صحيح مسلم
كتاب الرقاق— کتاب الرقاق
باب أَكثَرِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ ، وَ أَكثَرِ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ ، وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسِاءِ باب: جنت والے اکثر فقراء ہوں گے اور جہنم والے اکثر عورتیں ہوں گی، اور عورتوں کے فتنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2739
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاذٍ .ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ابوتیاح سے حدیث سنائی، کہا: میں نے مطرف کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ ان کی دو بیویاں تھیں (آگے) معاذ کی حدیث کے ہم معنی (روایت کی۔)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبُو زُرْعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ " .حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے ایک یہ تھی: «اللہم انی اعوذ بک من زوال نعمتک وتحول عافیتک وفجاءة نقمتک وجمیع سخطک» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیری نعمت کے زوال سے، تیری عافیت کے ہٹ جانے سے، تیری ناگہانی سزا سے اور تیری ہر طرح کی ناراضی سے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1545 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´(بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا تھی: «اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك، وتحويل عافيتك، وفجاءة نقمتك، وجميع سخطك» " اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے، تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔" [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1545]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا تھی: «اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك، وتحويل عافيتك، وفجاءة نقمتك، وجميع سخطك» " اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے، تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔" [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1545]
1545. اردو حاشیہ: نعمتوں میں سب سے بڑی اور عظیم نعمت اسلام، ہدایت اور استقامت کی نعمت ہے۔ صحت و عافیت اور مادی نعمتیں بھی سراسر اسی کا فضل واحسان ہے۔ «تحویل» بعض نسخوں میں «تحول» بھی وارد ہے، معنی دونوں کے ایک ہی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1545 سے ماخوذ ہے۔