تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا: ” مُغَاضِبًا “} باب مفاعلہ سے اسم فاعل ہے جس میں مشارکت ہوتی ہے، یا معنی میں مبالغہ مراد ہوتا ہے۔ یونس علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو دعوت دی اور وہ مسلسل کفر کرتے رہے تو آخر اکتا کرسخت غصے کی حالت میں ان کے حق میں بددعا کی اور عذاب کی دھمکی دے کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر انھیں چھوڑ کر نکل پڑے۔ جب کہ منصبِ رسالت کا تقاضا تھا کہ ان کے تمام تر غیظ و غضب اور کفر و طغیان کے باوجود انھی میں رہتے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ہر گز انھیں چھوڑ کر نہ جاتے، جیسا کہ نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال دعوت میں گزار دیے، نہ اکتائے اور نہ ان کے حق میں بددعا کی، جب تک اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ آئندہ ان کی قوم میں سے کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا۔ دیکھیے سورۂ ہود (۳۶) اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: «{ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ }» [القلم: ۴۸] ”پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو۔“ اور فرمایا: «{ فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ }» [الأحقاف: ۳۵] ”پس اولو العزم رسولوں کی طرح صبر کر اور ان کے لیے جلدی (عذاب کا) مطالبہ نہ کر۔“ اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کے بلااجازت نکلنے کو غلام کا بھاگ جانا قرار دیا ہے، فرمایا: «{ اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ }» [الصافات: ۱۴۰] ”جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ کر گیا۔“ یونس علیہ السلام کے واقعہ کے لیے مزید دیکھیے سورۂ یونس (۹۸) اور سورۂ صافات (۱۳۹ تا ۱۴۸)۔
➌ { فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ: ” اَنْ “} اصل میں {”أَنَّا“} سے مخفف ہے، {” نَا “} کو حذف کر کے {” أَنَّ “} کے نون کو ساکن کر دیا گیا ہے، یا {” أَنْ “} حرف تفسیر ہے جو {”أَيْ“} کے معنی میں ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ {”قَدَرَ يَقْدِرُ“} کا معنی قادر ہونا، قابو پانا ہے، تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ کا جلیل القدر پیغمبر یہ سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر قابو نہیں پا سکے گا؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ انھوں نے یہ ہر گز نہیں سمجھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر قابو نہیں پا سکے گا، بلکہ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی معمولی کوتاہی پر بھی سخت خفگی کا اظہار فرماتے ہیں۔ اس آیت میں ان کی حالت کا بیان ہے کہ بلااجازت ان کے چلے جانے سے ظاہر ہو رہا تھا جیسے وہ سمجھ رہے ہوں کہ مجھے کوئی پکڑ نہیں سکے گا۔ دوسرا جواب اس سے بہتر ہے کہ یہاں {” لَنْ نَّقْدِرَ “} قادر ہونے کے معنی میں نہیں، بلکہ تنگی کرنے اور گرفت کرنے کے معنی میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَللّٰہُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ }» [الرعد: ۲۶] ”اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے۔“ اور فرمایا: «{وَ مَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ }» [الطلاق: ۷] ”اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو تو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔“ آیت کا معنی یہ ہو گا کہ یونس علیہ السلام نے سمجھا کہ ان کے بلااجازت قوم سے نکل جانے پر ہم ان پر کوئی گرفت نہیں کریں گے۔ بعض اہل علم نے پہلے معنی کو سرے سے غلط قرار دیا ہے۔
➍ {فَنَادٰى فِي الظُّلُمٰتِ:} یہاں ایک لمبی بات حذف کر دی گئی ہے، جو سورۂ صافات (۱۳۹ تا ۱۴۸) میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ وہ قوم سے نکلے تو سمندری سفر کے لیے ایک کشتی میں سوار ہوئے جو ضرورت سے زیادہ بھری ہوئی تھی۔ طوفان آیا اور سب کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوا تو کشتی ہلکی کرنے کے لیے سامان پھینکنے کے بعد کچھ آدمیوں کو سمندر میں پھینکنے کا فیصلہ ہوا۔ قرعہ ڈالا گیا تو کئی اور آدمیوں کے ساتھ یونس علیہ السلام کے نام کا قرعہ نکلا، چنانچہ دوسروں کے ساتھ انھیں بھی سمندر میں پھینک دیا گیا، جہاں اللہ کے حکم سے ایک بہت بڑی مچھلی نے انھیں سالم ہی نگل لیا۔ اب وہ ایسی جگہ تھے جہاں اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ یہ ایسا قید خانہ تھا جہاں نہ کوئی ملاقاتی، نہ مقدمہ لڑنے والا، نہ پیروی کرنے والا، نہ قید کی کوئی میعاد، بلکہ تا قیامت قید کا فیصلہ (اگر وہ تسبیح نہ کریں) اور نہ اللہ کے سوا امید کی کوئی روشنی۔ ان کئی اندھیروں میں انھوں نے اپنے رب کو اس حال میں آواز دی کہ وہ غم سے بھرے ہوئے تھے، فرمایا: «{ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌ }» [القلم:۴۸] ”جب اس نے پکارا، اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔“
➎ قرآن مجید میں {” الظُّلُمٰتِ “} کا لفظ ہر جگہ جمع ہی آیا ہے، واحد کہیں بھی استعمال نہیں ہوا۔ (ابن عاشور) پھر سمندر کی تاریکیوں کا کوئی حساب ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ }» [النور: ۴۰] ”یا (کفار کے اعمال کی مثال) ان اندھیروں کی طرح ہے جو نہایت گہرے سمندر میں ہوں، جسے ایک موج ڈھانپ رہی ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، جس کے اوپر ایک بادل ہو، کئی اندھیرے ہوں، جن میں سے بعض بعض کے اوپر ہوں۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق سمندر کے اندھیرے جب صرف {” الظُّلُمٰتِ “} ہی نہیں بلکہ{ ” ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ “} ہیں تو{ ” الظُّلُمٰتِ “} کی جمع کا صیغہ مکمل کرنے کے لیے رات کا اندھیرا شامل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یونس علیہ السلام کی دعا دن کے وقت ہو تب بھی {” فِي الظُّلُمٰتِ “} ہی ہے۔ [التفسیر القرآنی للشیخ عبد الکریم الخطیب]
➏ { اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ:} یہ{” اَنْ “} بھی اصل میں {”أَنَّهُ“} سے مخفف ہے، یا حرف تفسیر بمعنی {” أَيْ “} ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے اگلی آیت میں فرمایا ہے: «{ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ }» ”تو ہم نے اس کی دعا قبول کی۔“ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یونس علیہ السلام نے کچھ مانگا ہی نہیں، نہ رہائی اور نہ اس مصیبت سے چھٹکارا، تو اللہ تعالیٰ نے کون سی دعا قبول فرمائی؟ جواب اس کا یہ ہے (واللہ اعلم) کہ انھوں نے اپنی حالت کے مطابق بہترین دعا کی ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو میرا مالک و معبود ہے، میں تیرا بندہ اور تیرا غلام ہوں، میں اور میرا سب کچھ تیرے سپرد اور تیرے تابع ہے۔ پھر اس کی تسبیح کی کہ تو ہر عیب اور کمی سے پاک ہے، میری اس آزمائش اور مصیبت میں تیرا کوئی ظلم ہے نہ زیادتی، تیری ذات ظلم سے یکسر پاک ہے۔ تو نے جو کیا مالک اور معبود ہونے کی وجہ سے تیرا حق ہے اور اس میں تیری بے شمار حکمتیں ہیں۔ آخر میں اپنے ظلم کا اعتراف کیا کہ یقینا مجھ پر جو کچھ گزرا یہ میرے اپنی جان پر ظلم کی وجہ سے ہے۔ یہ دعا بہترین اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے اعتراف میں درخواست ہو رہی ہے کہ تیرے سوا کوئی مجھے اس مصیبت سے نجات نہیں دے سکتا، تسبیح کے ضمن میں اظہار ہو رہا ہے کہ تو مجھے اس مصیبت سے نکالنے سے عاجز نہیں کہ جس سے نکلنے کی بظاہر کوئی صورت نہیں اور ہمیشہ سے اپنے ظالموں میں سے ہونے کا اعتراف معافی اور بخشش مانگنے کی لطیف ترین صورت ہے۔ ایوب علیہ السلام نے بھی دعا کے لیے عرض حال اور اللہ کی رحمت کا واسطہ دینے پر اکتفا کیا ہے۔ مزید سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} کے بہترین دعا ہونے کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ یونس علیہ السلام کے واقعہ کی مزید تفصیل سورۂ صافات اور سورۂ قلم میں دیکھیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ادھر ان کی آہ وبکاء ادھر جانوروں کی بھیانک صدا غرض اللہ کی رحمت متوجہ ہوگئی عذاب اٹھا لیا گیا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ» ۱؎ [10-یونس:98] یعنی ’ عذابوں کی تحقیق کے بعد کے ایمان نے کسی کو نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے کہ ان کے ایمان کی وجہ سے ہم نے ان پر سے عذاب ہٹالیے اور دنیا کی رسوائی سے انہیں بچا لیا اور موت تک کی مہلت دے دی ‘۔
چنانچہ خود قرآن میں ہے آیت «فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ» ۱؎ [37-الصافات:141] اب کہ یونس علیہ السلام خود کھڑے ہو گئے کپڑے اتار کر دریا میں کود پڑے۔ بحر اخضر سے بحکم الٰہی ایک مچھلی پانی کاٹتی ہوئی آئی اور آپ علیہ السلام کو لقمہ کرگئی۔ لیکن بحکم اللہ نے آپ علیہ السلام کی ہڈی توڑی نہ جسم کو کچھ نقصان پہچایا۔
آپ علیہ السلام اس کے لیے غذا نہ تھے بلکہ اس کا پیٹ آپ علیہ السلام کے لیے قید خانہ تھا۔ اسی وجہ سے آپ علیہ السلام کی نسبت مچھلی کی طرف کی گئی عربی میں مچھلی کو نون کہتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کا غضب وغصہ آپ کی قوم پر تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:511/18:]
خیال یہ تھا کہ اللہ آپ کو تنگ نہ پکڑے گا پس یہاں «نَقُدِرَ» کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہدرحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ نے کئے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:514/18:] امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کی تائید آیت «وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّـهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّـهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا» ۱؎ [65-الطلاق:7] سے بھی ہوتی ہے۔
ان اندھیریوں میں پھنس کر اب یونس علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا۔ سمندر کے نیچے کا اندھیرا پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا پھر رات کا اندھیرا یہ اندھیرے سب جمع تھے۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:333/11:]
آپ علیہ السلام نے سمندر کی تہہ کی کنکریوں کی تسبیح سنی اور خود بھی تسبیح کرنی شروع کی۔ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں جا کر پہلے تو سمجھے کہ میں مرگیا پھر پیر کو ہلایا تو یقین ہوا کہ میں زندہ ہوں۔ وہیں سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے ”بارالٰہی میں نے تیرے لیے اس جگہ کو مسجد بنایا جسے اس سے پہلے کسی نے جائے سجود نہ بنایا ہوگا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:518/18:] حسن بصری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں ”چالیس دن آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔“
تفسیر ابن کثیر کے ایک نسخے میں یہ روایت بھی ہے کہ { حضور علیہ السلام نے فرمایا { کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے تیئں یونس بن متع سے افضل کہے۔ اللہ کے اس بندے نے اندھیریوں میں اپنے رب کی تسبیح بیان کی ہے } }۔ ۱؎ [ابن ابی شیبة:156/12] اوپر جو روایت گزری اس کی وہی ایک سند ہے۔
مسند احمد ترمذی وغیرہ میں ہے { سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں گیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وہاں تھے۔ میں نے سلام کیا آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے بغور دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہ دیا میں نے امیر المؤمنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے آکر شکایت کی آپ رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان سے کہا کہ ”آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہ دیا؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”نہ یہ آئے، نہ انہوں نے سلام کیا، نہ یہ کہ میں نے انہیں جواب نہ دیا ہو۔“ اس پر میں قسم کھائی تو، آپ رضی اللہ عنہ نے بھی میرے مقابلے میں قسم کھالی۔ پھر کچھ خیال کر کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے توبہ استغفار کیا اور فرمایا ”ٹھیک ہے۔ آپ نکلے تھے لیکن میں اس وقت اپنے دل سے وہ بات کہہ رہا تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سے سنی تھی۔ واللہ مجھے جب وہ یاد آتی ہے میری آنکھوں پر ہی نہیں بلکہ میرے دل پر بھی پردہ پڑ جاتا ہے“ }۔
ابن ابی حاتم میں ہے { جو بھی یونس علیہ السلام اس دعا کے ساتھ دعا کرے اس کی دعا ضرور قبول کی جائے گی }۔
ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسی آیت میں اس کے بعد ہی فرمان ہے ہم اسی طرح مؤمنوں کو نجات دیتے ہیں۔“
ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کا وہ نام جس سے وہ پکارا جائے تو قبول فرمالے اور جو مانگا جائے وہ عطا فرمائے وہ یونس بن متع علیہ السلام کی دعا میں ہے }۔
ابن ابی حاتم میں ہے کثیر بن سعید فرماتے ہیں ”میں نے امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ابوسعید! اللہ کا وہ اسم اعظم کہ جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جائے اللہ تعالیٰ قبول فرمالے اور جب اس کے ساتھ اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا فرمائے کیا ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ برادر زادے ”کیا تم نے قرآن کریم میں اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا؟“ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی دو آیتیں «وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» تلاوت فرمائیں اور فرمایا ”بھتیجے یہی اللہ کا وہ اسم اعظم ہے کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے وہ قبول فرماتا ہے اور جب اس کے ساتھ اس سے مانگا جائے وہ عطا فرماتا ہے۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: واذكرْ عبدَنا ورسولَنا {ذَا النُّونِ}، وهو يونُس؛ أي: صاحب النون، وهي الحوت، بالذكر الجميل والثناء الحسن؛ فإنَّ الله تعالى أرسله إلى قومه، فدعاهم، فلم يؤمنوا، فوعدهم بنزول العذاب بأمدٍ سمَّاه لهم، فجاءهم العذابُ، ورأوه عِياناً، فعَجُّوا إلى الله وضجُّوا وتابوا، فرفع الله عنهم العذاب؛ كما قال تعالى: {فلولا كانت قريةٌ آمنتْ فَنَفَعَها إيمانُها إلاَّ قومَ يونُسَ لما آمنوا كَشَفْنا عنهم عذابَ الخِزْي في الحياة الدنيا ومتَّعْناهم إلى حين}، وقال: {وأرسَلْناه إلى مائةِ ألفٍ أو يزيدونَ. فآمَنوا فَمَتَّعْناهم إلى حينٍ}. وهذه الأمَّة العظيمة الذين آمنوا بدعوة يونس من أكبر فضائله، ولكنه عليه الصلاة والسلام ذَهَبَ مغاضِباً وأبَقَ عن ربِّه لذنبٍ من الذُّنوب التي لم يَذْكُرها الله لنا في كتابه ولا حاجة لنا إلى تعيينها؛ لقوله: {إذْ أبَقَ إلى الفُلْكِ ... وهو مليمٌ}؛ أي: فاعلٌ ما يُلام عليه، [والظاهر أن عجلته ومغاضبته لقومه وخروجه من بين أظهرهم قبل أن يأمره اللَّه بذلك]. وظنَّ أنَّ الله لا يقدر عليه؛ أي: يضيِّق عليه في بطن الحوت، أو ظنَّ أنَّه سيفوتُ الله تعالى، ولا مانع من عُروض هذا الظنِّ للكمَّل من الخلق على وجهٍ لا يستقرُّ ولا يستمرُّ عليه، فركب في السفينة مع أناس، فاقْتَرَعوا مَنْ يُلقون منهم في البحر لما خافوا الغرق إن بَقُوا كلُّهم، فأصابت القرعةُ يونس، فالتقمه الحوتُ، وذهب فيه إلى ظلمات البحار، فنادى في تلك الظلمات: {لا إله إلا أنتَ سبحانَكَ إني كنتُ من الظالمينَ}، فأقرَّ لله تعالى بكمال الألوهيَّة، ونزَّهه عن كل نقص وعيبٍ وآفةٍ، واعترفَ بظلم نفسِهِ وجنايتِهِ؛ قال الله تعالى: {فَلَوْلا أنَّه كان من المسبِّحين. لَلَبِثَ في بطنِهِ إلى يوم يبعثون}، ولهذا قال هنا: {فاستَجَبْنا له ونَجَّيْناه من الغمِّ}؛ أي: الشدَّة التي وقع فيها، {وكذلك نُنْجي المؤمنينَ}: وهذا وعدٌ وبشارةٌ لكلِّ مؤمن وقع في شدَّة وغمٍّ: أنَّ الله تعالى سَيُنجيه منها ويكشِفُ عنه، ويخفِّفُ لإيمانِهِ؛ كما فعل بيونس عليه السلام.