ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 114

فَتَعٰلَی اللّٰہُ الۡمَلِکُ الۡحَقُّ ۚ وَ لَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یُّقۡضٰۤی اِلَیۡکَ وَحۡیُہٗ ۫ وَ قُلۡ رَّبِّ زِدۡنِیۡ عِلۡمًا ﴿۱۱۴﴾
پس بہت بلند ہے اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے، اور قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر، اس سے پہلے کہ تیری طرف اس کی وحی پوری کی جائے اور کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر۔ En
تو خدا جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے۔ اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے (پڑھنے کے) لئے جلدی نہ کیا کرو اور دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے
En
پس اللہ عالی شان واﻻ سچا اور حقیقی بادشاه ہے۔ تو قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر اس سے پہلے کہ تیری طرف جو وحی کی جاتی ہے وه پوری کی جائے، ہاں یہ دعا کر کہ پروردگار! میرا علم بڑھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 114) ➊ {فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ …: فَتَعٰلَى عَلاَ يَعْلُوْ عُلُوًّا} بلند ہونا۔ باب تفاعل میں تاء اور الف کے اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہو گیا پس بہت بلند ہے۔ { الْمَلِكُ الْحَقُّ حَقَّ يَحِقُّ} ثابت ہونا۔ لفظ حق باطل کے مقابلے میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی حقیقی، سچی اور پائدار ہے۔ دوسرے تمام بادشاہ دنیا میں نہایت محدود اختیارات کے مالک ہیں اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی سے، وہ نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں کر سکتے اور آخرت میں ان کے وہ اختیار بھی ختم ہو جائیں گے۔ پھر اس میں کیا شک ہے کہ حقیقی بادشاہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور باقی سب باطل ہیں۔
سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمران ہے اک وہی باقی بتانِ آزری
صحیح بخاری (۱۱۲۰) میں تہجد کے لیے اٹھتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لمبی دعا مذکور ہے، اس دعا میں ہے: [وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاءُكَ حَقٌّ] دعاؤں کی کسی کتاب یا اصل صحیح بخاری سے یہ مکمل دعا یاد کر لیں، یہ دعا تہجد کے وقت پڑھنا مسنون اور بے حد برکت کا باعث ہے۔
➋ { وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ …:} یہ وہی مضمون ہے جو سورۂ قیامہ (۱۶ تا ۱۹) میں بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک دفعہ جلدی کرنے اور جبریل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ پڑھنے سے منع فرما دیا، تو دوبارہ اس حکم کی کیا ضرورت تھی؟ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے اسے یوں حل فرمایا ہے: جبرئیل جب قرآن لاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پڑھنے کے ساتھ پڑھنے لگتے کہ بھول نہ جاویں۔ اس کو پہلے منع فرمایا تھا سورۂ قیامہ میں اور تسلی کر دی تھی کہ اس کا یاد رکھوانا اور لوگوں تک پہنچوانا ذمہ ہمارا ہے، لیکن بندہ بشر ہے، شاید بھول گئے ہوں، پھر تقید کیا اور بھولنے پر مثل فرمائی آدم علیہ السلام کی۔ (موضح)
➌ { وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ جلدی پڑھنے کے پیچھے اصل جذبہ زیادہ سے زیادہ علم کے حصول اور حفظ کا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے صرف جلدی کرنے سے منع فرمایا، مگر اصل جذبے کی تعریف کی اور اس کی تکمیل کے لیے دعا سکھائی، جیسا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھاتے ہوئے رکوع کی حالت میں پایا تو صف میں ملنے سے پہلے ہی رکوع میں چلے گئے اور پھر اسی حالت میں رکوع میں مل گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [زَادَكَ اللّٰهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ] [بخاري، الأذان، باب إذا رکع دون الصف: ۷۸۳]اللہ تمھاری حرص زیادہ کرے اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔ دوبارہ ایسی جلدی سے منع کرنے کے ساتھ نیکی میں حرص کی تعریف فرمائی۔ { رَبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا } میں { عِلْمًا } عام ہے اور اس سے مراد علم نافع ہے۔ دین یعنی قرآن و حدیث کا علم ہو یا دنیا کا ایسا علم جو دنیا و آخرت دونوں میں نافع ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے: [اَللّٰهُمَّ انْفَعْنِيْ بِمَا عَلَّمْتَنِيْ وَ عَلِّمْنِيْ مَا يَنْفَعُنِيْ وَ زِدْنِيْ عِلْمًا] [ترمذي، الدعوات، باب سبق المفردون …: ۳۵۹۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ و صححہ الألباني] اے اللہ! مجھے اس کے ساتھ نفع دے جس کا تو نے مجھے علم دیا اور مجھے اس کا علم دے جو مجھے نفع دے اور مجھے علم میں زیادہ کر۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا یہ تھی: [اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ] [بخاري، الدعوات، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ربنا آتنا…: ۶۳۸۹] اے اللہ! اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ سے بچا۔ مسلمانوں پر دنیا کی ہر ضرورت کا علم حاصل کرنا فرض کفایہ ہے، تاکہ انھیں غیر مسلموں کا محتاج نہ ہونا پڑے اور وہ دنیا میں اسلام کو غالب رکھ سکیں، مثلاً طب، زراعت، ہیئت، جغرافیہ، ہندسہ، سائنس، اسلحہ سازی وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بھی نئی چیز معلوم ہوتی اس سے جہاد میں فائدہ اٹھایا کرتے تھے، جیسا کہ جنگ احزاب میں خندق تیار فرمائی اور صحابہ اور تابعین مجاہدین نے جنگوں میں منجنیق کا استعمال فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے بحری جہاد کی خوشخبری دی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بحری بیڑا تیار کیا، جس کے نتیجے میں بحر روم پر مسلمانوں کا غلبہ ہو گیا اور جدید سے جدید ایجادات اور تدابیر کے نتیجے میں سلطان محمد الفاتح رحمہ اللہ نے قسطنطنیہ کو فتح کیا۔ ظاہر ہے کہ تیس فیصد خشکی پر بھی اسی کی حکومت ہو گی جو ستر فیصد سمندر پر اپنا تسلط منوا سکے۔ داؤد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زرہ سازی کا فن سکھایا اور اسے بطور احسان قرآن مجید میں ذکر فرمایا۔ قرآن مجید میں احکام کی آیات اتنی نہیں جتنی زمین و آسمان، سورج، چاند، بحر و بر، نباتات و جمادات و حیوانات اور اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور کرنے کی تاکید والی آیات ہیں۔ مسلمانوں نے اس میں غفلت کی اور کفار نے ان پر محنت کرکے جدید سے جدید ایجادات، مثلاً مشین، موٹر، ریل، ہوائی جہاز، بجلی، بارود، بم، میزائل، ایٹم، کمپیوٹروغیرہ تیار کرکے مسلمانوں کو اپنا محتاج بلکہ غلام بنا لیا۔ اب مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان تمام علوم میں مہارت حاصل کریں جو کفار کے ساتھ جہاد کے لیے ضروری ہیں اور اس طرح یہ سب کچھ علم دنیا ہونے کے باوجود علم آخرت بن جائے گا، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم { وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ } کی تعمیل ہو گی۔ البتہ اس بات کا اہتمام نہایت ضروری ہے کہ یہ علوم سیکھنے والے قرآن و حدیث کے علم سے آراستہ اور یقین و ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کے جذبے سے سرشار ہوں، تاکہ وہ سائنس پڑھتے پڑھتے کفار سے متاثر ہو کر محض دنیا پرست اور ملحد نہ بن جائیں۔ کیونکہ یہ سب کچھ اس وقت مذموم ہو جائے گا جب اس سے مقصود صرف دنیا ہو اور آخرت سے غفلت اختیار کی جائے۔ ایسی صورت میں یہ تمام علوم رکھنے والا اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق بے علم ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (6) يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ [الروم: ۶، ۷] اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (علم نہیں رکھتے)۔ وہ دنیا کی زندگی کے ظاہر کا علم رکھتے ہیں اور وہ آخرت سے وہی غافل ہیں۔ اور فرمایا: «{ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا وَ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ [البقرۃ: ۲۰۰] پھر لوگوں میں سے کوئی تو وہ ہے جو کہتا ہے، اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دے دے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ ان لوگوں کا علم، علم نافع نہیں، اس لیے اس سے پناہ مانگنی چاہیے، جیسا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: [اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَّا يَنْفَعُ وَ مِنْ قَلْبٍ لَّا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَّا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لَّا يُسْتَجَابُ لَهَا] [مسلم، الذکر و الدعاء، باب في الأدعیۃ: ۲۷۲۲] اے اللہ! بے شک میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے اور ایسے دل سے جو خشوع نہ رکھے اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ کی جائے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

114۔ 1 جس کا وعدہ اور وعید حق ہے، جنت دوزخ حق ہے اور اس کی ہر بات حق ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

114۔ پس اللہ بادشاہ حقیقی ہی بلند شان والا ہے۔ اور قرآن کی وحی پوری ہونے سے پہلے اسے پڑھنے میں جلدی نہ کیجئے اور دعا کیجئے کہ ”اے میرے پروردگار! مجھے مزید [82] علم عطا کر“
[82] وحی کو توجہ سے سننے کا حکم:۔
ابتداًء جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سیدنا جبرائیل وحی لے کر نازل ہوتے تو آپ ساتھ ہی ساتھ وحی کے الفاظ کو اس خیال سے دہرانے لگتے تھے کہ بعد میں بھول نہ جائیں۔ اس طرح وحی کے اگلے مضمون سے توجہ یا ہٹ جاتی تھی یا کٹ جاتی تھی۔ اسی بات کا ذکر سورۃ قیامۃ بھی آچکا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ آپ ساتھ ساتھ اس کو یاد رکھنے اور زبان چلانے کی کوشش نہ کیا کیجئے۔ تمہارے سینہ میں اسے محفوظ رکھنا اور پھر زبان سے انھیں الفاظ کی ادائیگی کروا دینا ہمارا ذمہ ہے۔ جب وحی نازل ہو رہی ہو آپ بس پوری توجہ سے اسے سنا کیجئے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ ایسی عادت ابھی تک آپ میں پوری طرح راسخ نہ ہوئی تھی۔ لہٰذا اسی بات کا دوسرے انداز میں اعادہ کیا گیا اور یہ ہدایت بھی کی گئی کہ ساتھ ہی ساتھ آپ یہ دعا بھی کرتے رہئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے قرآن کریم میں اور زیادہ سمجھ اور بیش از بیش علوم و معارف عطا فرما۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

وعدہ حق وعید حق ٭٭
چونکہ قیامت کا دن آنا ہی ہے اور اس دن نیک و بد اعمال کا بدلہ ملنا ہی ہے، لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لیے ہم نے بشارت والا اور دھمکانے والا اپنا پاک کلام عربی صاف زبان میں اتارا تاکہ ہر شخص سمجھ سکے اور اس میں گو ناگوں طور پر لوگوں کو ڈرایا، طرح طرح سے ڈراوے سنائے۔ تاکہ لوگ برائیوں سے بچیں، بھلائیوں کے حاصل کرنے میں لگ جائیں یا ان کے دلوں میں غور و فکر نصیحت و پند پیدا ہو، اطاعت کی طرف جھک جائیں، نیک کاموں کی کوشش میں لگ جائیں۔
پس پاک اور برتر ہے وہ اللہ جو حقیقی شہنشاہ ہے، دونوں جہاں کا تنہا مالک ہے، وہ خود حق ہے، اس کا وعدہ حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اس کے رسول علیہم السلام حق ہیں، جنت دوزخ حق ہے، اس کے سب فرمان اور اس کی طرف سے جو ہو سراسر عدل و حق ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ آگاہ کئے بغیر کسی کوسزا دے، وہ سب کے عذر کاٹ دیتا ہے کسی کے شبہ کو باقی نہیں رکھتا، حق کو کھول دیتا ہے پھر سرکشوں کو عدل کے ساتھ سزا دیتا ہے۔ جب ہماری وحی اتر رہی ہو، اس وقت تم ہمارے کلام کو پڑھنے میں جلدی نہ کرو، پہلے پوری طرح سن لیا کرو۔
جیسے سورۃ القیامہ میں فرمایا «لَا تُحَرِّكْ بِهِ * لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ * فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ * ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [75-القيامة:16-19]‏‏‏‏ ’ یعنی جلدی کر کے بھول جانے کے خوف سے وحی اترتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ اسے نہ پڑھنے لگو۔ اس کا آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے تلاوت کرانا ہمارے ذمے ہے۔ جب ہم اسے پڑھیں تو آپ اس پڑھنے کے تابع ہو جائیں پھر اس کا سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ ‘
حدیث میں ہے کہ { پہلے آپ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے جس میں آپ کودقت ہوتی تھی، جب یہ آیت اتری تو آپ اس مشقت سے چھوٹ گئے } ۱؎ [صحیح بخاری:5]‏‏‏‏
اور اطمینان ہو گیا کہ وحی الٰہی جتنی نازل ہو گی، مجھے یاد ہو جایا کرے گی۔ ایک حرف بھی نہ بھولوں گا کیونکہ اللہ کا وعدہ ہو چکا۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ فرشتے کی قرأت چپکے سے سنو۔ جب وہ پڑھ چکے پھر تم پڑھو اور مجھ سے اپنے علم کی زیادتی کی دعا کیا کرو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، اللہ نے قبول کی اور انتقال تک علم میں بڑھتے ہی رہے۔ حدیث میں ہے کہ { وحی برابر پے در پے آتی رہی یہاں تک کہ جس دن آپ فوت ہونے کو تھے، اس دن بھی بکثرت وحی اتری۔} ۱؎ [صحیح بخاری:4982]‏‏‏‏
ابن ماجہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا منقول ہے «اللَّهُمَّ اِنْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعنِي وَزِدْنِي عِلْمًا وَالْحَمْد لِلَّهِ عَلَى كُلّ حَال» ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور آخر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں «‏‏‏‏وَأَعُوذ بِاَللَّهِ مِنْ حَال أَهْل النَّار» ‏‏‏‏۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حکم جزائی کا ذکر کیا جس سے اس کے بندے دوچار ہوتے ہیں اور حکم دینی و امری بیان فرمایا جو اس کتاب کریم میں نازل کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور اقتدار کے آثار ہیں تو فرمایا ﴿ فَ٘تَ٘عٰ٘لَى اللّٰهُ یعنی اللہ تعالیٰ ہر نقص اور آفت سے پاک، بلند اور جلیل تر ہے ﴿ الْمَلِكُ اقتدار، حاکمیت جس کا وصف ہے اور تمام مخلوق اس کی مملوک (غلام) ہے۔ اس کی بادشاہی کے قدری و شرعی احکام تمام مخلوق پر نافذ ہیں۔ ﴿ الْحَقُّ یعنی اس کا وجود، اس کا اقتدار اور اس کا کمال سب حق ہے۔ پس صفات کمال کی مالک صرف ایسی ہستی ہو سکتی ہے جو ذی جلال ہو اور اس میں اقتدار بھی شامل ہے۔ بعض اوقات، اس کے سوا مخلوق بھی، بعض اشیاء پر اقتدار اور اختیار رکھتی ہے مگر یہ اقتدار ناقص اور باطل ہے جو زائل ہو جانے والا ہے… مگر رب تعالیٰ ہمیشہ کے لیے بادشاہ حقیقی، جلال کا مالک اور قائم و دائم رہنے والا ہے۔
﴿ وَلَا تَعْجَلْ بِالْ٘قُ٘رْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّ٘قْ٘ضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ یعنی جب جبریل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو اس کو اخذ کرنے میں جلدی نہ کیجیے اس وقت تک صبر کیجیے جب تک کہ وہ تلاوت سے فارغ نہ ہو جائے۔ جب وہ تلاوت سے فارغ ہو جائے تب اس کو پڑھیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں جمع کرنے اور آپ کے اس کی قراء ت کرنے کی ضمانت دی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ۰۰اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَقُ٘رْاٰنَهٗۚۖ۰۰فَاِذَا قَ٘رَاْنٰهُ فَاتَّ٘بِـعْ قُ٘رْاٰنَهٗۚ۰۰ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗ (القیامۃ:75؍16-19) جلدی سے وحی پڑھنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کیجیے، اس کو جمع کرنا اور پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے اور جب ہم اس وحی کو پڑھیں تو آپ اسی طرح پڑھا کریں پھر اس کے معانی کی تبیین و توضیح ہمارے ذمہ ہے۔
چونکہ وحی کو اخذ کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عجلت دلالت کرتی ہے کہ آپ علم کے ساتھ کامل محبت رکھتے تھے اور اس کے حصول کے بے حد خواہش مند تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے لیے ازدیاد علم کی دعا کریں کیونکہ علم بھلائی ہے اور بھلائی کی کثرت مطلوب ہے اور یہ کثرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے اور اس کے حصول کا راستہ کوشش، شوق علم، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا، اس سے مدد مانگنا اور ہر وقت اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھنا ہے۔ اس آیت کریمہ سے حصول علم کے آداب اخذ کیے جاتے ہیں۔ علم کی سماعت کرنے والے کے لیے مناسب ہے کہ صبر سے کام لے یہاں تک کہ املا کرانے والا اور معلم اپنے کلام سے فارغ ہو جائیں جو لگاتار اور مسلسل ہے۔ اگر ذہن میں کوئی سوال ہے تو وہ اس وقت کیا جائے جب معلم فارغ ہو جائے۔ معلم کی قطع کلامی اور سوال کرنے میں عجلت سے باز رہے کیونکہ یہ حرماں نصیبی کا سبب ہے۔ اسی طرح مسؤل کے لیے مناسب ہے کہ وہ سائل کے سوال کو لکھ لے اور جواب دینے سے قبل سائل کے مقصود کو اچھی طرح سمجھ لے کیونکہ یہ صحیح جواب کا سبب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر تعالى حكمَهُ الجزائيَّ في عبادِهِ، وحكمه الأمريَّ الدينيَّ الذي أنزله في الكتاب وكان هذا من آثار ملكه؛ قال: {فتعالى اللهُ}؛ أي: جلَّ وارتفع وتقدَّس عن كلِّ نقص وآفة. {الملكُ}: الذي المُلْكُ وصفُه، والخلق كلُّهم مماليك له، وأحكام المُلْك القدريَّة والشرعيَّة نافذة فيهم. {الحقُّ}؛ أي: وجوده ومُلكه وكمالُه حقٌّ؛ فصفات الكمال لا تكون حقيقةً إلا لذي الجلال، ومن ذلك الملك؛ فإنَّ غيره من الخلق، وإنْ كان له ملكٌ في بعض الأوقات على بعض الأشياء؛ فإنَّه ملكٌ قاصرٌ باطلٌ يزولُ، وأما الربُّ؛ فلا يزال ولا يزول ملكاً حيًّا قيوماً جليلاً. {ولا تَعْجَلْ بالقرآنِ من قبلِ أن يُقْضى إليك وحيُهُ}؛ أي: لا تبادِرْ بتلقُّف القرآن حين يتلوه عليك جبريلُ، واصبرْ حتى يفرغ منه؛ فإذا فَرَغَ منه؛ فاقرأهُ؛ فإنَّ الله قد ضَمِنَ لك جمعَه في صدرك وقراءتك إيَّاه؛ كما قال تعالى: {لا تُحَرِّكْ به لِسانَكَ لِتَعْجَلَ به إنَّ عَلَيْنا جَمْعَه وقرآنَهُ. فإذا قَرَأناه فاتَّبِعْ قرآنَهُ. ثم إنَّ عَلَيْنا بيانَهُ}. ولما كانت عَجَلَتُهُ - صلى الله عليه وسلم - على تلقُّف الوحي ومبادرتُهُ إليه يدلُّ على محبَّته التامَّة للعلم وحرصه عليه؛ أمره تعالى أن يسألَهُ زيادةَ العلم؛ فإنَّ العلم خيرٌ، وكثرةُ الخير مطلوبةٌ، وهي من الله، والطريق إليها الاجتهاد والشوق للعلم وسؤالُ الله والاستعانةُ به والافتقارُ إليه في كل وقت.

ويؤخذ من هذه الآية الكريمة الأدب في تلقِّي العلم، وأنَّ المستمع للعلم ينبغي له أن يتأنَّى ويصبِرَ حتى يفرغ المملي والمعلِّم من كلامه المتَّصل بعضه ببعض؛ فإذا فَرَغَ منه؛ سأل إن كان عنده سؤالٌ، ولا يبادِرُ بالسؤال وقطع كلام مُلقي العلم؛ فإنَّه سببٌ للحرمان، وكذلك المسؤول ينبغي له أن يستملي سؤال السائل ويعرف المقصودَ منه قبل الجواب؛ فإنَّ ذلك سببٌ لإصابة الصواب.