تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ:} وارث وہ ہے جو کسی مالک کے فوت ہونے کے بعد اس کی ملکیت کا مالک بنے۔ اصل وارث سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَيْهَا }» [مریم: ۴۰] ”بے شک ہم، ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں۔“ زکریا علیہ السلام نے اپنے علم و نبوت کا وارث عطا کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی صفت {” خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ “} کا وسیلہ پکڑا۔ قرآن و سنت میں مذکور دعاؤں میں ہر دعا کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کی صفت کا ذکر ہے، جیسا کہ ایوب علیہ السلام نے {” وَ اَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ “} کہا اور یونس علیہ السلام نے {” لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ “} کہا۔ بعض مفسرین نے اس جملہ کی یہ توجیہ فرمائی ہے کہ میں تجھ سے وارث عطا کرنے کی دعا کر رہا ہوں، مگر حقیقی وارث تو ہی ہے، اگر تو مجھے اولاد نہ بھی دے گا تب بھی میرے بعد اپنے دین کا انتظام ضرور کرے گا۔ (قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کی ثناء کی جیسے کہ اس دعا کے لائق تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو جنہیں بڑھاپے تک کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اولاد کے قابل بنا دیا۔
بعض لوگ کہتے ہیں ان کی طول زبانیں بند کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق کی کمی پوری کردی۔ لیکن الفاظ قرآن کے قریب پہلا معنی ہی ہے۔ یہ سب بزرگ نیکیوں کی طرف اللہ کی فرمانبرداری کی طرف بھاگ دوڑ کرنے والے تھے۔ اور لالچ اور ڈر سے اللہ سے دعائیں کرنے والے تھے اور سچے مومن رب کی باتیں ماننے والے اللہ کا خوف رکھنے والے تواضع انکساری اور عاجزی کرنے والے اللہ کے سامنے اپنی فروتنی ظاہر کرنے والے تھے۔
مروی ہے کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی اور اس کی پوری ثناء و صفت بیان کرتے رہنے کی اور لالچ اور خوف سے دعائیں مانگنے کی اور دعاؤں میں خشوع وخضوع کرنے کی وصیت کرتا ہوں دیکھو اللہ عزوجل نے زکریا علیہ السلام کے گھرانے کی یہی فضیلت بیان فرمائی ہے“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: واذكر عبدَنا ورسولَنا زكريَّا، منوِّهاً بذكره، ناشراً لمناقبه وفضائله التي من جملتها هذه المنقبةُ العظيمة، المتضمِّنة لنُصحه للخلق ورحمة الله إيَّاه، وأنه {نادى ربَّه ربِّ لا تَذَرْني فَرْداً}؛ أي: {قال ربِّ إنِّي وَهَنَ العظمُ منِّي واشتعلَ الرأسُ شيباً ولم أكُن بدعائِكَ ربِّ شقيًّا. وإنِّي خفتُ المواليَ من ورائي وكانتِ امرأتي عاقراً فَهَبْ لي مِن لَدُنكَ وَلِيًّا. يرِثُني ويرثُ من آل يعقوبَ واجْعَلْه ربِّ رضيًّا}: من هذه الآيات علِمْنا أنَّ قوله: {ربِّ لا تذرني فرداً}: أنَّه لما تقارب أجلُه؛ خاف أن لا يقوم أحدٌ بعده مقامَه في الدعوة إلى الله والنُّصح لعباد الله، وأن يكون في وقتِهِ فرداً ولا يُخْلِفَ من يشفَعُه ويعينُه على ما قام به. {وأنت خير الوارثين}؛ أي: خير الباقين، وخيرُ من خَلَفَني بخيرٍ، وأنت أرحمُ بعبادك منِّي، ولكنِّي أريدُ ما يطمئنُّ به قلبي، وتسكنُ له نفسي ويجري في موازيني ثوابه.