنی توہین یا ہتک محسوس کرنا چاہیے۔
8۔ اگر کھانا کھانے کی مجلس ہو تو کھانے سے فراغت کے بعد باتوں میں مشغول ہو کر میزبان کو پریشان اور تنگ نہ کرنا چاہیے بلکہ فراغت کے بعد جلد اجازت لے کر رخصت ہو جانا چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ ایک حدیث میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ کیلئے مسجد بنا دے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دے گا۔ } [صحیح بخاری:450]
ایک اور حدیث میں ہے کہ { جو کسی سختی والے پر آسانی کرے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا، جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی مدد میں لگا رہے اللہ تعالیٰ خود اپنے اس بندے کی مدد پر رہتا ہے۔ } [صحیح مسلم:2699] اور بھی اسی طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت مجلس ذکر کے بارے میں اتری ہے مثلاً وعظ ہو رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نصیحت کی باتیں بیان فرما رہے ہیں لوگ بیٹھے سن رہے ہیں، اب جو دوسرا کوئی آیا تو کوئی اپنی جگہ سے نہیں سرکتا تاکہ اسے بھی جگہ مل جائے، قرآن کریم نے حکم دیا کہ ایسا نہ کرو ادھر ادھر کھل جایا کرو تاکہ آنے والے کی جگہ ہو جائے۔
مسند شافعی میں ہے، تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن اس کی جگہ سے ہرگز نہ اٹھائے بلکہ کہہ دے کہ گنجائش کرو۔[مسند شافعی:159/1ضعیف]
اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے کہ کسی آنے والے کیلئے کھڑے ہو جانا جائز ہے یا نہیں؟ بعض لوگ تو اجازت دیتے ہیں اور یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سردار کیلئے کھڑے ہو جاؤ۔ ”} [صحیح بخاری:2550]
بعض علماء منع کرتے ہیں اور یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ { جو شخص یہ چاہے کہ لوگ اس کیلئے سیدھے کھڑے ہوں وہ جہنم میں اپنی جگہ بنا لے۔ } [سنن ترمذي:2755،قال الشيخ الألباني:حسن]
ہاں اسے عادت بنا لینا کہ مجلس میں جہاں کوئی بڑا آدمی آیا اور لوگ کھڑے ہو گئے یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، سنن کی حدیث میں ہے کہ { صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب اور باعزت کوئی نہ تھا لیکن تاہم آپ کو دیکھ کر وہ کھڑے نہیں ہوا کرتے تھے، جانتے تھے کہ آپ اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔ } [سنن ترمذي:2754،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سنن کی اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی مجلس کے خاتمہ پر بیٹھ جایا کرتے تھے اور جہاں آپ تشریف فرما ہو جاتے وہی جگہ صدارت کی جگہ ہو جاتی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے اپنے مراتب کے مطابق مجلس میں بیٹھ جاتے۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے آپ دائیں جانب، سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں اور عموماً سیدنا عثمان و سیدنا علی رضی اللہ عنہما آپ کے سامنے بیٹھتے تھے کیونکہ یہ دونوں بزرگ کاتب وحی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے اور یہ وحی کو لکھ لیا کرتے تھے۔ }
اور یہ انتظام اس لیے تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشادات یہ حضرات سنیں اور بخوبی سمجھیں، یہی وجہ تھی کہ صفہ والی مجلس میں جس کا ذکر ابھی ابھی گزرا ہے آپ نے اور لوگوں کو ان کی جگہ سے ہٹا کر وہ جگہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کو دلوائی، گو اس کے ساتھ اور وجوہات بھی تھیں مثلاً ان لوگوں کو خود چاہیئے تھا کہ ان بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم کا خیال کرتے اور لحاظ و مروت برت کر خود ہٹ کر انہیں جگہ دیتے، جب انہوں نے از خود ایسا نہیں کیا تو پھر حکماً ان سے ایسا کرایا گیا، اسی طرح پہلے کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے کلمات پوری طرح سن چکے تھے اب یہ حضرات آئے تھے تو آپ نے چاہا کہ یہ بھی باآرام بیٹھ کر میری حدیثیں سن لیں اور دینی تعلیم حاصل کر لیں، اسی طرح امت کو اس بات کی تعلیم بھی دینی تھی کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو امام کے پاس بیٹھنے دیں اور انہیں اپنے سے مقدم رکھیں۔
مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی صفوں کی درستی کے وقت ہمارے مونڈھے خود پکڑ پکڑ کر ٹھیک ٹھاک کرتے اور زبانی بھی فرماتے جاتے سیدھے رہو، ٹیڑھے ترچھے نہ کھڑے ہوا کرو، دانائی اور عقلمندی والے مجھ سے بالکل قریب رہیں پھر درجہ بہ درجہ دوسرے لوگ۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے اس حکم کے باوجود افسوس کہ اب تم بڑی ٹیڑھی صفیں کرتے ہو۔ } [صحیح مسلم:432]
مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے ظاہر ہے کہ جب آپ کا یہ حکم نماز کیلئے تھا تو نماز کے سوا کسی اور وقتوں میں تو بطور اولیٰ یہی حکم رہے گا، ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفوں کو درست کرو، مونڈھے ملائے رکھو، صفوں کے درمیان خالی جگہ نہ چھوڑو، اپنے بھائیوں کے پاس صف میں نرم بن جایا کرو، صف میں شیطان کیلئے سوراخ نہ چھوڑو صف ملانے والے کو اللہ تعالیٰ ملاتا ہے اور صف توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ کاٹ دیتا ہے۔ } [سنن ابوداود:666،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اسی لیے سید القراء سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ جب پہنچتے تو صف اول میں سے کسی ضعیف العقل شخص کو پیچھے ہٹا دیتے اور خود پہلی صف میں کھڑے ہو جاتے اور اسی حدیث کو دلیل میں لاتے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھ سے قریب ذی رائے اور اعلیٰ عقلمند کھڑے ہوں پھر درجہ بہ درجہ دوسرے لوگ۔“ } [مسند احمد:140/5:صحیح]
اور اس حدیث کو پیش کرتے جو اوپر گزری کہ کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ میں کوئی اور نہ بیٹھے، یہاں بطور نمونے کے یہ چند مسائل اور تھوڑی حدیثیں لکھ کر ہم آگے چلتے ہیں بسط و تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں، نہ یہ موقع ہے۔
ایک صحیح حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ تین شخص آئے ایک تو مجلس کے درمیان جگہ خالی دیکھ کر وہاں آ کر بیٹھ گئے دوسرے نے مجلس کے آخر میں جگہ بنا لی تیسرے واپس چلے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں تمہیں تین شخصوں کی بابت خبر دوں، ایک نے تو اللہ کی طرف جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جگہ دی، دوسرے نے شرم کی۔ اللہ نے بھی اس سے حیاء کی، تیسرے نے منہ پھیر لیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔“ } [صحیح بخاری:66]
مسند احمد میں ہے کہ { کسی کو حلال نہیں کہ دو شخصوں کے درمیان تفریق کرے، ہاں ان کی خوشنودی سے ہو تو اور بات ہے۔ } [سنن ابوداود:4845،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، حسن بصری وغیرہ فرماتے ہیں مجلسوں کی کشادگی کا حکم جہاد کے بارے میں ہے، اسی طرح اٹھ کھڑے ہونے کا حکم بھی جہاد کے بارے میں ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ مجلسوں میں جگہ دینے کو جب کہا جائے تو جگہ دینے میں اور جب چلے جانے کو کہا جائے تو چلے جانے میں اپنی ہتک نہ سمجھو بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مرتبہ بلند کرنا اور اپنی توقیر کرانا ہے، اسے اللہ ضائع نہ کرے گا بلکہ اس پر دنیا اور آخرت میں نیک بدلہ دے گا، جو شخص احکام الٰہیہ پر تواضع سے گردن جھکا دے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور اس کی شہرت نیکی کے ساتھ کرتا ہے۔ ایمان والوں اور صحیح علم والوں کا یہی کام ہوتا ہے کہ اللہ کے احکام کے سامنے گردن جھکا دیا کریں اور اس سے وہ بلند درجوں کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ بلند مرتبوں کا مستحق کون ہے اور کون نہیں؟
علم اور علماء کی فضیلت، جو اس آیت اور دیگر آیات و احادیث سے ظاہر ہے میں نے ان سب کو بخاری شریف کی کتاب العلم کی شرح میں جمع کر دیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا أدبٌ من الله لعباده [المؤمنين] إذا اجتمعوا في مجلس من مجالس مجتمعاتهم، واحتاجَ بعضُهم أو بعضُ القادمين [عليهم] للتفسُّح له في المجلس؛ فإنَّ من الأدب أن يَفْسَحوا له؛ تحصيلاً لهذا المقصود، وليس ذلك بضارٍّ للفاسح شيئاً، فيحصلُ مقصود أخيه من غير ضررٍ يلحقه، والجزاء من جنس العمل؛ فإنَّ من فَسَحَ؛ فَسَحَ الله له، ومن وسَّع لأخيه؛ وسَّع الله عليه، {وإذا قيل انشُزوا}؛ أي: ارتفعوا وتَنَحَّوْا عن مجالسكم لحاجةٍ تعرِضُ، {فانشُزوا}؛ أي: فبادروا للقيام لتحصيل تلك المصلحة؛ فإنَّ القيام بمثل هذه الأمور من العلم والإيمان، والله تعالى يرفع أهل العلم والإيمان درجاتٍ بحسب ما خصَّهم [اللَّه] به من العلم والإيمان. {والله بما تعملونَ خبيرٌ}: فيجازي كلَّ عامل بعمله؛ إن خيراً فخيرٌ، وإن شرًّا فشرٌّ. وفي هذه الآية فضيلة العلم، وأنَّ زينته وثمرتَه التأدُّب بآدابه والعمل بمقتضاه.