تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت سے چند باتیں واضح طور پر سمجھ میں آ رہی ہیں: (1) ہر جنگ میں تمام مسلمانوں کا نکلنا نہ ضروری ہے نہ ممکن، بلکہ تقسیم کار کے اصول پر عمل ہو گا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنولحیان کی طرف ایک لشکر بھیجتے ہوئے فرمایا: ”ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی نکلے اور اجر دونوں کے لیے برابر ہے (تاکہ ایک میدان میں جائے اور دوسرا اپنے اور اپنے بھائی کے پیچھے کے معاملات کی خیر کے ساتھ نگرانی کرے)۔“ [مسلم، الإمارۃ، باب فضل إعانۃ الغازی…: 1896/138] ہاں، اگر ضرورت کی بنا پر امیر نفیر عام کا حکم دے تو سب کا نکلنا ضروری ہو گا۔ (2) فرقہ بڑا ہوتا ہے اور طائفہ چھوٹا، حتیٰ کہ ایک آدمی پر بھی طائفہ کا لفظ بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اِنْ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا }» [الحجرات: ۹] یہ آیت دو لڑنے والے آدمیوں کے لیے بھی ہے، کسی گروہ میں سے جنگ کے لیے زیادہ لوگ نکلیں یا ایک آدمی، سب پر طائفہ کا لفظ صادق آتا ہے۔
(3) {” لِيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ “} تفقہ باب تفعل سے ہے، مراد کوشش اور محنت کے ساتھ اچھی طرح سمجھ حاصل کرنا ہے۔ یہاں دین کے دو معنی مراد ہو سکتے ہیں، ایک تو قتال فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے راستے میں لڑنا، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم عینہ (حیلے کے ساتھ سود کی ایک صورت) کے ساتھ بیع کرنے لگو گے اور کھیتی باڑی پر خوش ہو جاؤ گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کرے گا جسے دور نہیں کرے گا [حَتّٰی تَرْجِعُوْا اِلٰی دِيْنِكُمْ] ”یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف واپس پلٹ آؤ۔“ [أبوداوٗد، البیوع، باب فی النھی عن العینۃ: ۳۴۶۲، و صححہ الألبانی] یہاں دین سے مراد قتال فی سبیل اللہ ہے، اس میں تفقہ جنگ کے میدانوں ہی میں حاصل ہو سکتا ہے۔ سو سال تک شیخ الحدیث کی مسند پر بیٹھے رہیں کبھی یہ تفقہ حاصل نہیں ہو گا، آپ اپنے گھر یا سکول یا کالج یا یونیورسٹی یا اکیڈمی یا دار العلوم میں جتنی بھی جنگی کتابیں اور دشمن کی چالیں پڑھ لیں، یا غازیان اسلام کے معرکے پڑھ لیں، میدان جنگ میں جائے بغیر دین (جنگ) کی حقیقی اور واقعی سمجھ کسی صورت حاصل نہیں ہو سکتی، نہ ہی آدمی اپنی قوم کو دشمن کے خطرے سے صحیح طور پر ڈرا کر اس سے بچنے کے لیے خبردار کر سکتا ہے۔
دین کا دوسرا معنی عام ہے، یعنی پورا دین اسلام، اس میں تفقہ حاصل کرنے کے لیے بھی جہاد کے میدانوں کا رخ کرنا ضروری تھا، کیونکہ دین کے علم کا سرچشمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تھی اور آپ مدینہ میں ہجرت کے بعد اکثر جہاد فی سبیل اللہ کے لیے سفر ہی میں رہتے، یا پھر اپنے کسی صاحب علم و فقہ صحابی کو امیر بنا کر بھیجتے تھے۔ بہت سے معجزات اور مسائل و احکام دوران سفر ہی واقع یا نازل ہوئے، اس لیے جب صحابہ کے حالات بیان ہوتے ہیں تو ان کی قابلیت و فضیلت کا ذکر اس طرح ہوتا ہے: {”شَهِدَ الْمَشَاهِدَ كُلَّهَا“} کہ وہ تمام جنگوں میں حاضر رہے اور کہا جاتا ہے: {” شَهِدَ الْبَدْرَ اَوِ الْحُدَيْبِيَةَ اَوْ فَتْحَ مَكَّةَ اَوْ حُنَيْنًا اَوْ تَبُوْكَ “} کہ فلاں صاحب بدر یا حدیبیہ یا فتح مکہ یا حنین یا تبوک میں شریک ہوئے اور یہ بات تو عیاں ہے کہ گھر کے بکھیڑوں میں علم و فقہ کا حصول اس طرح ممکن ہی نہیں جس طرح ہر چیز سے فارغ ہو کر لشکر اسلام میں جا کر ممکن ہے۔ دیکھو مسیلمہ کذاب کی لڑائی میں قرآن کے کتنے قاری اور علماء و فقہاء شہید ہوئے۔ لڑائی تو تھوڑی دیر کے لیے ہوئی تھی، باقی دوران سفر اقامت اور رباط میں تعلیم و تعلّم یعنی تفقہ فی الدین ہی کا شغل ہوتا تھا، جس میں لڑنے کے سلیقے کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام مسائل سیکھے سکھائے جاتے تھے اور سب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، عشرہ مبشرہ اور دوسرے افاضل صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے دورانِ جہاد میں دین سیکھتے اور واپس اپنی قوم میں جا کر انھیں دوسرے دینی مسائل سکھانے کے ساتھ ساتھ دنیا اور آخرت کی ذلت، ترکِ جہاد سے ڈرا کر انھیں دشمن سے بچنے کی ترغیب دیتے۔ {” لِيُنْذِرُوْا “} اور {” يَحْذَرُوْنَ “} پر غور فرمائیں تو بات کافی حد تک سمجھ میں آ جائے گی کہ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی حالتِ زار کون سی چیز میں تفقہ حاصل نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔
سید المفسرین امام طبری رحمہ اللہ اور کئی اور مفسرین نے اسی مفہوم کو ترجیح دی ہے، البتہ {” لِيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ “} میں دین سے جہاد مراد لینے کی دلیل: [حَتّٰی تَرْجِعُوْا اِلٰی دِيْنِكُمْ] انھوں نے ذکر نہیں فرمائی۔
آیت کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب سورۂ توبہ میں جنگ تبوک سے رہ جانے والوں پر اللہ تعالیٰ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا تو ہر مسلمان کی کوشش اور خواہش یہ تھی کہ آئندہ ہم ہر جنگ میں ضرور جائیں گے، اس پر یہ آیت اتری کہ تمام مسلمانوں کو ہر مہم کے لیے نہیں نکل جانا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں اکیلے رہ جائیں، بلکہ ہر قبیلے میں سے کچھ لوگوں کو مدینہ میں آپ کے پاس بھی آ کر حاضر رہنا چاہیے، تاکہ وہ مدینہ کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرے داری کا فریضہ بھی سرانجام دیں اور علم بھی حاصل کریں اور واپس جا کر اپنی قوم کو تعلیم دین سے آراستہ کریں۔ اسی طرح کچھ لوگوں کو دینی مدارس میں پڑھنے کے لیے بھی نکلنا چاہیے، تاکہ وہ یکسوئی سے دین کی اچھی طرح سمجھ حاصل کریں اور پھر واپس جاکر اپنی قوم کو دین سمجھا سکیں۔ ہاں حالات کے تحت امیر المومنین نفیر عام کا حکم دیں تو پھر سب کو نکلنا چاہیے، کیونکہ جب قیام کا وقت ہو سجدہ نہیں کیا جاتا۔ یہ مطلب بھی بہت سے مفسرین نے بیان فرمایا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمایا «اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا» ۱؎ [9-التوبہ:41] اور فرمایا ہے «مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ» ۱؎ [9-التوبہ:120] یعنی ہلکے بھاری نکل کھڑے ہو جاؤ۔ مدینے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو لائق نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہ جائیں۔ پس یہ حکم اس آیت سے منسوخ ہو گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ قبیلوں کے نکلنے کا بیان ہے اور ہر قبیلے کی ایک جماعت کے نکلنے کا اگر وہ سب نہ جائیں۔ تاکہ آپ کے ساتھ جانے والے آپ پر اتری ہوئی وحی کو سمجھیں اور واپس آ کر اپنی قوم کو دشمن کے حالات سے باخبر کریں۔ پس انہی دونوں باتیں اس کوچ میں حاصل ہو جائیں گی۔ اور آپ کے بعد قبیلوں میں سے جانے والی جماعت یا تو دینی سمجھ کے لیے ہو گی یا جہاد کے لیے۔ کیونکہ یہ فرض کفایہ ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے یہ معنی بھی مروی ہیں کہ مسلمانوں کو یہ چاہیئے کہ سب کے سب چلے جائیں اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ دیں۔ ہر جماعت میں سے چند لوگ جائیں اور آپ کی جازت سے جائیں جو باقی ہیں وہ ان کے بعد جو قرآن اترے، جو احکام بیان ہوں، انہیں سیکھیں۔ جب یہ آ جائیں تو انہیں سکھائیں پڑھائیں۔ اس وقت اور لوگ جائیں۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیئے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت ان صحابیوں رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہے جو بادیہ نشینوں میں گئے وہاں انہیں فوائد بھی پہنچے اور نفع کی چیزیں بھی ملیں۔
سیدنا قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لشکروں کو بھیجیں تو کچھ لوگوں کو آپ کی خدمت میں ہی رہنا چاہیئے کہ وہ دین سیکھیں اور کچھ لوگ جائیں اپنی قوم کو دعوت حق دیں اور انہیں اگلے واقعات سے عبرت دلائیں۔
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بنفس نفیس جہاد کے لیے نکلیں، اس وقت سوائے معذوروں، اندھوں وغیرہ کے کسی کو حلال نہیں کہ آپ کے ساتھ نہ جائے اور جب آپ لشکروں کو روانہ فرمائیں تو کسی کو حلال نہیں کہ آپ کی اجازت کے بغیر جائے۔
یہ لوگ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہتے تھے، اپنے ساتھیوں کو جب کہ وہ واپس لوٹتے ان کے بعد کا اترا ہوا قرآن اور بیان شدہ احکام سنا دیتے پس آپ کی موجودگی میں سب کو نہ جانا چاہیئے۔ مروی ہے کہ یہ آیت جہاد کے بارے میں نہیں بلکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے مضر پر قحط سالی کی بد دعا کی اور ان کے ہاں قحط پڑا تو ان کے پورے قبیلے کے قبیلے مدینے شریف میں چلے آئے۔ یہاں جھوٹ موٹ اسلام ظاہر کر کے صحابہ پر اپنا بار ڈال دیا۔
کہتے ہیں کہ ہر قبیلے میں سے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے، دین اسلام دیکھتے، واپس جا کر اپنی قوم کو اللہ، رسول کی اطاعت کا حکم کرتے، نماز، زکوٰۃ کے مسائل سمجھاتے، ان سے صاف فرما دیتے کہ جو اسلام قبول کر لے گا وہ ہمارا ہے ورنہ نہیں۔ یہاں تک کہ ماں باپ کو بھی چھوڑ دیتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مسئلے مسائل سے آگاہ کر دیتے، حکم احکام سکھا پڑھا دیتے وہ اسلام کے مبلغ بن کر جاتے ماننے والوں کو خوش خبریاں دیتے، نہ ماننے والوں کو ڈراتے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17489:ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب «إِلَّا تَنفِرُوا» ۱؎ [9-التوبة:39] الخ اور آیت «مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ» ۱؎ [9-التوبة:120] اتریں تو منافقوں نے کہا: ”پھر تو بادیہ نشین لوگ ہلاک ہو گئے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں جاتے۔“
بعض صحابہ بھی ان میں تعلیم و تبلیغ کے لیے گئے ہوئے تھے پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور «وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّـهِ» ۱؎ [42-الشورى:16] الخ۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے ہیں وہ مشرکوں پر غلبہ و نصرت دیکھ کر واپس آ کر اپنی قوم کو ڈرائیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى منبهاً لعباده المؤمنين على ما ينبغي لهم: {وما كان المؤمنون لينفروا كافَّةً}؛ أي: جميعاً لقتال عدوهم؛ فإنه يحصُلُ عليهم المشقَّة بذلك، ويفوت به كثيرٌ من المصالح الأخرى، {فلولا نَفَرَ من كلِّ فرقةٍ منهم}؛ أي: من البلدان والقبائل والأفخاذ {طائفةٌ}: تحصُلُ بها الكفاية والمقصودُ؛ لكان أولى.
ثم نبَّه على أنَّ في إقامة المقيمين منهم وعدم خروجهم مصالحَ لو خَرَجوا لفاتَتْهم، فقال: {ليتفقَّهوا}؛ أي: القاعدون {في الدِّين ولِيُنذِروا قومَهم إذا رجعوا إليهم}؛ أي: ليتعلَّموا العلم الشرعيَّ، ويَعْلَموا معانيه، ويفقهوا أسراره، ولِيُعَلِّموا غيرهم، ولِيُنْذِروا قومهم إذا رجعوا إليهم.
ففي هذا فضيلة العلم، وخصوصاً الفقه في الدين، وأنه أهم الأمور، وأن من تعلَّم علماً؛ فعليه نشره وبثُّه في العباد ونصيحتهم فيه؛ فإن انتشار العلم عن العالم من بركته وأجره الذي ينمي ، وأما اقتصار العالم على نفسه وعدم دعوتِهِ إلى سبيل الله بالحكمة والموعظة الحسنة وترك تعليم الجهَّال ما لا يعلمون؛ فأيُّ منفعة حصلت للمسلمين منه؟! وأي نتيجة نتجت من علمه؟! وغايتُه أن يموت فيموت علمُهُ وثمرته، وهذا غاية الحرمان لمن آتاه الله علماً، ومَنَحَهُ فهماً.
وفي هذه الآية أيضاً دليلٌ وإرشادٌ وتنبيهٌ لطيف لفائدة مهمَّةٍ، وهي أن المسلمين ينبغي لهم أن يُعِدُّوا لكلِّ مصلحةٍ من مصالحهم العامَّة مَن يقوم بها، ويوفِّر وقته عليها، ويجتهد فيها، ولا يلتفت إلى غيرها؛ لتقوم مصالحهم، وتتمَّ منافعهم، ولتكون وجهة جميعهم ونهاية ما يقصدون قصداً واحداً، وهو قيام مصلحة دينهم ودنياهم، ولو تفرَّقت الطرق وتعدَّدت المشارب؛ فالأعمال متباينةٌ، والقصد واحدٌ، وهذه من الحكمة العامَّة النافعة في جميع الأمور.