ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 74

وَ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا ہَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعۡیُنٍ وَّ اجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا ﴿۷۴﴾
اور وہ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولادوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔ En
اور وہ جو (خدا سے) دعا مانگتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے (دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا
En
اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اوﻻد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 74) ➊ { وَ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا …:} مکی دور میں مسلمانوں کی زندگی کچھ اس طرح سے گزر رہی تھی کہ باپ مسلمان ہے تو اولاد کافر ہے اور اولاد مسلمان ہے تو والدین کافر ہیں، شوہر مسلمان ہے تو بیوی کافر ہے اور بیوی مسلمان ہے تو شوہر کافر ہے۔ یہ صورت حال مسلمانوں کے لیے سخت غم اور اضطراب کا باعث بنی ہوئی تھی، وہ اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں کو جہنم کا ایندھن بنتے ہوئے دیکھتے تو سخت بے چین ہوتے۔ لہٰذا عباد الرحمان کی صفات میں سے ایک صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے ازواج و اولاد کو بھی ایمان کی دولت نصیب فرما، تاکہ انھیں دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھندی ہوں۔ واضح رہے کہ مرد یہ دعا کریں تو ان کی ازواج بیویاں ہوں گی اور عورتیں یہ دعا کریں تو ان کے ازواج ان کے خاوند ہوں گے۔ اس دعا کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ پروردگارا! ہمیں ایسے ازواج و اولاد عطا فرما جو تیرے فرماں بردار ہوں اور ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی خوشی کا باعث ہوں۔
➋ {وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا:} اس کے دو معنی ہیں، ایک تو یہ کہ ہر شخص امام ہے اور کوئی نہ کوئی پیروکار رکھتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری (۵۲۰۰) میں ہے: [كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْؤلٌ عَنْ رَّعِيَّتِهِ] تم سب حکمران ہو اور تم سب اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ پروردگارا! جن لوگوں کے ہم امام ہیں، مثلاً ہمارے اہل و عیال اور ہمارے زیر نگرانی لوگ، تو انھیں متقی بنا دے، تاکہ ہم متقین کے امام ہوں، فاجروں کے امام نہ ہوں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ تو ہمیں اتنا متقی بنا کہ ہم متقین کے امام اور پیشوا بن جائیں۔ طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے کہ ہمیں ہدایت کے امام بنا کہ ہم سے لوگوں کو ہدایت حاصل ہو، گمراہی کے امام نہ بنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ سعادت کے متعلق فرمایا: «{ وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِيْتَآءَ الزَّكٰوةِ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ [الأنبیاء: ۷۳] اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیکیاں کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔ اور اہل شقاوت کے متعلق فرمایا: «{ وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ [القصص: ۴۱] اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے۔ خلاصہ یہ کہ انھوں نے دو دعائیں کیں، ایک اپنی اولاد و ازواج کے لیے کہ وہ توحید و اطاعتِ الٰہی پر کاربند ہوں اور ان کے لیے دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں، دوسری اپنے لیے کہ انھیں تقویٰ کی ایسی توفیق عطا ہو کہ وہ متقین کے امام بنیں اور لوگوں کو ہدایت اور تقویٰ کی دعوت دیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

74-1یعنی انھیں اپنا بھی فرماں بردار بنا اور ہمارا بھی اطاعت گزار جس سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔74۔-1یعنی ایسا اچھا نمونہ کہ خیر میں وہ ہماری پیروی کریں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

74۔ اور جو دعا کرتے ہیں کہ: پروردگار! ہمیں اپنی بیویوں اور اولاد [92] کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔
[92] امارت کی مشروط آرزو اور سیاسی لیڈرو ں کی تاویل :۔
یہ بھی دعا کا اگلا حصہ ہے۔ یعنی ہماری بیویوں اور اولاد کو نیک اور پرہیز گار بنا اور پھر ہمیں ان سے بڑھ کر پرہیزگار بنا کہ ہم خود ان کے امام اور پیش رو ثابت ہوں۔ پھر یہ دعا صرف ازواج و اولاد تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ ہمیں اتنا نیک اور پرہیزگار بنا دے کہ ہم دوسرے متقین کے لئے رہبر اور نمونہ بن جائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے بندوں کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ نیکی اور پرہیزگاری کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی آرزو اور اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس مقصد کے لئے اور اس میدان میں امامت یا حکومت تک کے لئے آرزو کرنا یا دعا کرنا صرف جائز ہی نہیں تھا بلکہ ضروری ہے۔ جبکہ حب مال یا حب جاء کی غرض سے طلب امارت بے شمار صحیح احادیث کی رو سے ممنوع ہے لیکن موجودہ جمہوری دور کے بعض سیاسی لیڈر اسی آیت سے طلب امارت کے جواز پر استدلال کرتے ہیں۔ وہ چاہتے یہ ہیں کہ متقی حضرات تو ان کی رعیت بنیں اور یہ سیاسی لیڈر، جیسے بھی کردار کے وہ مالک ہوں، ان کے حاکم بن جائیں۔ ایسی کج فکری خالصتاً کسی پکے دنیا دار کے ذہن کا نتیجہ ہی ہو سکتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے یعنی ہمارے ہم عصروں، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّیّٰتِنَا قُ٘رَّةَ اَعْیُنٍ اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔
جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا: ﴿ هَبْ لَنَا ہمیں عطا فرما۔ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں۔
﴿ وَّاجْعَلْنَا لِلْ٘مُتَّقِیْنَ اِمَامًا اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں۔
یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىِٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ ۫ وَكَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ (السجدۃ: 32؍24) جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔
یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين يقولونَ ربَّنا هَبْ لنا من أزواجِنا}؛ أي: قُرَنائِنا من أصحابٍ وأقرانٍ وزوجاتٍ، {وذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أعينٍ}؛ أي: تَقَرُّ بهم أعيننا، وإذا اسْتَقْرَأنا حالَهم وصفاتِهِم؛ عَرَفْنا من هِمَمِهِم وعلوِّ مرتبتِهِم [أنَّهم لا تَقَرُّ أَعْيُنُهم حَتَّى يَرَوهُم مُطِيعين لربِّهم عَالِمين عَامِلين وهذا كما أنه دعاء لأزواجهم] وذُرِّيَّاتِهم في صلاحهم؛ فإنَّه دعاءٌ لأنفسهم؛ لأنَّ نفعه يعودُ عليهم، ولهذا جعلوا ذلك هبةً لهم، فقالوا: {هَبْ لنا}، بل دعاؤهم يعودُ إلى نفع عموم المسلمين؛ لأنَّ بِصَلاحِ مَنْ ذُكِرَ يكونُ سبباً لصلاح كثيرٍ ممَّن يتعلَّق بهم وينتفعُ بهم.

{واجْعَلْنا للمتَّقين إماماً}؛ أي: أوْصِلْنا يا ربَّنا إلى هذه الدرجة العالية؛ درجة الصديقين والكُمَّل من عباد الله الصالحين، وهي درجة الإمامة في الدين، وأنْ يكونوا قدوةً للمتَّقين في أقوالهم وأفعالهم، يُقتدى بأفعالهم ويطمئنُّ لأقوالهم ويسير أهل الخير خلفَهم، فيهدون ويهتدون. ومن المعلوم أنَّ الدعاءَ ببلوغ شيء دعاءٌ بما لا يتمُّ إلاَّ به، وهذه الدرجة ـ درجة الإمامة في الدين ـ لا تتمُّ إلاَّ بالصبر واليقين؛ كما قال تعالى: {وجعلناهم أئِمَّةً يهدونَ بأمرِنا لمَّا صبروا وكانوا بآياتنا يوقنونَ}: فهذا الدُّعاء يستلزم من الأعمال والصبر على طاعةِ الله وعن معصيتِهِ وأقدارِهِ المؤلمة ومن العلم التامِّ الذي يوصل صاحِبَه إلى درجة اليقين خيراً كثيراً وعطاءً جزيلاً، وأنْ يكونوا في أعلى ما يمكن من درجاتِ الخَلْقِ بعد الرسل.