تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا:} اس کے دو معنی ہیں، ایک تو یہ کہ ہر شخص امام ہے اور کوئی نہ کوئی پیروکار رکھتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری (۵۲۰۰) میں ہے: [كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْؤلٌ عَنْ رَّعِيَّتِهِ] ”تم سب حکمران ہو اور تم سب اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہو۔“ مطلب یہ ہے کہ پروردگارا! جن لوگوں کے ہم امام ہیں، مثلاً ہمارے اہل و عیال اور ہمارے زیر نگرانی لوگ، تو انھیں متقی بنا دے، تاکہ ہم متقین کے امام ہوں، فاجروں کے امام نہ ہوں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ تو ہمیں اتنا متقی بنا کہ ہم متقین کے امام اور پیشوا بن جائیں۔ طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے کہ ہمیں ہدایت کے امام بنا کہ ہم سے لوگوں کو ہدایت حاصل ہو، گمراہی کے امام نہ بنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ سعادت کے متعلق فرمایا: «{ وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِيْتَآءَ الزَّكٰوةِ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ }» [الأنبیاء: ۷۳] ”اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیکیاں کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔“ اور اہل شقاوت کے متعلق فرمایا: «{ وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ }» [القصص: ۴۱] ”اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے۔“ خلاصہ یہ کہ انھوں نے دو دعائیں کیں، ایک اپنی اولاد و ازواج کے لیے کہ وہ توحید و اطاعتِ الٰہی پر کاربند ہوں اور ان کے لیے دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں، دوسری اپنے لیے کہ انھیں تقویٰ کی ایسی توفیق عطا ہو کہ وہ متقین کے امام بنیں اور لوگوں کو ہدایت اور تقویٰ کی دعوت دیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين يقولونَ ربَّنا هَبْ لنا من أزواجِنا}؛ أي: قُرَنائِنا من أصحابٍ وأقرانٍ وزوجاتٍ، {وذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أعينٍ}؛ أي: تَقَرُّ بهم أعيننا، وإذا اسْتَقْرَأنا حالَهم وصفاتِهِم؛ عَرَفْنا من هِمَمِهِم وعلوِّ مرتبتِهِم [أنَّهم لا تَقَرُّ أَعْيُنُهم حَتَّى يَرَوهُم مُطِيعين لربِّهم عَالِمين عَامِلين وهذا كما أنه دعاء لأزواجهم] وذُرِّيَّاتِهم في صلاحهم؛ فإنَّه دعاءٌ لأنفسهم؛ لأنَّ نفعه يعودُ عليهم، ولهذا جعلوا ذلك هبةً لهم، فقالوا: {هَبْ لنا}، بل دعاؤهم يعودُ إلى نفع عموم المسلمين؛ لأنَّ بِصَلاحِ مَنْ ذُكِرَ يكونُ سبباً لصلاح كثيرٍ ممَّن يتعلَّق بهم وينتفعُ بهم.
{واجْعَلْنا للمتَّقين إماماً}؛ أي: أوْصِلْنا يا ربَّنا إلى هذه الدرجة العالية؛ درجة الصديقين والكُمَّل من عباد الله الصالحين، وهي درجة الإمامة في الدين، وأنْ يكونوا قدوةً للمتَّقين في أقوالهم وأفعالهم، يُقتدى بأفعالهم ويطمئنُّ لأقوالهم ويسير أهل الخير خلفَهم، فيهدون ويهتدون. ومن المعلوم أنَّ الدعاءَ ببلوغ شيء دعاءٌ بما لا يتمُّ إلاَّ به، وهذه الدرجة ـ درجة الإمامة في الدين ـ لا تتمُّ إلاَّ بالصبر واليقين؛ كما قال تعالى: {وجعلناهم أئِمَّةً يهدونَ بأمرِنا لمَّا صبروا وكانوا بآياتنا يوقنونَ}: فهذا الدُّعاء يستلزم من الأعمال والصبر على طاعةِ الله وعن معصيتِهِ وأقدارِهِ المؤلمة ومن العلم التامِّ الذي يوصل صاحِبَه إلى درجة اليقين خيراً كثيراً وعطاءً جزيلاً، وأنْ يكونوا في أعلى ما يمكن من درجاتِ الخَلْقِ بعد الرسل.