اللہ کا ذکر کرنے کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

کتاب الذكر والدعاء

اللہ کا ذکر کرنے کی فضیلت

ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا ۔ چاہے کتنا ہو صاحب فہم و ذکاء
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی ۔ جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ﴾
”تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ میری شکر گزاری کرو اور ناشکری سے بچو۔“
(2-البقرة:152)
اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذکر کرنے کا حکم فرمایا:
‏ ﴿وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ﴾
”اور اپنے رب کی یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ، صبح اور شام اور اہل غفلت میں شمار مت ہونا۔“
(7-الأعراف:205)
مزید ارشاد فرمایا:
﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۗ فَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا ۗ وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ .‏ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلَىٰ مَا أَصَابَهُمْ وَالْمُقِيمِي الصَّلَاةِ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ.﴾
”اور ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وہ ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں۔ سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے، تم اس کے تابع فرمان ہو جاؤ، عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔ جن کے سامنے جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل تھرا جاتے ہیں، انہیں جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں، نمازوں کی حفاظت و اقامت کرنے والے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔“
(22-الحج:34،35)
”اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ خشوع و خضوع اختیار کرنے والے اللہ کے مخلص بندوں کو اپنے رب کی جانب سے اچھے انجام کی خوشخبری دے دیجیے۔ جن کی خوبیاں یہ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، تو اس کی بندگی میں تقصیر اور اس کی یاد میں غفلت کے احساس سے ان کے دل کانپ جاتے ہیں، اور جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں، تو گھبراتے نہیں اور زبان پر کلمات شکوہ نہیں لاتے، بلکہ صبر و شکیبائی سے کام لیتے ہیں، اور جو پانچوں وقت کی نمازیں مسجد میں مسلمانوں کے ساتھ تمام شروط و امکان کا لحاظ کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں۔ اور اللہ نے انہیں جو روزی دی ہے، اس میں سے اپنے اہل و عیال، فقرا مساکین اور اللہ کے بندوں پر خرچ کرتے ہیں۔“ (تيسير الرحمن: 2/956)
﴿‏ وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ ‎. قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَىٰ وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا ‎. قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا ۖ وَكَذَٰلِكَ الْيَوْمَ تُنسَىٰ.﴾
”جو شخص میرے ذکر سے روگردانی کرے گا تو بے شک اس کی معیشت تنگ ہو جاتی ہے، اور ہم اسے قیامت کے دن نابینا کر کے اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے نابینا کر کے کیوں اٹھایا؟ حالاں کہ میں تو دیکھنے والا تھا۔ اللہ فرمائے گا: اسی طرح تیرے پاس میری آیات آئی تھیں لیکن تو نے انہیں بھلا دیا تھا، اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔“
(20-طه:124 تا 126)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کا ذکر کرنے والے کی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ اور اللہ اس کے مال میں برکت نازل فرماتا ہے، اور روزِ قیامت کی رسوائی سے بھی وہ محفوظ رہے گا۔
‏ ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾
”جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہو جاتے ہیں، یاد رکھو! دل اللہ کے ذکر سے ہی مطمئن ہوتے ہیں۔“
(13-الرعد:28)
دلوں کے لائق و سزاوار بھی یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کسی اور چیز سے مطمئن نہ ہوں، کیونکہ دلوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے انس اور اس کی معرفت سے بڑھ کر کوئی چیز لذیذ اور شیریں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی مقدار کے مطابق دل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ اس قول کے مطابق یہاں ذکر سے مراد بندے کا اپنے رب کا ذکر کرنا ہے۔ مثلاً تسبیح و تکبیر و تہلیل وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کتاب اللہ ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یاد دہانی کے لیے نازل فرمائی ہے۔ تب ذکر الہی کے ذریعے سے اطمینان قلب کے معنی یہ ہوں گے کہ دل جب قرآن کے معانی اور اس کے احکام کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں تو اس پر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ قرآن کے معانی حق مبین پر دلالت کرتے ہیں۔ اور دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے۔ اور اس پر دل مطمئن ہوتے ہیں کیونکہ علم اور یقین کے بغیر دلوں کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور کتاب اللہ کامل ترین وجوہ کے ساتھ علم اور یقین کو متضمن ہے۔ کتاب اللہ کے سوا دیگر کتب علم و یقین کی طرف راجع نہیں ہوتیں۔ اس لیے دل ان پر مطمئن نہیں ہوتے، بلکہ اس کے برعکس وہ دلائل کے تعارض اور احکام کے تضاد کی بنا پر ہمیشہ قلق کا شکار رہتے ہیں۔ (تفسير السعدي: 2/1323)
ہر وقت زبان ذکر الہی سے تر رہنی چاہیے فخر اولاد آدم، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لا يزال لسانك رطبا من ذكر الله
”اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھا کرو۔“
سنن الترمذي، كتاب الدعوات، باب ماجاء في فضل الذكر، رقم: 3375۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
عن أبى موسى الأشعري رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال:مثل الذى يذكر ربه والذي لا يذكره، مثل الحي والميت
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے، اور جو یاد نہیں کرتا، زندہ اور مردہ شخص کی مثال ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب الدعوات، باب فضل ذكر الله عز وجل، رقم : 6407 ـ صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب صلاة النافلة في بيته، رقم: 779
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يقول الله تعالى: أنا عند ظن عبدي بي، وأنا معه إذا ذكرني، فإن ذكرني فى نفسه، ذكرته فى نفسي، وإن ذكرني فى ملإ، ذكرته فى ملإ خير منهم
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جیسا وہ مجھ سے گمان رکھے، اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ مجھے اپنے جی میں یاد کرتا ہے، تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ کسی مجلس میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں ایسی مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں جو اس سے بہتر ہوتی ہے۔“
صحیح بخاری ، کتاب التوحيـد، بـاب قول الله تعالى ويحذركم الله نفسه رقم : 7405 – صحيح مسلم، كتاب الذكر والدعاء، رقم: 2675 .