تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اشْكُرُوْا لِيْ:} شکر زبان سے بھی ہوتا ہے اور عمل سے بھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا» [سبا: ۱۳] ”اے داؤد کے گھر والو! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔“ عمل نعمت کے مطابق نہ ہو تو شکر بھی نہیں۔
➌ {وَ لَا تَكْفُرُوْنِ: } اس میں ہر ناشکری اور کفر شامل ہے، وہ زبان سے ہو یا عمل سے۔ زبان سے تو الحمد للہ کہنا، لیکن بیٹوں کا نام پیراں دتہ رکھنا، غیر اللہ کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھنا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان جنگ سن کر بھی سود کھائے جانا، گھر میں بے حیائی کو فروغ دیتے جانا، رشوت لے کر اسے فضل ربی قرار دینا اور ڈاڑھی منڈوا کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی حسین صورت سے بے زاری کا اظہار شکر نہیں بلکہ کفر اور ناشکری کی بدترین صورتیں ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
”اگر تم شکر کرو گے تو میں اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو (سمجھ لو) کہ میرا عذاب سخت ہے۔“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دنیا کی حالت کا یہ انقلاب بجائے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کا ایک شاہد و عدل ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت «لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [3۔ آل عمران: 164] یعنی ایسے اولوالعزم پیغمبر کی بعثت مومنوں پر اللہ کا ایک زبردست احسان ہے اس نعمت کو قدر نہ کرنے والوں کو قرآن کہتا ہے آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ» [14۔ ابراہیم: 28] کیا تو انہیں نہیں دیکھتا جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کے بدلے کفر کیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا یہاں اللہ کی نعمت سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اسی لیے اس آیت میں بھی اپنی نعمت کا ذکر فرما کر لوگوں کو اپنی یاد اور اپنے شکر کا حکم دیا کہ جس طرح میں نے احسان تم پر کیا تم بھی میرے ذکر اور میرے شکر سے غفلت نہ کرو۔
موسیٰ علیہ السلام اللہ رب العزت سے عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ تیرا شکر کس طرح کروں ارشاد ہوتا ہے مجھے یاد رکھو بھولو نہیں یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ اللہ کی یاد کرنے والے کو اللہ بھی یاد کرتا ہے اس کا شکر کرنے والے کو وہ زیادہ دیتا ہے اور ناشکرے کو عذاب کرتا ہے بزرگان سلف سے مروی ہے کہ اللہ سے پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے غفلت نہ برتی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا زانی، شرابی، چور اور قاتل نفس کو بھی یاد کرتا ہے؟ فرمایا ہاں برائی سے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یاد کرو یعنی میرے ضروری احکام بجا لاؤ میں تمہیں یاد کروں گا یعنی اپنی نعمتیں عطا فرماؤں گا، حضرت سعید بن جیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تمہیں بخش دوں گا اور اپنی رحمتیں تم پر نازل کروں گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فاذكروني أذكركم}؛ فأمر تعالى بذكره، ووعد عليه أفضل جزاء وهو ذكره؛ لمن ذكره كما قال تعالى على لسان رسوله: «من ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي، ومن ذكرني في ملأ ذكرته في ملأ خير منهم» ، وذكر الله تعالى أفضله ما تواطأ عليه القلب واللسان وهو [الذكرُ] الذي يثمر معرفة الله ومحبته وكثرة ثوابه، والذكر هو رأس الشكر فلهذا أمر به خصوصاً ثم من بعده أمر بالشكر عموماً فقال: {واشكروا لي}؛ أي: على ما أنعمت عليكم بهذه النعم ودفعت عنكم صنوف النقم، والشكر يكون بالقلب إقراراً بالنعم واعترافاً، وباللسان ذكراً وثناءً، وبالجوارح طاعةً لله وانقياداً لأمره واجتناباً لنهيه، فالشكر فيه بقاء النعمة الموجودة وزيادة في النعم المفقودة، قال تعالى: {لئن شكرتم لأزيدنكم}. وفي الإتيان بالأمر بالشكر بعد النعم الدينية من العلم وتزكية الأخلاق والتوفيق للأعمال بيان أنها أكبر النعم، بل هي النعم الحقيقية التي تدوم إذا زال غيرها، وإنه ينبغي لمن وفقوا لعلم أو عمل أن يشكروا الله على ذلك ليزيدهم من فضله وليندفع عنهم الإعجاب فيشتغلوا بالشكر، ولما كان الشكر ضده الكفر نهى عن ضده فقال: {ولا تكفرون}؛ المراد بالكفر ههنا ما يقابل الشكر، فهو كفر النعم وجحدها وعدم القيام بها.
ويحتمل أن يكون المعنى عامًّا فيكون الكفر أنواعاً كثيرة أعظمه الكفر بالله، ثم أنواع المعاصي على اختلاف أنواعها وأجناسها من الشرك فما دونه.