تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یہودی غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ حُکم و نبوت کا یہ سلسلہ ہمیشہ ان میں رہے گا، دوسری قوم اس کا حق نہیں رکھتی، مگر جب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم ایک اُمی قوم بنی اسماعیل سے مبعوث ہو گئے تو ان کے غیظ و غضب اور حسد کی انتہا نہ رہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی والا اور ساری بادشاہی کا مالک ہے۔ وہ جس قوم کو چاہتا ہے دنیا میں عزت و سلطنت سے نواز دیتا ہے۔ لہٰذا نبوت جو بہت بڑی عزت ہے، اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جسے چاہا پسند فرما لیا۔ اللہ تعالیٰ پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔ یہاں دعا کے انداز میں مسلمانوں کو بشارت بھی دے دی کہ تمھیں اس دنیا میں غلبہ و اقتدار حاصل ہو گا اور خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے، لہٰذا تمھیں چاہیے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاؤ۔
➌ { ”الْخَيْرُ“ } میں الف لام استغراق کا ہے اور {”بِيَدِكَ“} خبر پہلے آنے سے تخصیص پیدا ہو گئی ہے، اس لیے ترجمہ ”تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے “کیا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور جگہ ہے «اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ» [6-الأنعام:124] جہاں کہیں اللہ تعالیٰ اپنی رسالت نازل فرماتا ہے اسے وہی سب سے بہتر جانتا ہے۔
اور جگہ فرمایا «انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ [17-الإسراء:21] دیکھ لے کہ ہم نے کسی طرح ان میں آپس میں ایک کو دوسرے پر برتری دے رکھی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى نبيه - صلى الله عليه وسلم - أصلاً وغيره تبعاً أن يقول عن ربه معلناً بتفرده بتصريف الأمور، وتدبير العالم العلوي والسفلي، واستحقاقه باختصاصه بالملك المطلق والتصريف المحكم، وأنه يؤتي الملك من يشاء، وينزع الملك ممن يشاء، ويعز من يشاء ويذل من يشاء، فليس الأمر بأماني أهل الكتاب ولا غيرهم، بل الأمر أمر الله، والتدبير له، فليس له معارض في تدبيره، ولا معاون في تقديره وأنه كما أنه المتصرف بمداولة الأيام بين الناس فهو المتصرف بنفس الزمان: يولج النهار في الليل ويولج الليل في النهار؛ أي: يدخل هذا على هذا ويحل هذا محل هذا ويزيد في هذا ما ينقص من هذا ليقيم بذلك مصالح خلقه، ويخرج الحي من الميت كما يخرج الزروع والأشجار المتنوعة من بذورها والمؤمن من الكافر والميت من الحي، كما يخرج الحبوب والنوى والزروع والأشجار والبيضة من الطائر، فهو الذي يخرج المتضادات بعضها من بعض، وقد انقادت له جميع العناصر.
وقوله: {بيدك الخير}؛ أي: الخير كله منك ولا يأتي بالحسنات والخيرات إلا الله، وأما الشر فإنه لا يضاف إلى الله تعالى لا وصفاً ولا اسماً ولا فعلاً، ولكنه يدخل في مفعولاته ويندرج في قضائه وقدره، فالخير والشر كله داخل في القضاء والقدر فلا يقع في ملكه إلا ما شاءه، ولكن الشرَّ لا يضاف إلى الله، فلا يقال بيدك الخير والشر، بل يقال بيدك الخير كما قاله الله وقاله رسوله، وأما استدراك بعض المفسرين حيث قال: وكذلك الشر بيد الله فإنه وهم محض، ملحظهم حيث ظنوا أن تخصيص الخير بالذكر ينافي قضاءه وقدره العام، وجوابه ما فصلناه.
وقوله: {وترزق من تشاء بغير حساب}؛ وقد ذكر الله في غير هذه الآية الأسباب التي ينال بها رزقه كقوله: {ومن يتق الله يجعل له مخرجاً ويرزقه من حيث لا يحتسب}؛ {ومن يتوكل على الله فهو حسبه}؛ فعلى العباد أن لا يطلبوا الرزق إلا من الله، ويسعوا فيه بالأسباب التي يسرها الله وأباحها.