تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ …:} ان میں سے پہلی صفت جو {” الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ “} سے ظاہر ہے، یہ ہے کہ وہ مہاجرین و انصار کو مومن مانتے ہوں اور انھی چیزوں پر ایمان رکھتے ہوں جن پر ان کا ایمان تھا۔ دوسری صفت یہ ہے کہ وہ ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوں۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ مہاجرین و انصار صحابہ اور ان کے پیروکاروں سے نہ صرف محبت رکھتے ہوں بلکہ دعا بھی کرتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں ان کے بارے میں کوئی کینہ یا دشمنی باقی نہ رہنے دے اور نہ ہی پیدا ہونے دے۔ مفسر ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے کیا ہی خوب صورت استنباط کیا ہے کہ رافضی جو صحابہ کو گالی دیتا ہو، اس کا مال فے میں کوئی حصہ نہیں، کیونکہ اس میں وہ اوصاف نہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان {” وَ الَّذِيْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ “} میں ذکر فرمائے ہیں۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے اس آیت کے مفہوم کے پیشِ نظر اپنے بھانجے عروہ بن زبیر سے فرمایا: [يَا ابْنَ أُخْتِيْ! أُمِرُوْا أَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبُّوْهُمْ] [مسلم، التفسیر، باب في تفسیر آیات متفرقۃ: ۳۰۲۲] ”اے میرے بھانجے! ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے مغفرت کی دعا کریں، لیکن وہ انھیں گالیاں دینے لگے۔“ بعض نے فرمایا، جس کے دل میں کسی صحابی کے متعلق کینہ ہو اور وہ تمام صحابہ کے لیے رحم کی دعا نہ کرتا ہو وہ ان لوگوں میں شامل نہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بالترتیب ایمان والوں کے تین مراتب بیان فرمائے ہیں، مہاجرین، انصار اور ان کے وہ پیروکار جن میں وہ اوصاف ہوں جو آیت میں مذکور ہیں، سو جو شخص ان صفات والے پیروکاروں میں سے نہ ہو وہ مومنوں کی اقسام سے خارج ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رافضی لوگوں سے، جو صحابہ کو گالی دیتے ہیں، یہود و نصاریٰ ہی اچھے رہے، کیونکہ یہود سے پوچھا گیا کہ تمھاری ملت میں سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ انھوں نے کہا، موسیٰ علیہ السلام کے اصحاب۔ نصاریٰ سے پوچھا گیا، تمھاری ملت میں سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ انھوں نے کہا، عیسیٰ علیہ السلام کے اصحاب۔ رافضیوں سے پوچھا گیا کہ تمھاری ملت میں سب سے برے لوگ کون ہیں؟ تو انھوں نے کہا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب۔ [نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ]
➌ { رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ:} اپنے سے پہلے ایمان والوں کے لیے مغفرت کی دعا اور اپنے سینوں کو ان کے کینے سے پاک رکھنے کی دعا کے آخر میں اللہ تعالیٰ کو اس کے ان دو اسمائے حسنیٰ کا واسطہ دیا، کیونکہ یہ دونوں چیزیں اس کی رافت و رحمت ہی سے حاصل ہو سکتی ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ امیر اپنی مرضی یا رائے عوام پر ٹھونسنے کا حق نہیں رکھتا۔ بلکہ انہیں شرعی دلیل سے قائل کرنا اور انہیں اپنے اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر اسلام کا نظام حکومت استبدادی نہیں بلکہ شورائی ہے اور مشورہ میں مقصود دلیل کی تلاش ہے۔ خواہ وہ ایک آدمی سے مل جائے۔ یہاں کثرت رائے فیصلہ کی بنیاد نہیں ہوتی۔
3۔ آخری فیصلہ کا اختیار میر مجلس کو ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر مال فے کے مستحقین لوگوں کی تیسری قسم کا بیان ہو رہا ہے کہ انصار اور مہاجر کے فقراء کے بعد ان کے تابع جو ان کے بعد کے لوگ ہیں ان میں سے مساکین بھی اس مال کے مستحق ہیں جو اللہ تعالیٰ سے اپنے سے اگلے باایمان لوگوں کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں جیسے کہ سورۃ برات میں ہے «وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ» ۱؎ [9-التوبة:100] یعنی ’ اول اول سبقت کرنے والے مہاجر و انصار اور ان کے بعد کے وہ لوگ جو احسان میں ان کے متبع ہیں اللہ تعالیٰ ان سب سے خوش ہے اور یہ سب اللہ تعالیٰ سے راضی ہیں۔ ‘ یعنی یہ بعد کے لوگ ان اگلوں کے آثار حسنہ اور اوصاف جمیلہ کی اتباع کرنے والے اور انہیں نیک دعاؤں سے یاد رکھنے والے ہیں گویا ظاہر باطن ان کے تابع ہیں۔
اس دعا سے امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے کتنا پاکیزہ استدلال کیا ہے کہ رافضی کو مال فے سے امام وقت کچھ نہ دے کیونکہ وہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کرنے کی بجائے انہیں گالیاں دیتے ہیں۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”ان لوگوں کو دیکھو کس طرح قرآن کے خلاف کرتے ہیں قرآن حکم دیتا ہے کہ مہاجر و انصار کے لیے دعائیں کرو اور یہ گالیاں دیتے ہیں“، پھر یہی آیت «وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [59-الحشر:10] آپ نے تلاوت فرمائی۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
ابوداؤد میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا «وَمَا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَـكِنَّ اللَّـهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [59-الحشر:6] میں جس مال فے کا بیان ہے وہ تو خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔
اسی طرح اس کے بعد کی «مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ» ۱؎ [59-الحشر:7] والی نے عام کر دیا ہے تمام مسلمانوں کو اس میں شامل کر لیا ہے اب ایک مسلمان بھی ایسا نہیں جس کا حق اس مال میں نہ ہو سوائے تمہارے غلاموں کے، اس حدیث کی سند میں انقطاع ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2966،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں ہے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے «نَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّـهِ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ» ۱؎ [9-التوبة:60] تک پڑھ کر فرمایا ”مال زکوٰۃ کے مستحق تو یہ لوگ ہیں۔“
پھر «وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّـهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ» ۱؎ [8-الأنفال:41] والی پوری آیت کو پڑھ کر فرمایا مال غنیمت کے مستحق یہ لوگ ہیں۔
پھر یہ «مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [59-الحشر:7] پڑھ کر فرمایا ”مال فے کے مستحقین کو بیان فرماتے ہوئے اس آیت نے تمام مسلمانوں کو اس مال فے کا مستحق کر دیا ہے، سب اس کے مستحق ہیں۔ اگر میں زندہ رہا تو تم دیکھو گے کہ گاؤں گوٹھوں کے چرواہے کو بھی اس کا حصہ دوں گا جس کی پیشانی پر اس مال کے حاصل کرنے کے لیے پسینہ تک نہ آیا ہو۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:33861:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فهذان الصنفان الفاضلان الزكيَّان هم الصحابة الكرام والأئمة الأعلام، الذين حازوا من السوابق والفضائل والمناقب ما سَبَقوا به مَن بعدَهم وأدركوا به مَن قبلهم، فصاروا أعيان المؤمنين وسادات المسلمين وقادات المتَّقين، وحسب من بعدهم من الفضل أن يسيرَ خلفَهم ويأتمَّ بهُداهم، ولهذا ذكر الله من اللاحقين مَن هو مؤتمٌّ بهم [وسائر خلفهم]، فقال: {والذين جاؤوا من بعدِهم}؛ أي: من بعد المهاجرين والأنصارِ، {يقولون}: على وجه النُّصح لأنفسهم ولسائر المؤمنين: {ربَّنا اغْفِرْ لنا ولإخوانِنا الذين سَبَقونا بالإيمانِ}: وهذا دعاءٌ شاملٌ لجميع المؤمنين من السابقين من الصحابة ومَن قبلَهم ومَن بعدهم، وهذا من فضائل الإيمان؛ أنَّ المؤمنين ينتفعُ بعضُهم ببعض ويدعو بعضُهم لبعض؛ بسبب المشاركةِ في الإيمان، المقتضي لعقد الأخوَّة بين المؤمنين، التي من فروعها أن يدعوَ بعضُهم لبعض، وأن يحبَّ بعضُهم بعضاً، ولهذا ذكر الله في هذا الدعاء نفي الغلِّ عن القلب، الشامل لقليلِه وكثيرِه، الذي إذا انتفى؛ ثبت ضدُّه، وهو المحبَّة بين المؤمنين والموالاة والنصح ونحو ذلك مما هو من حقوق المؤمنين، فوصفَ الله مَن بعد الصحابة بالإيمان؛ لأنَّ قولهم: {سَبَقونا بالإيمان}: دليلٌ على المشاركة فيه ، وأنَّهم تابعون للصحابة في عقائد الإيمان وأصوله، وهم أهل السنة والجماعة، الذين لا يصدق هذا الوصف التامُّ إلاَّ عليهم، وَوَصَفَهم بالإقرار بالذُّنوب والاستغفار منها واستغفار بعضهم لبعض واجتهادهم في إزالة الغلِّ والحقدِ [عن قلوبهم] لإخوانهم المؤمنين؛ لأنَّ دعاءهم بذلك مستلزمٌ لما ذكرنا ومتضمِّنٌ لمحبَّة بعضهم بعضاً، وأنْ يحبَّ أحدُهم لأخيه ما يحبُّ لنفسه، وأن ينصحَ له حاضراً وغائباً حيًّا وميتاً.
ودلَّت الآية الكريمة على أنَّ هذا من جملة حقوق المؤمنين بعضهم لبعض. ثم ختموا دعاءهم باسمينِ كريمينِ دالَّين على كمال رحمة الله وشدَّة رأفته وإحسانه بهم، الذي من جملته: بل [من] أَجَلِّه توفيقُهم للقيام بحقوقه وحقوق عباده.
فهؤلاء الأصناف الثلاثة هم أصناف هذه الأمة، وهم المستحقُّون للفيء، الذي مصرفه راجعٌ إلى مصالح الإسلام، وهؤلاء أهله الذين هم أهلُه، جعلنا الله منهم بمنِّه وكرمه.