ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 26

قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الۡمُلۡکِ تُؤۡتِی الۡمُلۡکَ مَنۡ تَشَآءُ وَ تَنۡزِعُ الۡمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ ۫ وَ تُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ؕ بِیَدِکَ الۡخَیۡرُ ؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۶﴾
کہہ دے اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بے شک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
کہو کہ اے خدا (اے) بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے اور بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے
En
آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26) ➊ {قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ:} سیبویہ اور خلیل نے کہا { اللّٰهُمَّ } اصل میں { يَااللّٰهُ } تھا، شروع سے یا کو حذف کیا تو آخر میں میم مشدد لگا دی۔ { مٰلِكَ الْمُلْكِ } سے پہلے بھی یا پوشیدہ ہے، اس لیے لفظ { مٰلِكَ } منصوب ہے۔ (شوکانی) گویا اس دعا میں اللہ کے ذاتی اور صفاتی دونوں ناموں سے دعا کرنا سکھایا گیا ہے۔
➋ یہودی غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ حُکم و نبوت کا یہ سلسلہ ہمیشہ ان میں رہے گا، دوسری قوم اس کا حق نہیں رکھتی، مگر جب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم ایک اُمی قوم بنی اسماعیل سے مبعوث ہو گئے تو ان کے غیظ و غضب اور حسد کی انتہا نہ رہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی والا اور ساری بادشاہی کا مالک ہے۔ وہ جس قوم کو چاہتا ہے دنیا میں عزت و سلطنت سے نواز دیتا ہے۔ لہٰذا نبوت جو بہت بڑی عزت ہے، اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جسے چاہا پسند فرما لیا۔ اللہ تعالیٰ پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔ یہاں دعا کے انداز میں مسلمانوں کو بشارت بھی دے دی کہ تمھیں اس دنیا میں غلبہ و اقتدار حاصل ہو گا اور خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے، لہٰذا تمھیں چاہیے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاؤ۔
➌ { الْخَيْرُ } میں الف لام استغراق کا ہے اور {بِيَدِكَ} خبر پہلے آنے سے تخصیص پیدا ہو گئی ہے، اس لیے ترجمہ تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے کیا گیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

26۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قوت وطاقت کا اظہار ہے شاہ کو گدا بنا دے، گدا کو شاہ بنا دے، تمام اختیارات کا مالک ہے یعنی تمام بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں تیرے سوا کوئی بھلائی دینے والا نہیں شرکاء خالق بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ لیکن ذکر صرف خیر کا کیا گیا ہے شر کا نہیں اس لئے کہ خیر اللہ کا فضل محض ہے بخلاف شر کے یہ انسان کے اپنے عمل کا بدلہ ہے جو اسے پہنچتا ہے یا اسلئے کہ شر بھی اس کے قضا وقدر کا حصہ ہے جو خیر کو متضمن ہے اس اعتبار سے اس کے تمام افعال خیر ہیں (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ آپ کہئے: اے اللہ! ملک کے مالک! جسے تو چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے اور جس [30] سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ تو ہی جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کرتا ہے۔ سب بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے (اور) تو یقیناً ہر چیز پر قادر ہے
[30] یہود کی مسلمانوں پر ایک طنز کا جواب:۔
اس آیت میں اگرچہ خطاب عام ہے، جس میں اہل کتاب، مشرکین عرب اور مسلمان سب شامل ہیں۔ تاہم ربط موضوع کے لحاظ سے بالخصوص یہ خطاب یہود اور کفار سے ہے جو جنگ خندق کے موقعہ پر یوں کہہ رہے تھے کہ ان مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ اپنے بچاؤ کی خاطر خندق کھود رہے ہیں، نہ کچھ کھانے کو پاس موجود ہے اور نہ ہی کوئی اسلحہ جنگ ہے لیکن قیصر و کسریٰ کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، یہ دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہود اور کفار کی اسی پھبتی کا جواب اس جامع قسم کی دعا میں دیا گیا ہے کہ عزت و ذلت اور اقتدار وغیرہ سب کچھ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ آج جو حاکم ہیں کل محکوم بن جائیں اور جو شہنشاہ ہیں وہ گدا بن جائیں جو کمزور ہیں وہ طاقتور بن جائیں۔ بھلا جو ہستی مردہ کو زندہ سے اور زندہ کو مردہ سے نکال سکتی ہے وہ مقتدر سے محتاج اور محتاج سے مقتدر کیوں نہیں بنا سکتی؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے رب کی تعظیم کرنے اور اس کا شکریہ بجا لانے اور اسے اپنے تمام کام سونپنے اور اس کی ذات پاک پر پورے بھروسہ کا اظہار کرنے کے لیے ان الفاظ میں اس کی اعلیٰ صفات بیان کیجئے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ یعنی اے اللہ تو مالک الملک ہے، تیری ملکیت میں تمام ملک ہے، جسے تو چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے اپنا دیا ہوا واپس لے لے، تو ہی دینے اور لینے والا ہے تو جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے اور جو نہ چاہے ہو ہی نہیں سکتا۔
اس آیت میں اس بات کی بھی تنبیہہ اور اس نعمت کے شکر کا بھی حکم ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کو مرحمت فرمائی گئی کہ بنی اسرائیل سے ہٹا کر نبوت نبی عربی قریشی امی مکی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی گئی اور آپ کو مطلقاً نبیوں کے ختم کرنے والے اور تمام انس و جن کی طرف رسول بن کر آنے والے بنا کر بھیجا، تمام سابقہ انبیاءعلیہم السلام کی خوبیاں آپ میں جمع کر دیں بلکہ ایسی فضیلتیں آپ کو دی گئیں جن سے اور تمام انبیاء علیہم السلام بھی محروم رہے خواہ وہ اللہ کے علم کی بابت ہوں یا اس رب کی شریعت کے معاملہ میں ہوں یا گذشتہ اور آنے والی خبروں کے متعلق ہوں، آپ پر اللہ تعالیٰ نے آخرت کے کل حقائق کھول دئیے، آپ کی امت کو مشرق مغرب تک پھیلا دیا آپ کے دین اور آپ کی شریعت کو تمام دینوں اور کل مذہبوں پر غالب کر دیا، اللہ تعالیٰ کا درود و سلام آپ پر نازل ہو اب سے لے کر قیامت تک جب تک رات دن کی گردش باقی رہے اللہ آپ پر اپنی رحمتیں دوام کے ساتھ نازل فرماتا رہے۔ آمین
پس فرمایا: کہو! اے اللہ تو ہی اپنی خلق میں ہیر پھیر کرتا رہتا ہے جو چاہے کر گزرتا ہے، «وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ» [43-الزخرف:31]‏‏‏‏ جو لوگ کہتے تھے کہ ان دو بستیوں میں سے کسی بہت بڑے شخص پر اللہ نے اپنا کلام کیوں نازل نہ کیا اس کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا «أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا» ۱ ؎ [43-الزخرف:32]‏‏‏‏ کیا تیرے رب کی رحمت کو بانٹنے والے یہ لوگ ہیں، جب ان کے رزق تک کے مالک ہم ہیں جسے چاہیں کم دیں جسے چاہیں زیادہ دیں تو پھر ہم پر حکومت کرنے والے یہ کون؟ کہ فلاں کو نبی کیوں نہ بنایا؟ نبوت بھی ہماری ملکیت کی چیز ہے ہم ہی جانتے ہیں کہ اس کے دئیے جانے کے قابل کون ہے؟
جیسے اور جگہ ہے «اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ» [6-الأنعام:124]‏‏‏‏ جہاں کہیں اللہ تعالیٰ اپنی رسالت نازل فرماتا ہے اسے وہی سب سے بہتر جانتا ہے۔
اور جگہ فرمایا «انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ [17-الإسراء:21]‏‏‏‏ دیکھ لے کہ ہم نے کسی طرح ان میں آپس میں ایک کو دوسرے پر برتری دے رکھی ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ تو ہی رات کی زیادتی کو دن کے نقصان میں بڑھا کر دن رات کو برابر کر دیتا ہے، زمین و آسمان پر سورج چاند پر پورا پورا قبضہ اور تمام تر تصرف تیرا ہی ہے، اسی طرح جاڑے کو گرمی اور گرمی کو جاڑے سے بدلنا بھی تیری قدرت میں ہے، بہارو خزاں پر قادر تو ہی ہے۔ تو ہی ہے کہ زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالے کھیتی سے دانے اگاتا ہے اور دانہ سے کھیتوں کو لہلہاتا ہے، کھجور گٹھلی سے اور گٹھلی کھجور سے تو ہی پیدا کرتا ہے مومن کو کافر کے ہاں اور کافر کو مومن کے ہاں تو ہی پیدا کرتا ہے، مرغی انڈے سے اور انڈا مرغی سے اور اسی طرح کی تمام تر چیزیں تیرے ہی قبضہ میں ہیں، تو جسے چاہے اتنا مال دے دے جو نہ گنا جائے نہ احاطہٰ کیا جائے اور جسے چاہے بھوک کے برابر روٹی بھی نہ دے، ہم مانتے ہیں کہ یہ کام حکمت سے پر ہیں اور تیرے ارادے اور تیری چاہت سے ہی ہوتے ہیں، طبرانی کی حدیث میں ہے اللہ کا اسم اعظم اس «قُلِ اللَّـهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ» میں ہے کہ جب اس نام سے اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرما لیتا ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:12796:ضعیف جداً]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ کہہ دیجیے ﴿اللّٰهُمَّ مٰؔلِكَ الْمُلْكِ اے اللہ! بادشاہی کے مالک یعنی تو بادشاہ ہے جو تمام ملکوں کا مالک ہے۔ بادشاہ کی صفت علی الاطلاق تیرے لیے ہے۔ اور آسمان کی اور زمین کی تمام سلطنت تیری ہی ہے۔ اس میں تبدیلیاں لانا اور انتظام کرنا سب تیرے ہاتھ میں ہے۔ پھر چند تبدیلیاں ذکرکی ہیں جو اکیلے باری تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ فرمایا: ﴿تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْ٘زِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ تو جسے چاہے باشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایران کے کسریٰ بادشاہوں سے، اور روم کے قیصر بادشاہوں سے، اور ان کے پیروکاروں سے حکومت چھین کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے گا۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ وللہ الحمد۔ لہٰذا حکومت کا مل جانا یا چھن جانا اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے۔ یہ فرمان اللہ کی اس سنت کے خلاف نہیں جو اس نے کچھ تکوینی اور دینی اسباب قائم کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے حکومت باقی رہتی،ملتی اور ختم ہوجاتی ہے۔ یہ اسباب بھی اللہ کی مشیت کے تابع ہیں۔کوئی سبب مستقل بالذات نہیں۔ بلکہ تمام اسباب قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بادشاہی کے حصول کے جو اسباب مقرر کیے ہیں ان میں ایمان اور عمل صالح بھی ہیں۔ اس مقصد کے لیے چند ضروری اعمال صالحہ یہ ہیں: مسلمانوں کا اتفاق و اتحاد، جو آلات تیار کرنے اور حاصل کرنے ممکن ہوں، جمع کرنا، صبر و ثبات، باہمی تنازعات سے پرہیز۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور:24؍55) تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے، کہ وہ انھیں زمین میں ضرور خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا اللہ نے بتایا ہے کہ مذکورہ خلافت کے حصول کی شرط ایمان اور عمل صالح ہے۔ اور فرمایا: ﴿هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَۙ۰۰۶۲ وَاَلَّفَ بَیْنَ قُ٘لُوْبِهِمْ (الانفال:8؍62۔63) وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی اور ان کے دلوں میں محبت ڈال دی اور فرمایا ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۰۰ وَاَطِیْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِیْنَ (الانفال:8؍45۔46) اے مومنو! جب تم کسی جماعت کا سامنا کرو تو ثابت قدم رہو، اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یعنی اللہ نے بتایا ہے کہ مومنوں کی باہمی محبت، ثابت قدمی اور اتفاق دشمنوں پر فتح کا باعث ہے۔ اگر آپ مسلمان ملکوں کے حالات پر غور کریں تو ان کی سلطنت ختم ہونے کا بڑا سبب دین سے دوری اور باہمی افتراق ہے جس سے دشمنوں کو حوصلہ ہوا اور ان کے درمیان لڑائی ڈال دی۔ پھر اللہ نے فرمایا: ﴿وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ تو جسے چاہے (اپنی اطاعت کی وجہ سے) عزت دے ﴿ وَتُذِلُّ٘ مَنْ تَشَآءُ اور جسے چاہے (معصیت کی وجہ سے) ذلت دے ﴿ اِنَّكَ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ کوئی چیز تیرے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ سب کچھ تیری قدرت اور مشیت کے تحت ہے ﴿ تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ توہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے، اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے موسم پیدا ہوتے ہیں، روشنی، دھوپ، سایہ، سکون اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔ جو اللہ کی قدرت، عظمت، حکمت اور رحمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَتُخْرِجُ الْ٘حَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ تو نکالتا ہے جان دار کو بے جان سے۔ جیسے انڈے سے چوزہ، گٹھلی سے درخت، بیج سے کھیتی اور کافر سے مومن۔ ﴿ وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْ٘حَیِّ اور نکالتا ہے بے جان کو جان دار سے۔ جیسے پرندے سے انڈا، درخت سے گٹھلی، پودے سے دانہ اور مومن میں سے کافر۔ یہ اللہ کی قدرت کی سب سے بڑی دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام اشیا مسخر ہیں، ان کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا متضاد اشیا کو پیدا کرنا اور ایک چیز میں سے اس سے متضاد چیز پیدا کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ سب مجبور و لاچار ہیں۔ ﴿وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ توہی جسے چاہتا ہے، بے حساب روزی دیتا ہے۔ تو جسے چاہتا ہے وہاں سے وسیع رزق دے دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور نہ اس نے کمائی کی ہوتی ہے۔ پھر فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى نبيه - صلى الله عليه وسلم - أصلاً وغيره تبعاً أن يقول عن ربه معلناً بتفرده بتصريف الأمور، وتدبير العالم العلوي والسفلي، واستحقاقه باختصاصه بالملك المطلق والتصريف المحكم، وأنه يؤتي الملك من يشاء، وينزع الملك ممن يشاء، ويعز من يشاء ويذل من يشاء، فليس الأمر بأماني أهل الكتاب ولا غيرهم، بل الأمر أمر الله، والتدبير له، فليس له معارض في تدبيره، ولا معاون في تقديره وأنه كما أنه المتصرف بمداولة الأيام بين الناس فهو المتصرف بنفس الزمان: يولج النهار في الليل ويولج الليل في النهار؛ أي: يدخل هذا على هذا ويحل هذا محل هذا ويزيد في هذا ما ينقص من هذا ليقيم بذلك مصالح خلقه، ويخرج الحي من الميت كما يخرج الزروع والأشجار المتنوعة من بذورها والمؤمن من الكافر والميت من الحي، كما يخرج الحبوب والنوى والزروع والأشجار والبيضة من الطائر، فهو الذي يخرج المتضادات بعضها من بعض، وقد انقادت له جميع العناصر.

وقوله: {بيدك الخير}؛ أي: الخير كله منك ولا يأتي بالحسنات والخيرات إلا الله، وأما الشر فإنه لا يضاف إلى الله تعالى لا وصفاً ولا اسماً ولا فعلاً، ولكنه يدخل في مفعولاته ويندرج في قضائه وقدره، فالخير والشر كله داخل في القضاء والقدر فلا يقع في ملكه إلا ما شاءه، ولكن الشرَّ لا يضاف إلى الله، فلا يقال بيدك الخير والشر، بل يقال بيدك الخير كما قاله الله وقاله رسوله، وأما استدراك بعض المفسرين حيث قال: وكذلك الشر بيد الله فإنه وهم محض، ملحظهم حيث ظنوا أن تخصيص الخير بالذكر ينافي قضاءه وقدره العام، وجوابه ما فصلناه.

وقوله: {وترزق من تشاء بغير حساب}؛ وقد ذكر الله في غير هذه الآية الأسباب التي ينال بها رزقه كقوله: {ومن يتق الله يجعل له مخرجاً ويرزقه من حيث لا يحتسب}؛ {ومن يتوكل على الله فهو حسبه}؛ فعلى العباد أن لا يطلبوا الرزق إلا من الله، ويسعوا فيه بالأسباب التي يسرها الله وأباحها.