ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 25

قَالَ رَبِّ اشۡرَحۡ لِیۡ صَدۡرِیۡ ﴿ۙ۲۵﴾
اس نے کہا اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔ En
کہا میرے پروردگار (اس کام کے لئے) میرا سینہ کھول دے
En
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کھول دے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26،25){ قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ …:} دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ يَضِيْقُ صَدْرِيْ وَ لَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ [الشعراء: ۱۳] اور میرا سینہ تنگ ہوتا ہے اور میری زبان چلتی نہیں۔ یعنی اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے سے میرے دل میں جو تنگی محسوس ہوتی ہے وہ دور فرما دے اور اس منصب عظیم کا بوجھ اٹھانے کے لیے جس ہمت، پامردی اور حوصلہ مندی کی ضرورت ہے وہ میرے دل میں پیدا فرما دے اور میرا تبلیغ رسالت کا کام میرے لیے آسان فرما دے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ موسیٰ نے عرض کیا! پروردگار! میرا سینہ کھول دے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔
چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر ان شاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔
اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس وقت موسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ علیہ السلام نے تن تنہا ہیں، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا: ﴿ رَبِّ اشْ٘رَحْ لِیْ صَدْرِیْ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ (آل عمران:3؍159) یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فحينئذٍ عَلِمَ موسى عليه السلام أنَّه تحمَّل حملاً عظيماً؛ حيث أُرسِلَ إلى هذا الجبار العنيد، الذي ليس له منازعٌ في مصر من الخلق، وموسى عليه السلام وحدَه، وقد جرى منه ما جرى من القتل، فامتثل أمر ربِّه، وتلقَّاه بالانشراح والقَبول، وسأله المعونة وتيسير الأسباب التي هي من تمام الدَّعوة، فقال: {ربِّ اشرحْ لي صدري}؛ أي: وسِّعه وافسحْه لأتحمَّل الأذى القوليَّ والفعليَّ، ولا يتكدَّر قلبي بذلك، ولا يضيق صدري؛ فإنَّ الصدر إذا ضاق؛ لم يصلح صاحبُه لهداية الخلق ودعوتهم؛ قال الله لنبيِّه محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -: {فبما رحمةٍ من الله لِنتَ لهم ولو كنتَ فظًّا غليظَ القلب لانفضُّوا من حولِكَ}، وعسى الخلقُ يقبلون الحقَّ مع اللِّين وسَعَة الصدر وانشراحه عليهم.