تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِيْۤ …:} چیونٹی کی آواز سن لینا، پھر اس کی بات سمجھ لینا، پھر اپنی نیک شہرت، یہ سب ایسی چیزیں تھیں کہ سلیمان علیہ السلام کا دل فخر و غرور کے بجائے شکر کے جذبات سے لبریز ہو گیا۔ مگر یہ سوچ کر کہ میں اس نعمت کا اور ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کر ہی نہیں سکتا جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں، انھوں نے اللہ تعالیٰ سے شکر کی توفیق عطا کرنے کی دعا کی۔ والدین پر نعمت بھی آدمی کے حق میں نعمت ہوتی ہے۔
➌ { وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ:} عمل صالح وہ ہے جو خالص اللہ کے لیے ہو اور اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔ سلیمان علیہ السلام کو علم عطا ہونے پر عمل کی فکر دامن گیر ہوئی، کیونکہ عمل کے بغیر علم انسان کے خلاف حجت ہوتا ہے۔
➍ { وَ اَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے صالح بندوں میں شمولیت اور جنّت کا حصول اللہ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: [لَنْ يُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، قَالُوْا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ لَا، وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِفَضْلٍ وَ رَحْمَةٍ] [بخاري، المرضٰی، باب تمني المریض الموت: ۵۶۷۳] ”کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا آپ کو بھی نہیں؟“ فرمایا: ”نہیں! میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“
➎ سلیمان علیہ السلام نے نبی ہو کر صالحین میں داخل ہونے کی دعا کیوں کی؟ دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فسمع سليمانُ عليه الصلاة والسلامُ قولَها وفَهِمَهُ، {فتبسَّمَ ضاحكاً من قولِها}: إعجاباً منه بفصاحتها ونُصحها وحسن تعبيرها، وهذا حال الأنبياء عليهم الصلاة والسلام؛ الأدبُ الكاملُ، والتعجُّب في موضعه، وأنْ لا يبلغَ بهم الضَّحِك إلاَّ إلى التبسُّم؛ كما كان الرسول - صلى الله عليه وسلم - جُلُّ ضَحِكِهِ التبسُّمُ؛ فإنَّ القهقهةَ تدلُّ على خفة العقل وسوء الأدب، وعدم التبسُّم والعجب مما يُتَعَجَّب منه يدلُّ على شراسةِ الخلق والجبروت، والرسل منزَّهون عن ذلك. وقال شاكراً لله الذي أوصله إلى هذه الحال: {ربِّ أوْزِعْني}؛ أي: ألهمني ووفقني {أنْ أشكُرَ نعمتَكَ التي أنعمتَ عليَّ وعلى والديَّ}: فإنَّ النعمةَ على الوالدين نعمةٌ على الولد، فسأل ربَّه التوفيق للقيام بشكر نعمتِهِ الدينيَّة والدنيويَّة عليه وعلى والديه، {وأنْ أعملَ صالحاً ترضاه}؛ أي: ووفِّقْني أن أعمل صالحاً ترضاه؛ لكونه موافقاً لأمرك مخلصاً فيه سالماً من المفسدات والمنقصات، {وأدخلني برحمتِكَ}: التي منها الجنة، {في}: جملةِ {عبادِكَ الصالحين}: فإنَّ الرحمةَ مجعولةٌ للصالحين على اختلاف درجاتهم ومنازلهم. فهذا نموذجٌ ذَكَره الله من حالة سليمان عند سماع خطابِ النملة وندائها.