ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 89

وَ زَکَرِیَّاۤ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗ رَبِّ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۹﴾
اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو ہی سب وارثوں سے بہتر ہے۔ En
اور زکریا (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے
En
اور زکریا (علیہ السلام) کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑ، تو سب سے بہتر وارث ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 89) ➊ {وَ زَكَرِيَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ …:} یہ اس سورت میں مذکور نواں قصہ ہے، اس کی تفصیل سورۂ آل عمران (۳۹ تا ۴۱) اور سورۂ مریم (۱ تا ۱۵) میں ملاحظہ فرمائیں۔
➋ { وَ اَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ:} وارث وہ ہے جو کسی مالک کے فوت ہونے کے بعد اس کی ملکیت کا مالک بنے۔ اصل وارث سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَيْهَا [مریم: ۴۰] بے شک ہم، ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں۔ زکریا علیہ السلام نے اپنے علم و نبوت کا وارث عطا کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی صفت { خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ } کا وسیلہ پکڑا۔ قرآن و سنت میں مذکور دعاؤں میں ہر دعا کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کی صفت کا ذکر ہے، جیسا کہ ایوب علیہ السلام نے { وَ اَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ } کہا اور یونس علیہ السلام نے { لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ } کہا۔ بعض مفسرین نے اس جملہ کی یہ توجیہ فرمائی ہے کہ میں تجھ سے وارث عطا کرنے کی دعا کر رہا ہوں، مگر حقیقی وارث تو ہی ہے، اگر تو مجھے اولاد نہ بھی دے گا تب بھی میرے بعد اپنے دین کا انتظام ضرور کرے گا۔ (قرطبی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

89۔ اور زکریا کو بھی، جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا: ”اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑنا اور بہترین وارث [79] تو تو ہی ہے“
[79] حضرت زکریاؑ اور ان کا اولاد کے لئے اپنے پروردگار کو پکارنے کا ذکر پہلے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 37 اور سورۃ مریم کی ابتداء میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ وہاں سے حواشی دیکھ لئے جائیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دعا اور بڑھاپے میں اولاد ٭٭
اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے دعا کی کہ مجھے اولاد ہو جو میرے بعد نبی بنے ‘۔ سورۃ مریم میں اور سورۃ آل عمران میں یہ واقعہ تفصیل سے ہے۔ آپ علیہ السلام نے یہ دعا چھپا کر کی تھی، مجھے تنہا نہ چھوڑ یعنی بے اولاد۔
دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کی ثناء کی جیسے کہ اس دعا کے لائق تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو جنہیں بڑھاپے تک کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اولاد کے قابل بنا دیا۔
بعض لوگ کہتے ہیں ان کی طول زبانیں بند کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق کی کمی پوری کردی۔ لیکن الفاظ قرآن کے قریب پہلا معنی ہی ہے۔ یہ سب بزرگ نیکیوں کی طرف اللہ کی فرمانبرداری کی طرف بھاگ دوڑ کرنے والے تھے۔ اور لالچ اور ڈر سے اللہ سے دعائیں کرنے والے تھے اور سچے مومن رب کی باتیں ماننے والے اللہ کا خوف رکھنے والے تواضع انکساری اور عاجزی کرنے والے اللہ کے سامنے اپنی فروتنی ظاہر کرنے والے تھے۔
مروی ہے کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی اور اس کی پوری ثناء و صفت بیان کرتے رہنے کی اور لالچ اور خوف سے دعائیں مانگنے کی اور دعاؤں میں خشوع وخضوع کرنے کی وصیت کرتا ہوں دیکھو اللہ عزوجل نے زکریا علیہ السلام کے گھرانے کی یہی فضیلت بیان فرمائی ہے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہمارے بندے اور رسول زکریا علیہ السلام کو اس کی تعریف و تعظیم کے ساتھ اور ان مناقب و فضائل کا ذکر کرتے ہوئے یاد کیجیے۔ ان جملہ فضائل میں یہ عظیم منقبت بھی شامل ہے کہ انھوں نے مخلوق کے ساتھ خیرخواہی کی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہوئی۔ زکریا علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا: ﴿ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا اے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑنا۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّلَمْ اَكُ٘نْۢ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِیًّا۰۰وَاِنِّیْ خِفْتُ الْ٘مَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَؔكَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ۰۰یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖ ۗ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا (مریم:19؍4-6) اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور پڑ گئیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے سفید ہو گیا۔ اے میرے رب میں تجھ سے دعا مانگ کر کبھی نامراد نہیں رہا۔ مجھے اپنے پیچھے اپنے رشتہ داروں کے بارے میں خوف ہے اور میری بیوی بانجھ ہے تو اپنی عنایت سے مجھے ایک وارث عطا کر جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب! تو اسے ایک پسندیدہ انسان بنا۔
ان آیات کریمہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت زکریا علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ آپ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور مخلوق کے ساتھ خیرخواہی کرنے کے لیے کوئی آپ کا قائم مقام نہ ہو گا، نیز یہ کہ حضرت زکریا علیہ السلام اس وقت تنہا تھے کوئی ان کا خلف رشید نہ تھا جو دعوت میں ان کی اعانت کرتا۔
﴿ وَّاَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَ یعنی تو باقی رہنے والوں میں سب سے بہتر ہے اور بھلائی میں میرے کسی خلف رشید سے بہتر ہے اور تو اپنے بندوں کے ساتھ مجھ سے زیادہ رحم کرنے والا ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرا دل مطمئن اور نفس کو سکون حاصل ہو اور میرے لیے اس کا ثواب جاری رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: واذكر عبدَنا ورسولَنا زكريَّا، منوِّهاً بذكره، ناشراً لمناقبه وفضائله التي من جملتها هذه المنقبةُ العظيمة، المتضمِّنة لنُصحه للخلق ورحمة الله إيَّاه، وأنه {نادى ربَّه ربِّ لا تَذَرْني فَرْداً}؛ أي: {قال ربِّ إنِّي وَهَنَ العظمُ منِّي واشتعلَ الرأسُ شيباً ولم أكُن بدعائِكَ ربِّ شقيًّا. وإنِّي خفتُ المواليَ من ورائي وكانتِ امرأتي عاقراً فَهَبْ لي مِن لَدُنكَ وَلِيًّا. يرِثُني ويرثُ من آل يعقوبَ واجْعَلْه ربِّ رضيًّا}: من هذه الآيات علِمْنا أنَّ قوله: {ربِّ لا تذرني فرداً}: أنَّه لما تقارب أجلُه؛ خاف أن لا يقوم أحدٌ بعده مقامَه في الدعوة إلى الله والنُّصح لعباد الله، وأن يكون في وقتِهِ فرداً ولا يُخْلِفَ من يشفَعُه ويعينُه على ما قام به. {وأنت خير الوارثين}؛ أي: خير الباقين، وخيرُ من خَلَفَني بخيرٍ، وأنت أرحمُ بعبادك منِّي، ولكنِّي أريدُ ما يطمئنُّ به قلبي، وتسكنُ له نفسي ويجري في موازيني ثوابه.