حج و عمرہ میں پڑھی جانے والی مسنون دعائیں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالسلام ریسرچ سینٹر کی شائع کردہ کتاب مسنون حج و عمرہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے قرآنی اور مسنون دعائیں

قرآنی دعائیں

[رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَ لِاِخۡوَانِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِیۡمَانِ وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّکَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ]

اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے بخش دے۔ اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ۔ اے ہمارے رب! بے شک تو بڑا شفقت کرنے والا انتہائی مہربان ہے۔ [الحشر:10]

[رَبَّنَا ہَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعۡیُنٍ وَّ اجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا]

اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پر ہیز گاروں کا امام بنا۔ [الفرقان:74]

[رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىہُ وَ اَدۡخِلۡنِیۡ بِرَحۡمَتِکَ فِیۡ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیۡنَ]

اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے، شکر ادا کروں۔ اور ایسے نیک کام کروں جنھیں تو پسند کرے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔ [النمل:19]

[رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَۃً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ]،[وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِکَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ]

[اے ہمارے رب! تو ہمیں ظالم قوم کے ہاتھوں آزمائش میں نہ ڈال]،[اور اپنی رحمت سے ہمیں کافروں سے نجات عطا فرما]۔ [یونس:86،85]

[رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا وَ اِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَ تَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ]

اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ضرور ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ [الأعراف:23]

[رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ کَفِّرۡ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ]

اے ہمارے رب! ہمارے گناہ معاف فرما دے اور ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ فوت کر۔ [آل عمران:193]

[رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ اِسۡرَافَنَا فِیۡۤ اَمۡرِنَا وَ ثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَ انۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ]

اے ہمارے پروردگار! ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہمارے کام میں ہوئیں، معاف فرما۔ اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما۔ [آل عمران:147]

[رَّبِّ اغۡفِرۡ وَ ارۡحَمۡ وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰحِمِیۡنَ]

اے میرے رب! [مجھے] معاف فرما،[مجھ پر]رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ [المؤمنون:118]

[رَبِّ اشۡرَحۡ لِیۡ صَدۡرِیۡ]،[ وَ یَسِّرۡ لِیۡۤ اَمۡرِیۡ]،[وَ احۡلُلۡ عُقۡدَۃً مِّنۡ لِّسَانِیۡ]،[یَفۡقَہُوۡا قَوۡلِیۡ]

[اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے]،[اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے]۔[اور میری زبان کی گرہ کھول دے]،[تا کہ وہ [لوگ]میری بات سمجھ سکیں]۔ [طہ:25 تا 28]

[رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِیۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحۡمِلۡ عَلَیۡنَاۤ اِصۡرًا کَمَا حَمَلۡتَہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ۚ وَ اعۡفُ عَنَّا ٝ وَ اغۡفِرۡ لَنَا ٝ وَ ارۡحَمۡنَا ٝ اَنۡتَ مَوۡلٰىنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ]

اے ہمارے رب! اگر ہم سے بھول چوک یا غلطی ہو جائے [تو اس پر] ہماری گرفت نہ کر، اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! جس بار کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے، وہ ہم سے نہ اٹھوا۔ اور ہم سےدرگزر فرما۔ اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ [البقرة:286]

[رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدَیۡتَنَا وَ ہَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ]

اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما۔ بے شک تو ہی بڑا عطا کرنے والا ہے۔

[ آل عمران:8]

[رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ]

اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ [البقرة:201]

[لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ]

دو تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تیری ذات پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔ [الأنبياء:87]

[رَبِّ اجۡعَلۡنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلۡ دُعَآءِ]،[رَبَّنَا اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡحِسَابُ]

[اے میرے پروردگار! مجھے اور میری اولاد کو بھی نماز قائم کرنے والا بنا۔ اے ہمارے پروردگار! میری دعا قبول فرما]،[اے ہمارے رب! مجھے اور میرے والدین اور سب ایمان والوں کو اس دن معاف کر دے جس دن حساب قائم ہوگا]۔ [ابراهیم:41،40]

[رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا]

اے میرے پروردگار! ان دونوں [والدین] پر رحم فرما جس طرحانھوں نے مجھے بچپن میں [شفقت کے ساتھ] پالا تھا۔ [بني إسراء يل:24]

[قُلۡ رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ]،[ وَ اَعُوۡذُبِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡنِ]

[اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں]،[اور [اس سے بھی] اے میرے رب! تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں]۔ [المؤمنون:98،97]

[اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الۡمُلۡکِ تُؤۡتِی الۡمُلۡکَ مَنۡ تَشَآءُ وَ تَنۡزِعُ الۡمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ ۫ وَ تُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ؕ بِیَدِکَ الۡخَیۡرُ ؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ]

اے اللہ، سلطنت کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے حکومت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے۔ بھلائی تیرے ہی اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ [آل عمران:26]

[رَبِّ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ]

اے میرے پروردگار ! تو مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو ہی سب سے بہتر وارث ہے۔ [الأنبياء:89]

مسنون دعائیں

گناہوں کی بخشش کے لیے دعائیں:

[اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ]

اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو ہی نے مجھے پیدا کیا، میں تیرا بندہ ہوں، میں تیرے وعدے اور عہد پر حتی المقدور قائم رہوں گا۔ میں اپنے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میرے اوپر تیری جو نعمتیں ہیں، ان کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اقرار کرتا ہوں۔ تو مجھے معاف کردے کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں۔ [صحيح البخاري، حديث: 6306]

[ رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي كُلِّهِ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ، وَعَمْدِي، وَجَهْلِي، وَهَزْلِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ]

اے میرے رب! میری غلطیاں، نادانیاں، اپنے معاملے میں تمام زیادتیاں اور میرے وہ گناہ جنھیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، معاف کر دے۔ اے اللہ! جو گناہ بھول چوک میں ہوئے یا میں نے جان بوجھ کر کیے یا ہنسی مذاق میں کیسے یا دانستہ کیے، الغرض یہ سب میری ہی طرف سے ہوئے، سب کو بخش دے۔ اے اللہ! میرے پہلے اور پچھلے، پوشیدہ اور علانیہ تمام گناہ معاف کر دے۔ تو ہی [طاعات میں] آگے کرنے والا ہے اور تو ہی [طاعات سے] پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔

[صحيح البخاري، حدیث: 6398]،[صحيح مسلم، حدیث: 2719]

[رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ]

اے میرے پروردگار! میرے گناہ معاف کر دے اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی تو بہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

[سلسلة الأحاديث الصحيحة: حديث: 556]،[سنن ابن ماجه، حدیث: 3814]

[اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ، أَنْ تَغْفِرَ لِي]

اے اللہ! میں تجھ سے تیری اس رحمت کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو ہر چیز پر وسیع ہے کہ تو مجھے بخش دے۔ [سنن ابن ماجه، حدیث:1753]

آتش دوزخ سے نجات اور جنت الفردوس طلب کرنے کی دعا:

[اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ]

اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جو ں کرتا ہوں اور جہنم کی آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ [سنن ابی داود، حدیث: 792]

غم اور پریشانی کے وقت کی دعائیں:

[اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ]

اے اللہ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں، پس مجھے لمحہ بھر کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر اور میرے تمام معاملات کو درست کر دے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ [سنن أبي داود، حديث: 5090]

[يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ]

اے ہمیشہ زندہ اور ہر چیز کو قائم رکھنے والے! میں تیری ہی رحمت کے ذریعے سے مدد طلب کرتا ہوں۔ [جامع الترمذي، حديث: 3524]

[لإِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ]

اے اللہ! تیرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں تو و حقیقی نہیں تو پاک ہے، میں ہی قصور وار ہوں۔ [جامع الترمذي، حدیث: 3505]،[مسند أحمد:170/1]

ادائے قرض کی دعا:

[اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ]

اے اللہ! مجھے حلال رزق عطا فرما جو میرے لیے کافی ہو اور حرام سے بچا اور اپنے فضل و رحمت سے مجھے اپنے ماسوا سے مستغنی کر دے۔ [جامع الترمذي، حديث: 3563]،[مسند أحمد:153/1]

غم و حزن سستی، بخل اور قرض کی ادائیگی کے لیے دعا:

[اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ، وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ]

اے اللہ! میں پریشانی، غم، عاجز آ جانے، سستی، بخل، بزدلی، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ [صحيح البخاري، حديث: 2893]

پاک دامن رہنے کے لیے دعا :

[اللهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ، وَطَهِّرْ قَلْبَهُ، ‌وَحَصِّنْ ‌فَرْجَهُ]

اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما، میرے دل کی آلودگیاں صاف کر دے اور میری شرمگاہ کی حفاظت فرما۔ [مسند أحمد: 257/5]،[المعجم الكبير للطبراني، حديث:7679]

پھلبہری، کوڑھ اور تمام بری بیماریوں سے بچنے کی دعا:

[ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ، وَالْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَمِنْ سَيِّئْ الْأَسْقَامِ]

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں پھلبہری، کوڑھ، دیوانگی اور خطرناک بیماریوں سے۔

[سنن أبي داود، حدیث: 1554]،[سنن النسائي، حديث: 5495]

جنات اور شیاطین کے شر سے بچنے کی دعا:

[أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَذَرَأَ وَبَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا ‌يَطْرُقُ ‌بِخَيْرٍ، يَا رَحْمَنُ]

میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں جن سے کوئی نیک و بد تجاوز نہیں کر سکتا۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی اور پھیلائی اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی اور آسمان کی طرف چڑھتی ہے۔ اور جو زمین میں داخل ہوتی اور زمین سے نکلتی ہے اور شب وروز کے تمام فتنوں سے اور رات کو آنے والوں کے شر سے سوائے اس کے جو بھلائی لے کر آئے، اے رحمن! [مسند أحمد:3/419]،[المعجم الكبير للطبراني:25/12، حدیث:3]

[أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ]

میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے کلمات کاملہ کے ساتھ اس کے غضب اور ناراضی سے اور اس کے بندوں کے شر اور شیاطین کے وساوس سے اور اس سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں۔ [جامع الترمذي، حديث: 3528]

بہترین انجام اور دنیا و آخرت میں رسوائی سے بچنے کی دعا:

[اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتِنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ]

اے اللہ! تمام معاملات میں ہمارا انجام بہتر بنا۔ اور ہمیں دنیا کی رسوائیوں اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

[مسند احمد:4/181]،[المستدرك للحاكم، حدیث: 6508]

اسلام کی حفاظت، دشمنوں اور حاسدوں سے محفوظ رہنے کی دعا:

[اللَّهُمَّ احْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَائِمًا، وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَاعِدًا، وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ رَاقِدًا، وَلَا تُشْمِتْ بِي عَدُوًّا حَاسِدًا، وَاللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ خَزَائِنُهُ بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ خَزَائِنُهُ بِيَدِكَ]

اے اللہ ! مجھے اٹھتے بیٹھتے اور آرام کرتے بہر حال اسلام پر قائم رکھ اور مجھ پر میرے دشمنوں اور حاسدوں کو مت ہنسا۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہر قسم کی بھلائی مانگتا ہوں جس کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں اور ہر قسم کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں جس کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں۔ [المستدرك للحاكم، حديث: 1924]،[كنزالعمال، حديث 3679]

[اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا، وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا، وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا ]

اے اللہ! ہمیں اپنے خوف سے اتنا حصہ عطا کر جو ہمارے اور تیری نافرمانیوں کے درمیان حائل ہو جائے۔ اور اس قدر فرمانبرداری کی توفیق بخش جس کے ذریعے سے تو ہمیں جنت تک پہنچادے۔ اور یقین کی ایسی قوت عطا فرما جو ہم پر دنیا کی مصیبتیں آسان کر دے۔ اور تاحیات ہمیں اپنے کانوں، آنکھوں اور قوت بدن سے [صحیح طور پر] فائدہ اٹھانے کی توفیق مرحمت فرما اور مرنے کے بعد بھی اس کا فیض باقی رکھ۔ اور جو کوئی ہم پر ظلم کرے تو اس سے ہمارا بدلہ لے اور ہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ اور ہمارے دین کے بارے میں ہمارا امتحان نہ لے۔ اور دنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد ہمارے علم کا منتہی اور منزلِ مقصود نہ بنا اور ہم پر ایسے لوگ مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کریں۔ [جامع الترمذي، حديث: 3502]،[صحيح الجامع الصغير: حدیث:1268]

اپنے برے عمل کے شر سے بچنے کی دعا:

[اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ]

اے اللہ! میں ہر اس عمل کے شر سے جو میں نے کیا اور جو ابھی تک نہیں کیا تیری پناہ میں آتا ہوں۔ [صحیح مسلم، حدیث: 2716]

نعمت و عافیت کے زوال اور رب کی ناراضی سے محفوظ رہنے کی دعا:

[اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ]

اے اللہ! تیری نعمتوں کے زائل ہونے، تیری عطا کردہ عافیت کے پھر جانے [مصیبت کے آنے]، تیری اچانک گرفت اور تیری ہر قسم کی ناراضی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ [صحیح مسلم، حديث: 2739]،[سنن أبي داود، حديث: 1545]

تباہ کن آفات سے بچاؤ کی دعا:

[اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا]

اے اللہ! میں نفع سے خالی علم اور خشوع سے عاری دل، دنیا کے لالچی نفس اور نہ قبول ہونے والی دعا سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

[صحیح مسلم، حدیث: 2722]

فقیری محتاجی، درماندگی سے محفوظ رہنے کی دعا:

[اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ]

اے اللہ! میں فقر و تنگ دستی، قلت مال اور بے قدری سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا چاہتا ہوں یا کوئی مجھ پر ظلم کر کرے۔ [سنن النسائي، حديث: 5462 واللفظ له]

اعضائے رئیسہ کی حفاظت، اور ظالم پر غلبے کی دعا:

[اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي, وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي, وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ يَظْلِمُنِي, وَخُذْ مِنْهُ بِثَأْرِي]

اے اللہ! مجھے میری سماعت و بصارت سے فائدہ پہنچا اور میرے بعد بھی ان کا فیض جاری رکھ۔ اور مجھ پر ظلم کرنے والے کے خلاف میری مدد فرما اور اس سے میرا بدلہ لے۔ [جامع الترمذي، حديث: 3604]

رشد و ہدایت طلب کرنے کی دعا:

[اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي]

اے اللہ! مجھے رشد و ہدایت عطا فرما اور مجھے میرے نفس کے شر سے بچا۔ [جامع الترمدي، حديث: 3483]

[اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى]

اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پارسائی، عفت و پاکدامنی اور بے نیازی [دوسروں کا محتاج نہ ہونے] کا سوال کرتا ہوں۔ [صحیح مسلم، حدیث :2721]

دنیا و آخرت اور زندگی کی عمدگی کے لیے دعا:

[اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي ، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي ، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ]

اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو سدھار دے جو میرے معاملات کے تحفظ کا ذریعہ ہے۔ اور میرے لیے میری دنیا درست کر دے جس میں میری روزی اور گزران ہے۔ اور میرے لیے میری آخرت بہتر بنا دے جس میں لوٹ کر جانا ہے۔ اور زندگی کو میرے لیے نیکی و بھلائی میں اضافے کا باعث بنا اور موت کو میرے لیے ہر برائی سے راحت بنا دے۔ [صحیح مسلم ، حدیث: 2720]

[اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي, وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي, اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ, وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ, وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى, وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ, وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ, وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ, وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ, وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ, اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ]

اے اللہ! تو اپنے علم غیب کے مطابق اور مخلوق پر اپنی قدرت کے ذریعے سے مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم میں میرا زندہ رہنا بہتر ہے۔ اور جب تیرے علم میں میری موت بہتر ہو تو مجھے دنیا سے اٹھا لے۔ اے اللہ! میں جلوت وخلوت میں تیرا خوف چاہتا ہوں۔ اور خوشی و نا خوشی میں حق بات کہنے کی توفیق مانگتا ہوں۔ اور فقیری و امیری دونوں حالتوں میں تجھ سے میانہ روی کا سوال کرتا ہوں۔ اور تجھ سے لازوال نعمتوں اور آنکھوں کی دائمی ٹھنڈک کا طالب ہوں۔ اور تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے قضا وقدر پر راضی رہنے کی توفیق بخش۔ اور تجھ سے مرنے کے بعد کی زندگی میں آسودگی اور راحت کا سوال کرتا ہوں۔ اور اے اللہ! میں تجھ سے تیرے چہرہ انور کے دیدار کی لذت اور تیری ملاقات کے شوق کا طالب ہوں بغیر کسی تکلیف دہ مصیبت اور گمراہ کن فتنے کے۔ اے اللہ! ہمیں زینت ایمان سے مزین کر دے اور ہمیں ہدایت کی طرف دعوت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا۔ [سنن النسائي، حديث: 1306 والمستدرك للحاكم:1/525: حديث:1923]

بری اموات اور آفات و مصائب سے بچنے کی دعا:

[اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ التَّرَدِّى وَالْهَدَمِ وَالْغَرْقِ وَالْحَرَقِ وَأَعُوذُبِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِيَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَأَعُوذُبِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا]

اے اللہ! میں بلندی سے گر کر، کسی چیز کے نیچے دب کر، پانی میں ڈوب کر اور آگ میں جل کر مرنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ موت کے وقت شیطان مجھے بدحواس کر دے اور اس سے بھی کہ تیری راہ میں لڑتے وقت میدان سے بیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے میری موت آئے اور اس سے بھی کہ میں (سانپ یا بچھو کے) ڈسنے سے فوت جاؤں۔ [سنن أبي داود، حديث: 1552]،[صحيح الجامع الصغير 275/1، حديث: 1282 واللفظ له]

[اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَالْقَسْوَةِ وَالْغَفْلَةِ وَالْعَيْلَةِ وَالذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ وَأَعُوذُبِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْكُفْرِ وَالْفُسُوقِ وَالشَّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَالسُّمْعَةِ وَالرِّيَاءِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ وَالْجُنُونِ وَالْجَذَامِ وَالْبَرْضِ وَسَيِّءِ الْأَسْقَامِ]

اے اللہ! میں فکر، غم، بے چارگی، کاہلی، بزدلی، بخیلی، بڑھاپے کی زحمت، دل کی سختی، غفلت دستی، محتاجی، ذلت ورسوائی اور مسکینی (جو رسوائی کا باعث بنے) سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں فقر و فاقے، کفر، فسق و فجور، باہمی اختلاف، منافقت، جھوٹی شہرت (بدنامی) اور ریا کاری سے۔ اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں بہرے اور گونگے پین، دیوانگی، کوڑھ کے مرض، پھلبہری اور ہر خطر ناک بیماریوں سے۔ [صحيح الجامع الصغير:1/276، حدیث: 1285]

عیبوں کی پردہ پوشی اور قرض کی ادائیگی کے لیے دعا:

[اللهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي وَأمِنْ رَّوْعَتِي وَاقْضِ عَنِّى دَيْنِي]

اے اللہ! میرے عیوب پر پردہ ڈال دے اور خطرات سے امن عطا کر اور میرا قرض ادا کر دے۔

[صحيح الجامع الصغير:1/271، حدیث: 1262]

فراخی رزق اور دنیا و آخرت میں وسیع گھر کے لیے دعا:

[اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي وَبَارِكْ لِي فِي رِزْقيْ]

اے اللہ! میرے گناہ معاف کر دے اور میرے لیے میرے گھر میں وسعت پیدا کر دے اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔ [مسند أبي يعلى الموصلي:13/257]،[صحيح الجامع الصغير:1/272،271]

برے اخلاق و کردار سے پناہ مانگنے کی دعا:

[اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ, وَالْأَعْمَالِ, وَالْأَهْوَاءِ، وَالْأَدْوَآءِ]

اے اللہ! میں برے اخلاق واعمال، بری خواہشات اور بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

[جامع الترمذي، حديث: 3591]،[صحيح الجامع الصغير:1/278، حديث:1298]

ہر قسم کے شر سے بچاؤ اور رات سونے سے پہلے کی دعا:

[اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ]

الہی! ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کے رب، ہمارے اور ہر چیز کے رب، دانے اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والے، تورات وانجیل اور قرآن کو نازل فرمانے والے، میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ تو ہی اول ہے جس سے پہلے کوئی چیز نہیں اور تو ہی آخر ہے جس کے بعد کوئی چیز نہیں۔ تو ہی ظاہر ہے کہ جس سے بڑھ کر [ظاہر] کوئی چیز نہیں [کیونکہ بے شمار دلائل اس کی ذات پر دلالت کناں ہیں] اور تو ہی باطن ہے [آنکھیں تیرا ادراک نہیں کر سکتیں] جس کے آگے کوئی چیز نہیں۔ میرا قرض اتار دے اور مجھے فقر سے غنی کر دے۔ [صحیح مسلم، حدیث: 2713]،[جامع الترمذي، حديث:3481]،[مسند أحمد:281/2]

اللہ کی محبت حاصل کرنے کی دعا:

[اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ]

اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت، تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت اور ایسے عمل کا طالب ہوں جو تیری محبت تک پہنچا دے۔ اے اللہ! تو میرے دل میں اپنی محبت کو میری جان، میرے اہل وعیال اور (گرمیوں کے موسم اور پیاس کی شدت میں) ٹھنڈے پانی کی محبت سے بھی فائق کر دے۔ [جامع الترمذي، حديث: 3490]

اللہ کی ناراضی سے محفوظ رہنے کی دعا:

[اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ ، كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ]

اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے سے تیری ناراضی سے اور تیری عافیت کے ذریعے سے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے سے تیرے قہر و غضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری تعریف کا شمار نہیں کر سکتا ، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف فرمائی۔[صحیح مسلم، حدیث: 486]

خیر و بھلائی طلب کرنے اور شرو برائی سے بچاؤ کی دعا:

[اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ]

اے اللہ! میں تجھ سے ہر اس خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو تجھ سے تیرے نبی محمدﷺ نے مانگی۔ اور ہر اس چیز سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں جس سے تیرے نبی محمدﷺنے تیری پناہ حاصل کی۔ اور تو ہی ہے جس سے مدد طلب کی جاسکتی ہے۔ ہم کو مقاصد تک پہنچانا تیرا ہی کام ہے اور برائی سے پھرنے اور نیکی کرنے کی طاقت وقوت اللہ ہی کی توفیق سے ملتی ہے۔ [جامع الترمذي ، حديث: 3521]

دین پر ثابت قدمی کی دعا:

[يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ]

اے دلوں کو پھیرنے والے! میرا دل اپنے دین پر ثابت اور قائم رکھ ۔ [جامع الترمذي، حديث: 3522]

[اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ]

اے اللہ! دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت میں مشغول رکھ۔ [صحیح مسلم، حدیث: 2654]